کچھ کھالوں کی تاریخ اور تحقیق

ایسا لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر وہ دور آنے والا ہے جب انسان نے ابھی سکہ ایجاد نہیں کیا تھا


Saad Ulllah Jaan Baraq September 19, 2016
[email protected]

ایسا لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر وہ دور آنے والا ہے جب انسان نے ابھی سکہ ایجاد نہیں کیا تھا اور سارا لین دین ''مال کے بدلے مال کے اصول پر ہوتا تھا اس زمانے میں کھال بھی ایک سکے کا درجہ رکھتی تھی۔

ہم نے جب ''پشتو اکیڈمی'' کادمی ادبیات اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی برکت سے اپنا ٹٹوئے تحقیق دوڑایا تو پتہ چلا کہ ان قدیم زمانوں میں بھی سب سے بڑا اور قابل ترجیح نہایت قیمتی سکہ ''کھال'' ہی ہوتا تھا آج کل تو صرف ''قربانی کی کھالوں'' کا بول بالا ہے لیکن اس قدیم زمانے میں زندہ مردہ دونوں اقسام کی کھالیں چلتی تھیں چنانچہ جن لوگوں کے پاس زیادہ جانور ہوتے تھے ان کو زیادہ دولت مند اور طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ اب دیکھئے تو ہمارے لیڈران کرام وغیرہ خود کیا ہیں وہی دو ہاتھوں پیروں والے عام انسان ہی تو ہیں کسی کھیت میں مزدوری پر لگا دیں ، ایک عام مزدور جتنا کام بھی نہیں کر پائیں گے لیکن اپنی مونچھوں کو (خیالی طور پر دل ہی دل میں) تاؤ دیتے رہتے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے اور یہ صرف اس لیے کہ ان کو اپنی ملکیت کی ''کھالوں'' کا نشہ ہے جن کو یہ لوگ کارکن وغیرہ کہتے ہیں یا دو چار سال میں ووٹ کی چکنائی ہونٹوں پر لگا دیتے ہیں اسی لیے تو مرشد نے فرمایا ہے کہ

یہ کنٹینر کہاں سے آتے ہیں
کھال کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

ویسے بھی ضروری نہیں کہ کھال اترنے پر ہی قیمتی ہو جائے جسم پر ہوتے ہوئے بھی یہ بڑے کام کی چیز ہوتی ہے، یقین نہ ہو تو کوئی بھی ٹی وی چینل لگائیں اس پر ''کھالیں ہی کھالیں'' دکھائی دیں گی نہ صرف کھالیں بلکہ ان ''کھالوں'' کو سفید نرم اور نہ جانے کیا کیا بنانے کے لیے طرح طرح کی قیمتی کریمیں اور پاوڈر ... پڑوس کے ملک میں تو اگر دیکھ جائے تو صرف ''کھالوں'' ہی کی حکمرانی ہے جسے وہاں ''توچا'' کہتے ہیں ہاے کیا کیا ''توچا'' ہیں ایک مشہور توچا، کرینہ کپور کا کہنا ہے کہ ''توچا'' ہی تو ہماری پہچان ہے اور یہ اس نے بالکل ہی سچ کہا ہے کیوں کہ یہ توچا ہی ہے جس نے اسے ایک عام اداکارہ سے کرینہ کپور سیف علی خان پٹودی بنا دیا ہے بلکہ اس کی ساس شرمیلا ٹیگور بھی اس ''توچا'' ہی کی برکت سے ''بیگم صاحب'' بن گئی تھی، توچاؤں کی مشہور اور عالمی منڈی موم بائی میں تو کھالوں یعنی ''توچاؤں'' کی قیمت ہیرے موتیوں سے بھی بڑھ کر لگتی ہے۔

ایک فلم میں ایک بار ''توچا'' بیچنے کا معاوضہ کروڑوں میں دیا جاتا ہے حالانکہ ان میں سے اکثر ''توچائیں'' کالی کلوٹی ہوتی ہیں لیکن مارکیٹ تو مارکیٹ ہوتی ہے جب چڑھ جاتی ہے تو پھر کوئی اسے نیچے نہیں لا سکتا، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سے بھی اکثر ''کھالیں'' وہاں پہنچتی ہیں بلکہ ڈبل کھالیں کہیے کہ ایک تو ان کی اپنی کھال ہوتی ہے اور دوسری بے شرمی کی کھال انھوں نے اوڑھے ہوئے ہوتی ہے، کچھ ''کھالوں'' کے نام تو اکثر میڈیا پر گردش میں رہ کر میڈیا کی عاقبت بھی سنوارتے ہیں مثلاً وہ محترمہ جو کرنسی سے متعلق منصہ شہود پر آئی تھی بلکہ ہے اگر وہ اخبارات پر دعویٰ ٹھوک دے کہ اشتہارات کے حساب اور نرخوں کے مطابق تم لوگ مجھے میرا معاوضہ ادا کر دو تو غلط نہ ہو گا اور یہ سب کچھ توچا یا کھال کی بدولت تھا ورنہ بہت ہی توچا والیاں پھرتی رہتی ہیں کوئی پوچھتا بھی نہیں، اگر اس ''توچا'' کو لے کر ہم اپنی تحقیق کا ٹٹو دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ جس طرح کھال زمانہ قدیم سے ایک دولت ہے اسی طرح ''توچا'' بھی ایک قدیم ترین سکہ ہے۔

قلوپطرہ، ہیلن آف ٹرائے، لیلیٰ، شیریں، شہزادی گل اندام، مہر انگیز، سیتا، رادھا، شکنتلا، اروشی، میگھنا، انار کلی، نور جہان، ممتاز محل، جوزیفائین وغیرہ سب کی سب ''توچائیں'' ہی تو تھیں ورنہ عورتیں تو اور بھی بہت ساری ہوتی ہیں، مطلب یہ کہ ''کھال'' کسی بھی شکل میں ہو کسی بھی جسم کے اوپر ہو اور کسی بھی دور، ملک یا مارکیٹ میں ہو ایک قیمتی چیز ہے، بہت ساری چیزیں اس دنیا میں آتی ہیں جاتی ہیں ان کی قیمت حیثیت اور اہمیت کبھی گھٹتی ہے کبھی بڑھتی ہے صرف ''کھال'' ہی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر دور میں ''سکے'' کی حیثیت حاصل رہی ہے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ قربانی کی ہے عریانی کی ہے، حیوانی ہے یا انسانی... بس کھال ہونی چاہیے۔

اس نے کہا دھوپ میں، تب دکاندار بولا ... اب تو یہ کسی کام کی نہیں ہے اور دو چار روپے بتائے لیکن وہ شخص کھال کو دوسرے دکاندار کے پاس لے گیا اور اس کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ سائے میں سکھائی ... دکاندار بولا سائے میں سکھائی ہوئی کسی کام کی تو نہیں لیکن چلو... کھال کا مالک ہوشیاری دکھاتے ہوئے تیسرے دکاندار کے پاس گیا اور اس کے پوچھنے پر بتایا کہ میں نے یوں کیا ہے کہ کبھی دھوپ میں ڈالتا اور کبھی سائے میں ... دکاندار سر ہلاتے ہوئے بولا تم نے تو کھال کو تباہ کر دیا یہ ''سرد و گرم'' ہو گئی ہے، اس کہانی سے جو خاص سبق ملتا ہے کہ اصل چیز نہ کھال ہے نہ کھال کا مالک اور نہ کھال کی نوعیت بلکہ اصل کردار کھالوں کے دکانداروں کا ہے وہ جس کھال کو جو چاہیں بنا دیں اور جو قیمت چاہے لگائے، چاہیے تو اسے کارکن قرار دے چاہے کالانعام بتائے یا کھال اور یا قربانی کی کھال... یا شہید قرار دے کر قصاص اور دیت کا مطالبہ کرے، یہ بھی ضروری نہیں کہ کھال دو پائے کی ہے یا چوپائے کی۔