امام کعبہ کا خطبہ حج اور امت مسلمہ کے مسائل
امت میں تفرقہ ڈالنے کے بجائے علماء انھیں متحد کریں، سخت مزاجی ترک کر کے خوش مزاجی سے لوگوں کو قریب لائیں
ہم گواہی دیتےہیں اللہ ایک ہے،محمدﷺاللہ کےرسول ہیں، خطبہ حج
امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے اتوار کو مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں دہشت گردی کو حرام قرار دیا گیا ہے، دہشت گرد امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دہشت گردوں نے نوجوانوں کو ورغلا کر قتل اور فساد کی راہ پر ڈال دیا ہے، زمین پر فساد پھیلانے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے، امت مسلمہ دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے متحد ہو کر مسائل کا حل تلاش کرے، دہشت گردی کو کسی بھی قوم یا دین و مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا، حکمرانوں اور مسلمانوں پر کفر کے بہتان لگانے والا ٹولہ فتنہ پرور ہے، مسلم حکمران عوام کے ساتھ انصاف کریں، اسلام کی بنیاد عدل پر قائم ہے، شام، یمن اور فلسطین کے حالات خراب ہیں، امت مسلمہ مشکل دور سے گزر رہی ہے۔
نوجوانان اسلام فتنے، شدت پسندی اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں، اسلامی میڈیا اسلام کی اصل تعلیمات پیش اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کریں، فتنہ اور معاشروں میں تقسیم کرنے والا مواد نشر نہ کریں، علماء انبیاء کے وارثین ہیں، تمام عالم اسلام کے علماء کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو تشدد سے روکیں، قوموں کو صراط مستقیم پر چلانے کے لیے علماء کرام کردار ادا کریں، امت اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھے، غیروں کی طرف نہ دیکھے۔ گمراہ کن گروہوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائے۔ عالم اسلام اپنے اندر سے فرقہ واریت کا خاتمہ کرے۔
امام کعبہ نے اپنے خطبہ حج میں اس وقت امت مسلمہ کو درپیش مسائل اور ان کا حل پیش کیا۔ ایک جانب عالم اسلام میں فرقہ واریت کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب غیرمسلم قوتیں ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلمان ملکوں میں خانہ جنگی، مختلف فتنوں، شدت پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہیں۔ عراق، شام، لیبیا، یمن، صومالیہ اور افغانستان کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ عراق اور لیبیا جو کبھی خوشحال ممالک میں شمار ہوتے تھے آج خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ شام میں ہونے والی خانہ جنگی نے اس کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ کر دیا، لاکھوں شامی مارے جا چکے یا بے گھر ہو چکے ہیں۔
عراق کا بھی یہی حال ہے۔ عرب لیگ، او آئی سی اور دیگر مسلمان تنظیمیں عالم اسلام کو متحد کرنے اور مشکلات سے نکالنے کے بجائے ان کی تباہی کا خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہیں۔ اس وقت داعش کی طرز پر بہت سی شدت پسند تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں جو مذہب کے نام پر اسلامی ممالک ہی میں انتشار پیدا کر رہی ، حیرت انگیز امر ہے کہ اسلام کا نعرہ لگانے والی یہ تنظیمیں مسلمانوں ہی کا قتل عام کر رہی ہیں۔
امام کعبہ نے بالکل صائب فرمایا کہ دہشت گردوں نے مسلمان نوجوانوں کو قتل اور فساد کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علماء سے اپیل کی کہ وہ اس موقع پر خاموش رہنے کے بجائے اپنا کردار ادا کریں، فساد پھیلانے والوں کو فوری ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ امام کعبہ کا یہ خطبہ ان علماء اور مذہبی جماعتوں کے لیے بھی چشم کشا ہے جو دہشت گردوں سے نظریاتی ہمدردی رکھتے اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔
اس نظریاتی تقسیم نے بھی مسلمانوں کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت فلسطین، کشمیر، عراق، شام اور یمن میں جو حالات ہیں افسوس ناک امر یہ ہے کہ تباہی کے ان مناظر کو دیکھتے ہوئے بھی مسلمان حکمران اور علماء اپنے اپنے حال میں مست ہیں اور اس پھیلتی ہوئی تباہی کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہے۔ مسلم دنیا قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالامال ہونے کے باوجود آج پسماندگی اور غربت کا شکار ہے۔ اس کی وجہ سائنس وٹیکنالوجی اور جدید علوم سے دوری کے علاوہ ان میں پھیلی ہوئی کرپشن اور لوٹ مار کا عنصر بھی شامل ہے۔ پانامہ لیکس سے یہ انکشافات بھی ہوئے کہ مسلمان حکمرانوں نے اپنے ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک چھپا رکھی ہے۔ جس طرح مسلم ممالک میں دہشت گردی کو روزبروز فروغ مل رہا ہے اس نے وہاں امن وامان کے مسائل پیدا کرنے کے علاوہ ان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سعودی عرب اور ترکی جیسے پرامن ملک بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ امام کعبہ نے عالم اسلام کو موجودہ مشکل حالات سے نکلنے کا راستہ بتاتے ہوئے کہا کہ مسلمان جب تک مشترکہ طور پر کوششیں نہیں کریں گے، ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے، وہ ایک جسم کی مانند ہیں، اس وقت ان میں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے، امت میں تفرقہ ڈالنے کے بجائے علماء انھیں متحد کریں، سخت مزاجی ترک کر کے خوش مزاجی سے لوگوں کو قریب لائیں۔