امریکا کا زیر زمین مقام پر معمولی نوعیت کا جوہری تجربہ

یہ تجربہ نواڈا میں بدھ کو کیا گیا جس کا مقصد سائنسی ڈیٹا حاصل کرنا تھا


Online December 08, 2012
یہ تجربہ نواڈا میں بدھ کو کیا گیا جس کا مقصد سائنسی ڈیٹا حاصل کرنا تھا فوٹو: فائل

امریکا نے کہا ہے کہ اس نے ایک زیر زمین مقام پر معمولی نوعیت کا جوہری تجربہ کیا ہے تاکہ ایٹمی دھماکے کے بغیر ہی جوہری مواد کاتجزیہ کیاجاسکے۔

محکمہ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تجربہ نواڈا میں بدھ کو کیا گیا جس کا مقصد سائنسی ڈیٹا حاصل کرنا تھا جو ملک کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ اور اثر کے بارے میں اہم معلومات کا حصہ ہے۔ نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی انتظامیہ کے سربراہ تھامس ڈی اگوسٹینو نے کہا کہ کم تشویشناک تجربات کے ذریعے ہم اپنے ذخائر کے تحفظ اور اثر کو کسی مزید زیر زمین تجربے کے بغیر یقینی بنا سکتے ہیں۔

اس قسم کا یہ اب تک 27واں تجربہ تھا۔ قبل ازیں فروری 2011ء میں بھی ایسا تجربہ کیا گیا تھا جسے بیرولو بی کا نام دیا گیا تھا۔ کم درجے کے جوہری تجربات سے جوہری دھماکا نہیں ہوتا اور ان سے یہ جانا جاسکتا ہے کہ کیمیائی دھماکے کے بعد پلوٹونیم کا رویہ کیا ہوگا۔ امریکا نے 1992ء میں زیر زمین جوہری تجربات بند کردیے تھے، اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق امریکا نے 1945ء سے اب تک 1032تجربات کیے ہیں ۔

مقبول خبریں