سویلین حکومت کی بالادستی

ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار کہتے ہیں کہ معاملہ لندن سے متحدہ کوچلانے کا نہیں مہاجر دشمنی کا ہے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan September 21, 2016
[email protected]

BANNU: سندھ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہارالحسن کی گرفتاری، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی مداخلت، ایس ایس پی راؤ انوار کی معطلی اور ان کے احتجاج سے سندھ حکومت کی حاکمیت کے تصور پر سوالات ابھر آئے ہیں۔

ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار کہتے ہیں کہ معاملہ لندن سے متحدہ کوچلانے کا نہیں مہاجر دشمنی کا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کہتے ہیں کہ راؤ انوار نے رکن اسمبلی کی گرفتاری کرتے وقت اسپیکر سے اجازت نہیں لی تھی۔ ایک تجزیہ نگار نے لکھا کہ خواجہ اظہارالحسن پر کسی دوسری جماعت میں شمولیت کے لیے دباؤ ہے۔ یہ خبریں الیکڑانک میڈیا کی زینت بنیں تھیں کہ لیاری میں پیپلز امن کمیٹی کے دفاتر گرائے جانے کی خبریں آنے لگیں، اس سارے قضیے میں وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک موقف کے ساتھ سیاسی منظرنامے پر نظر آئیں۔ اس طرح عمران خان کو وزیراعظم پر تنقید کا موقع مل گیا، اب کراچی کے میئر ڈی جی رینجرز سے معافی کے طلبگار بھی ہوئے۔

ایم کیو ایم ملک کی ایک مختلف جماعت ہے، الطاف حسین پہلے اسلامی جمعیت طلبا میں تھے، پھر اردو بولنے والے طلبا کو متحد کرکے مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بنائی۔ اے پی ایم ایس او کو کراچی کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسلامی جمعیت طلبا کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ایم کیو ایم نے طاقت حاصل کی تو اے پی ایم ایس او کے کارکنوں نے جمعیت کے کارکنوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو سلوک ان کے ساتھ ہوا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی فوجی عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنما آفاق شاہد اور الطاف حسین کو مزار قائد پر بہاریوں کو پاکستان بلانے کے لیے احتجاج کرنے اور قومی پرچم نذرآتش کرنے کے مبینہ الزام میں ایک سال قید کی سزا دی۔

الطاف حسین اپنی رہائی کے کچھ عرصے بعد امریکا چلے گئے اور نیویارک میں ٹیکسی چلانے لگے، 1986 میں واپس آئے اور مہاجر قومی موومنٹ بنائی۔ نشتر پارک میں ایک بڑا جلسہ کر کے صحافیوں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیرت زدہ کردیا۔ مہاجر قومی موومنٹ نے انتخابی کامیابی حاصل کرنا شروع کی، جلد ہی کراچی، حیدرآباد کے بلدیاتی اداروں اور قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات جیت لیے۔ ایم کیو ایم کی مقبولیت کے ساتھ اس کے دفاتر ٹارچر سیل میں تبدیل ہوئے۔ 1988 میں پیپلز پارٹی سے اتحاد کر کے حکومت میں شامل ہوئے مگر اس کے جنگجو پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نشانہ بناتے رہے۔ 1990 میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد ختم کرکے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بن گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ کی دانش شامل تھی۔

ایم کیو ایم کے مضبوط ہونے سے کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات ختم ہوگئے۔ 80 کی دہائی میں کراچی سنی شیعہ جھگڑوں کا مرکز رہا تھا۔ 90 کے انتخابات میں ایم کیو ایم سندھ میں پیپلز پارٹی کے منحرف جام صادق علی کی حکومت کا حصہ بن گئی۔ اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز نے سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کیا۔ کراچی میں یہ آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف ہوا۔ اس وقت کے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ بریگیڈیئر امتیاز نے اس آپریشن میں ایم کیو ایم والوں کی مدد کی، اس طرح یہ آپریشن بے اثر رہا۔ اس سے پہلے الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا تھا پھر سندھ کے وزیراعلیٰ جام صادق علی کے مشورے پر برطانیہ چلے گئے اور اب تک وہاں آباد ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف 90 کے آپریشن کے حق میں نہیں تھے، اس آپریشن کے نتیجے میں ایم کیو ایم حقیقی قائم ہوئی۔ ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم طارق اپنے گھر میں رات کے وقت گولیوں کا نشانہ بنے۔ وہ الطاف حسین سے علیحدگی کا فیصلہ کرچکے تھے۔ ایم کیو ایم حقیقی اور ایم کیو ایم کے جنگجوؤں میں ایک ایسی لڑائی شروع ہوئی جو 2014 میں اس وقت ختم ہوئی جب کراچی آپریشن شروع ہوا۔ اس لڑائی میں کتنے کارکن مارے گئے اس کا تعین نہیں ہوسکا۔

ایم کیو ایم نے کراچی کے بلدیاتی اداروں کی کمان سنبھالی تو کراچی میں بلدیاتی کام شروع ہوئے، بڑے بڑے اوور ہیڈ برج اور انڈر پاس تعمیر ہوئے، جس کو دیکھ کر غیر ملکی صحافی کراچی کا موازنہ دنیا کے بڑے شہروں سے کرنے لگے۔ ایم کیو ایم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بنی تو کراچی اور حیدرآباد کے نوجوانوں کو ملازمتیں ملنے لگیں۔ ایم کیو ایم کا ملازمتیں دینے کا طریقہ دوسری جماعتوں سے مختلف تھا۔ ایم کیو ایم اپنے کارکنوں، حامیوں اور ان کی سفارش پر ملازمتیں دلواتی جس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی ان لوگوں کو بلایا جاتا۔ پھر ایم کیو ایم نے بیورو کریسی میں موجود اردو بولنے والے افسروں کو تحفظ فراہم کر نا شروع کیا۔

یہ تحفظ قانونی طور پر بھی فراہم کیا جاتا اور غیر قانونی طور پر بھی ایم کیو ایم نے سندھیوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ کالا باغ ڈیم کے خلاف احتجاج اور سندھ کے مالی حقوق کے لیے ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی صف اول میں شامل رہے۔ علی احمد بروہی جیسے سندھی دانشور ایم کیو ایم کے نظریات سے متاثر ہوئے۔ ایم کیو ایم نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اردو بولنے والوں کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے والے کارکنوں کو بھی شامل کیا۔ ایم کیو ایم کے سب سے مضبوط گڑھ کراچی ڈسٹرکٹ سینٹرل سے دو سندھی امیدوار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

بنیادی طور پر ایم کیو ایم کا ڈھانچہ ایک بند سیاسی جماعت کا ڈھانچہ تھا، ایم کیو ایم میں عموماً سیاسی فیصلے رابطہ کمیٹی کرتی تھی اور قائد اِن فیصلوں کی توثیق کرتے یا ایم کیو ایم کے قائد کے فیصلوں کی رابطہ کمیٹی توثیق کرتی، مگر ایم کیو ایم کے بارے میں شایع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک جدوجہد کمیٹی عسکری فیصلے کرتی، قائد رابطہ کمیٹی اور جدوجہد کمیٹی کے اراکین نامزد کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگجو نوجوان جدوجہد کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کرتے تھے اور کراچی میں ہونے والے آپریشن نے امکانی طور پر اس جدوجہد کمیٹی کو مسمار کردیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ملیر کے ایس ایس پی راؤ انوار نے ایک دفعہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم قیادت پر را سے مدد کا الزام لگاتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت اب کراچی کو بند کرکے دکھائے۔

اس متنازع پریس کانفرنس کے بعد راؤ انوار معطل ہوگئے مگر چند دنوں بعد وہ بحال بھی ہوگئے تھے۔ کراچی میں ہونے والے آپریشن میں جہاں جنگجو ہلاک ہوئے وہاں عسکری فورس کی مالیاتی لائن بھی بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کا لندن سیکریٹریٹ بند ہوا اور کراچی میں اس کے کئی ذیلی ادارے بند ہونے کے قریب ہیں۔ ایم کیو ایم نے اس دفعہ عیدالاضحی کے موقع پر کھالیں جمع نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا زیادہ فائدہ مدرسوں کو ہوا، جماعت اسلامی کو زیادہ کھالیں ملیں، جماعت الدعوۃ نے بہت زیادہ کھالیں حاصل کیں، رفاہی اداروں کو کم کھالیں ملیں۔ کھالیں جمع کرنے والے مدرسوں کا تعلق کن تنظیموں سے ہے اس کا علم خفیہ ایجنسیوں کو تو ضرور ہوگا۔

ایم کیو ایم کی سرگرمیاں تقریباً بند ہیں، اس کے بیشتر دفاتر ڈھا دیے گئے ہیں، کارکنوں کی اکثریت گرفتار ہے یا پولیس کے چھاپوں سے چھپی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم کے میئر وسیم اختر اپنا معافی نامہ میڈیا کے سامنے ڈی جی رینجرز کو پیش کرچکے ہیں۔ اب خواجہ اظہارالحسن کے گھر پر چھاپے، ان کی گرفتاری کے طریقہ کار سے منفی تاثر ابھر رہا ہے۔ کراچی کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہوگا۔ ایک سینئر تجزیہ نگار کا یہ نقطہ قابل غور ہے کہ عام آدمی موجودہ سیاسی نظام سے دور ہورہا ہے۔

عام آدمی کی مایوسی سیاسی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ عمران خان کو اظہارالحسن کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔آپریشن ضرب عضب نے کراچی میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں مگر اس کامیابی کو مستحکم کرنے کے لیے شہر کے منتخب اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کا کراچی کے بارے میں تبصرہ حقائق کو آشکار کرتا ہے۔ اس صورتحال میں ایم کیو ایم کو آزادانہ سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس سارے جھگڑے میں اچھی خبر یہ ہے کہ وزیراعظم اور سندھ کے وزیراعلی سویلین حکومت کی بالادستی پر متفق ہیں۔