متحدہ پاکستان… نشاۃ ثانیہ کا عندیہ
متحدہ قومی موومنٹ کے اس اقدام کے بعد کراچی اور لندن کے مابین سیاسی و تنظیمی کشمکش اور بیانات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے
لاہور/
KARACHI:
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بعض اہم فیصلوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت لندن میں مقیم ندیم نصرت سمیت 4 رہنماؤں کو رابطہ کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ فیصلہ متحدہ کے تاریخی و ارتقائی نشیب وفراز کے حوالے سے سیاسی حلقوں اور متحدہ کے کارکنوں اور خیر خواہوں کے لیے آزمائش و امتحان کا سامان لیے ہوئے ہے تاہم ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہوتا ہے اور اسی سے کسی جماعت کی سیاسی نشو ونما ، سیاسی اقدار سے وابستگی اور مروجہ جمہوری روایات کی ترجمانی ہوتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ متحدہ کے داخلی تنظیمی فشار پر منگل کی رات ایم کیوایم کے عارضی مرکزپرایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستارکی سربراہی میں جن امور پر بحث و مباحثہ ہوا وہ اس امر کا غماز ہے کہ متحدہ میں بھی نشاۃ ثانیہ کا ظہور ہوا ہے جو مثبت پیش قدمی ہے اور قطع نظر اس استدلال اور قیاس آرائیوں کے کہ ''تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو'' متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں پیدا شدہ امتحان میں سرخرو ہوکر نکلنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی ابھی ضرورت ہے کیونکہ لندن سے جاری بیان میں ایم کیو ایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے کہا ہے کہ متحدہ قائد نے ہی مہاجروںکوشناخت دی لہٰذا کسی قسم کا مائنس الطاف حسین فارمولا قبول نہیں ، بانی کے بغیر متحدہ کچھ نہیں، الطاف حسین اپنی ذات میں ایم کیوایم ہیں۔
تاہم ایم کیو ایم پاکستان اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کرچکی ہے ۔ اجلاس میں رابطہ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ایم کیوایم پاکستان کاکوئی بھی رکن یا ذمے دارپارٹی کے آئین، منشوراور23 اگست2016کودی جانے والی پالیسی گائیڈلائن کے خلاف اپنے کسی بھی قول وفعل سے ملکی سالمیت واستحکام کے خلاف رجحانات رکھنے کا حامل پایا گیا تواسے فوری طور پر پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیا جائے گا۔ رابطہ کمیٹی پاکستان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے حوالے سے ایم کیوایم کے آئین میں مطلوبہ ترامیم کی بھی منظوری دیدی گئی، قبل ازیں ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)کی رابطہ کمیٹی22 اگست کے واقعے کے بعد متفقہ طور پرلندن سے اظہارلاتعلقی کرچکی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے اس اقدام کے بعد کراچی اور لندن کے مابین سیاسی و تنظیمی کشمکش اور بیانات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے تاہم ملکی سلامتی کی قیمت پر نہیں، سیاسی دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ مینڈیٹ کی حامل متحدہ پاکستان کو سیاسی فیئر پلے کے لیے اسپیس ملے، جرائم اور سیاست کے گٹھ جوڑ سے ہونے والے نقصان سے سب ہی واقف ہیں اس لیے صرف متحدہ نہیں ساری سیاسی جماعتیں جمہوری طرز عمل اختیار کریں اسی میں سب کا بھلا ہے۔