یہ انصاف نہیں انتقام ہے

45 سال پہلے جب اس جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا اس وقت پاکستان ٹوٹا نہیں تھا، بلکہ اسے توڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔


Zaheer Akhter Bedari September 16, 2016
[email protected]

ہمارے ملک سمیت ساری دنیا آج جن بحرانوں، جن المیوں، جن ناانصافیوں سے گزر رہی ہے اس کی اگرچہ کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فیصلے کرنے کے اختیارات ایسے تنگ نظر متعصب اور کم ظرف لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئے ہیں جنھیں اپنے مفادات کے علاوہ اپنے اختیارات اور اقتدار کے علاوہ کسی بات کی کوئی فکر ہے نہ پرواہ۔ وہ اپنے فیصلوں کو قوم و ملک کے مفادات میں بتاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کم ظرفوں کا ہر فیصلہ ذاتی اور جماعتی مفادات میں ہوتا ہے جس کے نتیجے میں حق و انصاف پیروں کی دھول بن جاتا ہے۔ یہ کلچر اس لیے پیدا اور مضبوط ہو رہا ہے کہ اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بہت کمزور اور منتشر ہیں۔

جماعت اسلامی کی سیاست پالیسیوں اور نظریات سے پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت متفق نہیں ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ 69 سال کے دوران جتنے عام انتخابات ہوئے ان میں سے ہر انتخاب میں عوام نے نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ تقریباً تمام مذہبی جماعتوں کو مسترد کر دیا اور عموماً لبرل جماعتوں کی حمایت کی۔ اس تمہید کا مقصد مذہبی جماعتوں کی مخالفت کرنا ہے نہ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا ہے، کیونکہ جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کا احتساب عوام کرتے ہیں۔

آج ہم جس موضوع پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں وہ موضوع ہے بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے ساتھ بنگلہ دیش کی حکومت کا سلوک۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائے موت دینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کی تازہ مثال جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ایک رہنما میر قاسم کو پھانسی دینا ہے۔ میر قاسم کو جس جرم پر پھانسی دی گئی اس کا ارتکاب لگ بھگ 45 سال پہلے کیا گیا تھا۔ 45 سال پہلے جب اس جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا اس وقت پاکستان ٹوٹا نہیں تھا، بلکہ اسے توڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

1971ء میں مشرقی پاکستان میں رہنے والے مغربی پاکستانی منفی طور پر پاکستان کے حامی ہی ہو سکتے تھے، مشرقی پاکستان کے لیڈروں نے مشرقی پاکستان کی آزادی کے لیے بھارت سے مدد مانگی، جو اس دور کے متحدہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کھلی بغاوت تھی اور مشرقی پاکستان میں رہنے والے مغربی پاکستانیوں کا اس کے خلاف ردعمل فطری تھا۔ یہ صورتحال صرف مشرقی پاکستان میں نہ تھی بلکہ مغربی پاکستان میں بھی تھی یہ صورت حال سرمایہ دارانہ نظام کی متعارف کردہ قوم پرستی اور قومی سالمیت کے فلسفے کا نتیجہ تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی بقا اور استحکام کے لیے عوام کو مختلف حوالوں سے تقسیم کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، سو قوم، ملک رنگ نسل، زبان، دین دھرم کے حوالوں سے ساری دنیا میں ایک منظم طریقے سے عوام کو تقسیم کیا گیا۔

اسی نفسیات کا بنگلہ دیش پہلی مثال نہیں تھا بلکہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم بھی سرمایہ دارانہ نظام کی اسی سازش کا حصہ تھی، اس نظام کے رکھوالے بڑے احتیاط اور منظم سازش کے ذریعے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ انھیں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف مغربی پاکستان کی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے مسلسل زیادتیاں کیں، جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے خلاف ناراضی اور نفرت کی شکل میں نکلا جس کا مشاہدہ میں نے 1970ء میں اپنے دورہ مشرقی پاکستان کے دوران کیا۔

لیکن مشرقی پاکستان کے ساتھ ظلم اور ناانصافیاں عوام نے نہیں کیں مغربی پاکستان کے عوام بھی مشرقی پاکستان کے عوام کی طرح اور حکمران اشرافیہ کے ستائے ہوئے ہی تھے۔ مشرقی پاکستان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی ناانصافیاں یہاں کے حکمران طبقات نے کہیں عوام کا اس میں کوئی ہاتھ نہ تھا۔ یہ کیسا انصاف تھا کہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے مغربی پاکستان سے زیادہ آبادی والے مشرقی پاکستان پر سیاسی قبضے کے لیے ون یونٹ بنا دیا اور 1970ء کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو حکومت بنانے سے روک دیا۔ یہاں کی اشرافیہ کو آدھا ملک گنوانا گوارا تھا لیکن عوامی لیگ کو اقتدار دینا گوارا نہ تھا یہ ایک ایسی ناانصافی تھی جس کا ردعمل لازمی ہونا تھا اور وہ ردعمل ہوا۔ خواہ ہم اسے کوئی بھی نام دیں یہ ردعمل فطری تھا اور ہوا۔

اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ 45 سال پہلے کے مخصوص حالات میں جو کچھ ہوا وہ دونوں کمیونٹیوں کے ساتھ ایسا ظلم تھا جس کی ہم کتنی ہی مذمت کریں لیکن یہ سب فطری تھا۔ جہاں لاکھوں بنگالیوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا وہاں لاکھوں بہاریوں اور مغربی پاکستانیوں کو بھی لاکھوں کی تعداد میں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان ناانصافیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائیں دی جاتیں بے چارے غریب عوام کو ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرا دیا گیا۔ 1947ء میں جو قتل عام ہوا اس میں دو مختلف قومیں ملوث تھیں لیکن 1971ء میں جو قتل عام ہوا اس کے دونوں فریقوں کا تعلق ایک ہی مذہب سے ہوا۔ عوام کے دشمنوں نے کبھی غریب عوام کو زبان اور نسل کے نام پر لڑایا کبھی ملک و ملت کے نام پر کبھی دین دھرم کے نام پر اور سادہ لوح عوام اشرافیہ کی سازشوں کا شکار ہو کر ایک دوسرے کا خون پانی کی طرح بہاتے رہے۔

اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ 45 سال پہلے سرزد ہونے والے کسی جرم کی سزا 45 سال بعد کیوں دی جا رہی ہے، سزا خواہ 45 سال بعد دی جائے یا 10 یا 15 سال بعد، اس لیے غیر منصفانہ ہوتی ہے کہ اس میں عموماً انصاف کا پہلو نہیں ہوتا بلکہ انتقام کا پہلو نمایاں رہتا ہے، جس کا مقصد تعصب اور سیاسی مفادات کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے ابتدا میں وضاحت کی ہے جماعت اسلامی کو 69 سال میں عوامی حمایت حاصل نہ ہو سکی لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کے رہنماؤں پر ہونے والے وحشیانہ مظالم پر آواز نہ اٹھائیں۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے رہنماؤں پر 45 سال پہلے ہونے والے جرائم کے خلاف موت کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ یہ کام 1971-72ء میں کیوں نہ ہوا؟ آج 45 سال بعد اگر جماعت کے رہنماؤں کو پھانسیوں پر لٹکایا جا رہا ہے تو کوئی اسے انصاف نہیں کہے گا، یہ انصاف نہیں کھلا انتقام ہے، جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

مقبول خبریں