فوجی ہیڈ کوارٹرزپرحملے کی کہانی میں تضادات جذباتی فیصلہ نہیں کرسکتے بھارت

پٹرول کے ڈپو میں حادثاتی طور پر آگ لگنے کا خدشہ، حملے کا مناسب منصوبہ بندی کے بعد جواب دینگے، بھارتی وزیر وی کے سنگھ


News Agencies September 20, 2016
نئی دہلی میں راجناتھ کی زیر صدارت اجلاس، پاکستان پر الزام تراشی اور گیڈر بھبکیاں جاری، بان کی مون کی طرف سے حملے کی مذمت فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہمولا میں آرمی ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں زخمی ایک اور بھارتی فوج ہلاک ہو گیا جس کے بعد ہلاک فوجیوں کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔

بارہ مولا ڈرامے کا پردہ اختتام سے پہلے ہی چاک ہوگیا، اصل واقعات اور میڈیا کو دی گئی معلومات میں کھلا تضاد سامنے آ گیا۔ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملہ 12 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز پر کیا گیا جبکہ اصل میں حملہ 10 ڈوگرہ بٹالین کے ہیڈکوارٹرز پر ہوا جہاں سکھ فوجیوں کی اکثریت ہے اور وہ پٹرول کا بڑا ڈپو ہے۔ یہ واقعہ حادثاتی آگ لگنے سے بھی ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اکثر ہلاکتیں بھی خیمے میں آگ لگنے سے ہوئیں، خفت سے بچنے کیلیے حادثے کو حملہ بنا کر پیش کے جانے کا بھی امکان ہے۔

دریں اثنا بھارتی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اڑی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد موجود حالات میں کوئی بھی جذباتی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت حملے کا مناسب منصوبہ بندی کے بعد جواب دیگا۔ حملے کے حوالے سے نئی دہلی میں اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم ٹھنڈے دماغ اور مناسب منصوبہ بندی کے بعد نپا تلا جواب دیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیرِاعظم کے بیان کے بعد سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ فوجی اڈے پر حملے کی وجہ بننے والی خامیوں کی تحقیقات بھی ضروری ہے۔

اجلاس کے بعد بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وزیر دفاع منوہر پاریکر، وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے وزیراعظم نریندر مودی سے تبادلہ خیال بھی کیا۔ بھارتی وزیر روی شنکر پرساد نے دعویٰ کیا کہ اڑی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق اڑی حملے کے بعد طاقت کے زعم میں مبتلا بھارتی فوج نے مودی سرکار کو پاکستان کی حدود میں محدود پیمانے پر حملوں کا مشورہ دیدیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس واقعے کو انجام دینے والوں کی نشاندہی کی جائے گی اور انھیں سزا دی جائے گی۔

مقبول خبریں