بھارت اورافغانستان کیساتھ آبی معاملات پر بات ہونی چاہیے
اگر پاکستان میں بہنے والے دریاؤں میں پانی نہیں ہو گا تو یہاں زراعت کیسے زندہ رہے گی اور یہاں پن بجلی کیسے پیدا ہو گی
اخباری اطلاعات کے مطابق بھارت نے دریائے چناب پر مزید تین ڈیم بنانے کے لیے اقوام متحدہ سے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیے ہیں جب کہ افغانستان دریائے کابل پر ورلڈ بینک کے سات ارب ڈالر قرضے سے بارہ ڈیم تعمیر کرے گا، اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے مابین آبی مسائل سنگین صورتحال اختیار کر رہے ہیں، اب بھارت نے پاکستان کی اجازت کے بغیر دریائے چناب پر مزید تین ڈیموں کی تعمیر کے لیے اقوام متحدہ سے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیے ہیں۔
بھارت دریائے چناب پر تین ڈیموں کی تعمیر سے دو کروڑ کیوبک فٹ پانی روک سکے گا، دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی آبی معاہدے موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے افغانستان بلا روک ٹوک دریائے قابل پر ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے بنا رہا ہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت دریائے کابل پر افغانستان میں بارہ ڈیموں کی تعمیر میں اس کی مدد کریگا اور ان بارہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے ورلڈ بینک افغانستان کو سات ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کر رہا ہے ۔ بھارت عرصے سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بگلیہار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم پر دونوں ملکوں میں قانونی جنگ بھی جاری رہی اور اس پر ہونے والے مذاکرات بھی ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔
اب بھارت اگر مقبوضہ کشمیر میں مزید تین ڈیم تعمیر کر رہا ہے تو دریائے چناب بھی دریائے راوی بن جائے گا جس میں پانی باقی نہیں ہے۔دریائے جہلم اور دریائے سندھ میں بھی پانی کم ہورہا ہے۔ ادھر افغانستان بھی دریائے کابل پر ڈیم بنانے میں مصروف ہے جس سے خیبرپختونخوا میں زرخیز اور سونا اگلنے والی زرعی زمین بنجر ہونے کے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔
حکومت پاکستان کو اس حوالے سے متحرک ایکشن لینا چاہیے۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر پاکستان میں بہنے والے دریاؤں میں پانی نہیں ہو گا تو یہاں زراعت کیسے زندہ رہے گی اور یہاں پن بجلی کیسے پیدا ہو گی۔ پاکستان کو نئے ڈیم بنانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی فورمز پر بھی پانی کا مسئلہ اٹھانا چاہیے کیونکہ اس معاملے میں تاخیر پاکستان کی معیشت کے لیے تباہی کا باعث ہو سکتی ہے۔حکومت پاکستان آبی معاملات پر بھارت اور افغانستان سے معنی خیز بات چیت آگے بڑھائے۔پانی کے معاملات ایسے ہیں جو پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہونی چاہئیں۔