امریکی سفارتکارشیلا کریم ہوا کے دوش پرامن کا پیغام عام کریں گی

امریکی سفارتکارمقامی زبان میں گانے گا کردونوں ملکوں کے درمیان پل کا کام کریں گی


AFP December 08, 2012
پشاور میں اپنی منصبی ذمے داریاں نبھانے والی یہ امریکی سفارتکارمقامی زبان میں گانے گا کردونوں ملکوں کے درمیان پل کا کام کریں گی فوٹو: اے ایف پی

ایک امریکی سفارتی افسرشیلا کریم نے امریکا اور پاکستان کے درمیان خلیج پاٹنے کیلیے اچھوتا طریقہ اختیار کیا ہے۔

پشاور میں اپنی منصبی ذمے داریاں نبھانے والی یہ امریکی سفارتکارمقامی زبان میں گانے گا کردونوں ملکوں کے درمیان پل کا کام کرے گی۔ شیلا نے کہا کہ مخصوص حالات میں ایک ایسے شہر میں جہاں آپ اپنے کونسلیٹ کے گیٹ سے باہر بھی نہیں جاسکتے،ہوا کے دوش پرامن کا پیغام عام کرنا اور لوگوں کے دلوں میں اتر جاناایک سستا اور محفوظ طریقہ ہے۔

ایساکم از کم امریکیوں کے لیے جسمانی طور پر ممکن نہیں۔میں اسے موثر ترین ذرائع میں سے ایک قرار دوں گی کیونکہ موسیقی کی زبان عالمی طور پر سمجھی اور بولی جاتی ہے۔شیلا نے نہ صرف پشتو زبان سیکھی ہے بلکہ ہو اپنے انداز میں پشتو گانے تخلیق بھی کرتی ہے۔اس نے ایک گاناملالہ پر'جینے'یعنی لڑکی کے عنوان سے لکھا ہے۔گٹار، گلوکاروں اور رباب کے بل پر شیلا لڑکیوںمیں امیدپیداکرنا اور خواب جگاناچاہتی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو حوصلہ افزائی کی بہت ضرورت ہے۔اور یہی میرے گانوں کا مقصد ہے۔انھوں نے کہا کہ یہاں بالخصوص شمال مغربی دیہی علاقوں میں عورت کودوسرے درجے کا شہری سنجھا جاتا ہے۔

شیلا نے گٹار بجانااس وقت سیکھا جب وہ جنوبی افریقا میں تعینات تھی۔وہاں اس نے ایڈزاوربچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے گانے لکھے ۔'جینے' اس نے موسیقی سے وابستہ پاکستانی دوستوں کی مدد سے ریکارڈکرایا۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے میوزک جرنلسٹ شیرعلی کے مطابق کامیابی کا دارومدارگانوں کے زیادہ سے زیادہ سنے جانے پر ہے۔