شہر قائد میں کچرے اور غلاظت کے ڈھیر

تمام اضلاع میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ہر یونین کمیٹی میں صفائی کا فقدان نظر آتا ہے


Editorial September 20, 2016
۔ فوٹو: فائل

عیدالاضحی گزرنے کے ایک ہفتے بعد بھی شہر میں ذبیحہ جانوروں کے جمے ہوئے خون، فضلے اور کچرے سے اٹھنے والے تعفن و بدبو سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ شدید تر ہوتا جارہا ہے جس جانب فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات ہیں کہ عیدالاضحی کے تینوں دن متعلقہ اداروں نے صرف آلائشیں اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کام کیا، اس دوران روزمرہ کا کچرا اٹھانے کا کام مکمل طور پر معطل رہا جس کے باعث شہر کی اہم شاہراہوں سمیت گلی محلوں میں کچرے اور گندگی کے ڈھیر لگ گئے۔ اس وقت تمام اضلاع میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ہر یونین کمیٹی میں صفائی کا فقدان نظر آتا ہے۔ علاقوں میں قائم کچرا کنڈیوں سے کچرا باہر نکل پر سڑکوں پر پھیل گیا ہے۔ شہر میں صفائی کی یہ ناقص صورتحال مکمل طور پر محکمہ بلدیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی غفلت کا شاخسانہ ہے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ محکمہ بلدیات کی زیر نگرانی سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے آلائشیں اٹھانے، ٹھکانے لگانے اور صفائی مہم میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

متعلقہ افسران کا یہ عذر لنگ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ شہر میں برسوں کا کچرا ایک دن میں نہیں اٹھایا جاسکتا جو مرحلہ وار اٹھایا جارہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عید قرباں پر بڑی قربان گاہوں پر تو جراثیم کش اسپرے کا کام کیا گیا جب کہ گلی محلوں کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا جب کہ قربانی کی جگہ پر پھیلے خون پر مناسب انداز سے چونے کا چھڑکاؤ بھی نہیں کیا گیا، سونے پر سہاگا گلی محلوں میں بند گٹر لائنوں اور ابلتے سیوریج کے پانی نے غلاظت کو دوچند کردیا ہے، گلیاں اور سڑکیں گندے پانی کے جوہڑ کا منظر پیش کررہی ہیں۔

شہر قائد کے باسی اختیارات کی جنگ اور مفاداتی سیاست کے مضمرات بھگتتے ہوئے شکوہ کناں ہیں کہ جو ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیرتے اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کو نظر انداز کرکے اپنی ذمے داریوں سے پہلوتہی برتنے کے مرتکب ہورہے ہیں ان کا قبلہ کیسے درست کیا جائے گا؟