ایک اور ستارہ ڈوب گیا

ڈاکٹر مظہر حیدر پارٹی کے سینئر ممبر تھے، ان کی ساری زندگی غریب عوام کی زندگی بدلنے کی جدوجہد میں گزری


Zaheer Akhter Bedari September 11, 2016
[email protected]

KARACHI: پاکستان کے 20 کروڑ عوام جن حالات سے دوچار ہیں ان کی تبدیلی کے لیے قیام پاکستان کے بعد ہی سے بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں، مزدور تنظیمیں، طلبا برادری، دانشور، ڈاکٹر، وکلا جدوجہد میں مصروف رہے ہیں۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جنھوں نے اس جابرانہ نظام کی تبدیلی کی جدوجہد میں پرتعیش زندگی کے ہر موقع کو ٹھکرادیا اور فقر و فاقے کی زندگی گزارتے رہے، ان ہی قابل احترام لوگوں میں ڈاکٹر مظہر حیدر کا شمار ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مظہر حیدر پارٹی کے سینئر ممبر تھے، ان کی ساری زندگی غریب عوام کی زندگی بدلنے کی جدوجہد میں گزری، انتہائی ملنسار انتہائی مخلص اور اپنے نظریے کے شیدائی۔ میرا تعلق ڈاکٹر مظہر حیدر سے عشروں پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ بھی بیمار ہم بھی بیمار۔ لہٰذا بات چیت اور تبادلہ خیال کا ذریعہ فون ہی رہا۔ ڈاکٹر صاحب دل کے مریض تھے ان کے دل کو متحرک رکھنے کے لیے ڈاکٹروں نے پیس میکر لگا دیا تھا۔ جب کوئی ضروری بات کرنی ہوتی تو میں ڈاکٹر مظہر کو ملاقات کی جگہ بتا دیتا اور وہ اسی دل ناتواں کے ساتھ بسوں میں دھکے کھاتے ہوئے وقت پر پہنچ جاتے تھے۔

غالباً 25 یا 26 اگست کو انجمن ترقی پسند مصنفین کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب سے گفتگو ہوئی، جس کا موضوع انجمن کے اختلافات کو دور کرنا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ گفتگو آخری گفتگو ہو گی۔ معلوم ہوا کہ 27 اگست کو ڈاکٹر مظہر کا انتقال ہو گیا اور ہماری نااہلیوں کا عالم یہ ہے کہ چھ دن بعد ہمیں پتا چلا کہ ڈاکٹر مظہر اب اس دنیا میں نہ رہے۔

ہمارا میڈیا بڑا فعال ہے، ہمارے رپورٹر بہت ایکٹیو ہیں، لیکن بدقسمتی سے میڈیا کی ترجیحات میں خاموشی سے عوام کی تقدیر بدلنے کی جدوجہد کرنے والوں کا کوئی مقام نہیں۔ ڈاکٹر مظہر حیدر کے انتقال پر کسی اخبار میں دو سطری خبر لگی نہ کسی چینل پر اس حوالے سے کوئی اطلاع نظر آئی، خاموشی سے ساری زندگی عوام کے شب و روز بدلنے کی جدوجہد کرنے والا گمنامی کی موت مر گیا۔

مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ وہ معززین جو ڈاکٹر مظہر کے بہت قریب تھے انھیں بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ میڈیا کو ان کی رحلت کی خبر ہی بھیج دیتے۔ ڈاکٹر مظہر انتہائی سادہ لوح انسان تھے، جن لوگوں نے ڈاکٹر مرحوم کی سادہ لوحی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا انھیں بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ ڈاکٹر مرحوم کے انتقال کی خبر میڈیا کو دیتے۔

اس بددیانتانہ غلطی کی وجہ سے ایک ہفتے تک بہت سارے دوستوں کو ڈاکٹر مظہر کے انتقال کی اطلاع نہ ملی۔ جہاں میں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بائیں بازو کی بے عملی اور دھڑے بندی کی وجہ سے دوستوں کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے۔ معراج محمد خان کی بیماری کے دوران بھی رابطوں کا فقدان رہا۔ میں ایک عرصے سے کوشش کر رہا تھا کہ بائیں بازو کے عمر رسیدہ رہنماؤں کی خدمات کے حوالے سے ان کی زندگی ہی میں انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام ہو۔

اس حوالے سے دوستوں کے درمیان یہ طے ہوا کہ معراج محمد خان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جائے۔ ہم نے جب اس کی اطلاع دینے کے لیے معراج محمد خان کو فون کیا تو بڑی مشکل سے معراج فون پر گفتگو کر رہے تھے، ان کی سانس اکھڑی جا رہی تھی، معراج نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، یار بیدری صاحب! آپ کی کوششوں کا بہت شکریہ لیکن میرا حال یہ ہے کہ میں بیٹھ ہی نہیں سکتا، ایسے میں، میں کسی تقریب میں کس طرح آ سکتا ہوں۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ معراج بیمار ہے لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ بات کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ یہی حال میں نے شوکت صدیقی کا دیکھا، وہ بھی ایک عرصے تک سخت بیمار رہے لیکن کسی کو ان کی حالت کا پتا نہ تھا۔ ان کے جنازے میں بھی بہت کم لوگ شریک تھے۔

ترقی پسند حلقوں میں کیا ہو رہا ہے اس کی اطلاع ہمیں ڈاکٹر مظہر حیدر مرحوم کے ایس ایم ایس سے ملتی رہتی تھی، بائیں بازو کے جمود میں ڈاکٹر مظہر کے ایس ایم ایس اس جمود کو توڑنے کا واحد ذریعہ تھے۔ ان کے آخری ایس ایم ایس میں بھی انھوں نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں شامل دوستوں کے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر مظہر ایک طویل عرصے تک انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ رہے اور اپنے دل کی حالت زار کے باوجود بسوں میں دھکے کھاتے انجمن کی ہر میٹنگ، ہر پروگرام میں شریک ہوتے رہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی ایک طویل اور درخشاں تاریخ ہے۔ 1936ء میں سجاد ظہیر کی کوششوں سے قائم ہونے والی یہ ادبی تنظیم متحدہ بھارت کے ہر علاقے میں مقبول تھی کیونکہ اس ادبی تنظیم میں متحدہ ہندوستان کے نامور ادیب اور شاعر شامل تھے۔

پچھلے کچھ عرصے سے بوجوہ اس تاریخی ادبی تنظیم میں کچھ اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، جنھیں حل کرنے میں ڈاکٹر مظہر بھی متحرک رہے۔ اس قسم کے اختلافات عموماً تنظیموں کی بے عملی سے پیدا ہوتے ہیں اور تنظیمیں دھڑوں میں بٹ جاتی ہیں۔ دھڑے بندیاں کرنا بڑا آسان کام ہے لیکن دھڑے بندیوں کو ختم کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین ایک ایسی ادبی تنظیم رہی ہے جس میں لبرل اور ترقی پسند ادیب اور شاعر شامل رہے۔ اس میں اگر سخت اصول نافذ کیے گئے تو اس میں استحکام اور وسعت نہیں آ سکتی جو دوست انجمن میں متحرک ہیں انھیں فراخ دل ہونا چاہیے تاکہ انجمن زیادہ مضبوط اور فعال ہو سکے۔ تنازعات کے باوجود ڈاکٹر مظہر حیدر کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ڈاکٹر مظہر اب ہم میں نہ رہے لیکن ان کی خدمات، ان کا خلوص، ان کی سادگی، عوام سے ان کی محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔

مقبول خبریں