جمہوریت کی جنگ اور شاہ صاحب
ایک عرصے بعد ایک بڑی اچھی بلکہ امید افزا، حوصلہ افزا اور روح افزا خبر سنی ہے
ایک عرصے بعد ایک بڑی اچھی بلکہ امید افزا، حوصلہ افزا اور روح افزا خبر سنی ہے، خبر نہیں بیان ہے لیکن اپنے ہاں بیان ہی خبر ہوتے ہیں اور خبر ہی بیان ہوتی ہے، یہ بیان جناب خورشید شاہ کا ہے جن کا تعلق اپوزیشن اور پیپلز پارٹی دونوں سے ہے، غالباً کسی نے پوچھا ہو گا کہ شاہ صاحب آج کل آپ کیا کر رہے ہیں یا شاید یہ پوچھا ہو کہ کیا ''لڑ'' رہے ہیں ۔ تو انھوں نے جواب میں کہا ہے کہ آج کل ہم جمہوریت کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، اصولی طور پر تو اس خبر یا بیان میں لفظ ''جنگ'' پر زور دینا چاہیے لیکن اس کی ہمیں چنداں فکر نہیں ہے کیوں کہ سیاست کی جنگ چیونٹیوں کی جنگ ہوتی ہے بلکہ
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
غالب کا چونکہ پیشہ آباء سو پشت سے سپہ گری تھا اس لیے اسے حیرت تھی کہ بغیر تلوار کے بھی جنگ ہو سکتی ہے لیکن یہ صرف نظر کا دھوکا ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ تلوار ہاتھ میں ہو ... آنکھوں میں بھی تیر و تفنگ ہو سکتے ہیں اور منہ میں بھی تلوار ہو سکتی ہے، اس لیے تو آج کی ساری جنگیں اس منہ کی تلوار سے لڑی جاتی ہیں جس پر کوئی بھی حیرت نہیں ہوتی۔ اپنے عمران خان کو دیکھیے کتنے عرصے سے لڑ رہے ہیں کشتوں کے پشتے بلکہ دھرنے لگا چکے ہیں لیکن کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہا ہے، جیسے جنگ نہیں کوئی کھیل ہو ۔
یہاں پر ایک مقولہ دم ہلا رہا ہے جو قطعی غیر متعلق ہے لیکن جنگ اور کھیل دونوں سے تعلق رکھتا ہے اس لیے برداشت کر لیجیے کہ کسی بزرگ نے جو کچھ زیادہ دانا و دانشور نہیں ہے کیوں کہ ہم اسے اچھی طرح جانتے ہیں کیوں کہ آئینے میں ہمیشہ ان سے ملاقات رہتی ہے، اس بزرگ کا قول ہے کہ پاکستانی کھیل کو جنگ سمجھ کر لڑتے ہیں اور جنگ کو کھیل سمجھ کر کھیلتے ہیں،چنانچہ عمران خان جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ اصل میں کھیل ہی ہے اور کھیل کو تماشائی کھیل سمجھ کر دیکھتے ہیں چاہے کھلاڑی اسے جنگ کی طرح کیوں نہ لڑیں، اس لیے جناب خورشید شاہ کے بیان میں جنگ سے ہمیں ایک اور لفظ نے چونکا دیا ہے، اور یہ لفظ ہے ''بقاء'' اور بقاء بھی کچھ ایسی ویسی نہیں جمہوریت کی بقاء ... جو بہت بڑی بقاء ہے اتنی بڑی بقاء کہ بقاء بھی اس کے سامنے فنا نظر آئے، مطلب یہ کہ جنگ سے زیادہ ''بقاء'' نے ہمیں متاثر کیا
منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
''بقاء'' کے لفظ میں اصل چیز وہ امید ہے جسے ہم چھوڑ چکے تھے لیکن جناب خورشید شاہ کے بیان سے پتہ چلا کہ جمہوریت ابھی ''باقی'' بھی ہے جو قطعی خلاف توقع بات ہے۔ ہم تو کب کا یقین کر چکے تھے کہ جمہوریت نام کی چیز مکمل طور پر تجہیز و تکفین اور کریا کرم کے مراحل سے گزر کر ''فنا'' ہو چکی ہے لیکن شاہ صاحب بتا رہے ہیں کہ ابھی ''بقاء'' باقی ہے جس کی وہ جنگ لڑ رہے ہیں، ظاہر ہے کہ شاہ صاحب ثقہ آدمی ہیں جب وہ کہہ رہے کہ بقاء ابھی فنا کے گھاٹ نہیں اتری ہے تو یقین کرنا ہی پڑے گا
ابھی اک پرتوئے نقش خیال یار باقی ہے
دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
شاہ صاحب کے بیان سے ہمارے دل افسردہ میں بھی امید کی ایک پرتو جاگ پڑی ہے ورنہ ہم تو سمجھے تھے کہ جمہوریت کو خاندانی سیاست کی قربان گاہ پر کب کا قربان کیا جا چکا ہے اور ہم کو اب اس کا کلمہ نہیں نوحہ پڑھنا چاہیے کہ حق مغفرت کرے عجب آزاد خاتون تھی، اس امید کے جاگنے پر اور کچھ نہیں تو کم از کم دل کو تو بہلا سکیں گے
بھیگ جاتی ہیں اس امید میں آنکھیں ہر رات
شاید اس رات وہ ''مہتاب'' لب جو آئے
لیکن ایک ڈاؤٹ ہے، مان لیا کہ جمہوریت میں اب کچھ جان باقی ہے لیکن شاہ صاحب اکیلے یہ بقاء کی جنگ لڑ پائیں گے؟ کیوں کہ دوسری طرف کم از کم ایک ہزار ایک سو ایک دشمن ہیں جو خاندانی سیاست کا علم ہاتھ میں لیے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ موجود ہیں بلکہ اب بھی ان کی ''تلواروں'' سے خون ٹپک رہا ہے اور دوسری طرف اکیلے شاہ صاحب وہ بھی نہتے، صرف منہ کا تلوار لیے ہوئے، ان کے پیچھے بے چاری لہولہان زخم زخم اور گھائل جمہوریت جو بمشکل کھڑی ہو پا رہی ایسے میں ڈر ہے کہ کہیں شاہ صاحب بھی ''تلوار'' کی زد میں آئیں اور جمہوریت کے ساتھ ہی ڈھیر ہو جائیں
شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی مجھے یہ خو
جہاں ''تلوار'' کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
بہرحال اگر شاہ صاحب جمہوریت اور اس کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ بڑی اچھی بات ہے کم از کم یہ بات تو ریکارڈ پر آجائے گی کہ جمہوریت کی بقاء کے لیے کسی نے جنگ لڑی تھی، ورنہ انجام کا اندازہ پہلے ہی سے معلوم ہے۔ جب اتنی ہٹی کٹی صحت مند جمہوریت کو خاندانی تلواروں نے گھائل کر کے گور کنارے پہنچا دیا ہے تو اب تو وہ اتنی کمزور ہے اتنا خون اس کا بہہ چکا ہے کہ بے چاری بغیر سہارے کے کھڑی بھی نہیں ہو پا رہی ہے بلکہ ہر چند برس کے بعد اسے الیکشن کے نام پر عوام کا خون بھی چڑھایا جاتا ہے ورنہ کب کی شہید ہو چکی ہوتی
شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح
کیے ہیں عیب تو ہم نے کسی ہنر کی طرح
دراصل جمہوریت کے ساتھ وہ ہوا ہے جو کسی دوسرے ملک دوسری آب و ہوا کے پودے یا درخت یا فصل کے ساتھ کسی اجنبی ملک اور اجنبی آب و ہوا میں ہوتا ہے پہلے تو اس کا اس اجنبی سرزمین اور اجنبی آب و ہوا میں سرسبز ہونا ہی مشکل ہوتا ہے اور اگر کوئی بہت ہی محنت اور حفاظتی انتظامات کر کے اسے سرسبز بھی کر دے تو اس کا بار آور ہونا مشکل ہوتا ہے۔ ہم نے خود یہ تجربہ کیا ہوا ہے کراچی سے ہم نے ناریل کا پودا منگوایا گرمی کا موسم تھا اس لیے لگ تو گیا لیکن کچھ خفا خفا سا تھا، سردی کا موسم آیا تو ہم نے اسے پلاسٹک میں خوب محفوظ کیا اس طرح دو چار ہفتے توجہ سے حفاظت کرتے رہے پودا بھی زندہ رہا لیکن بڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا جیسا تھا ویسا ہی رہا ... اور پھر ایک دن معمولی سردی لگنے کی وجہ سے شہید ہو گیا۔
مارا دیار غیر میں مجھ کو وطن سے دور
رکھ لی میرے خدا نے میری بے کسی کی شرم
غازی امان اللہ خان نے افغانستان میں نئی ماڈرن کا پودا لگانا چاہا پودا تو نہیں لگا لیکن وہ خود اپنی سرزمین سے اکھڑ گئے۔ اسی طرح نور محمد ترکی نے افغانستان کے کٹر قبائلی اور ملائیت سے بھرپور ملک میں سوشلزم کا پودا لگانا چاہا تھا جو خود تو نہ پنپ سکا لیکن افغانستان کی سرزمین کو ابھی تک خون سے آبپاش کیے ہوئے ہے اور اپنے ہاں جمہوریت؟ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں شہید ہونے والی میں ... لیکن خاندانی تلواروں کے سامنے اس کی کوئی خوبی بھی کام نہیں آئی
جز ''مرگ'' اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
آخر ایسی سرزمین اور آب و ہوا میں یہ اجنبی پودا سرسبز بھی کیسے ہوتا کہ اوپر سے نیچے تک خاندانی تلواریں ہی تلواریں تھیں۔ اوپر پارٹیوں کے خاندانی تسلسل کو تو چھوڑیئے نیچے گاؤں محلے تک خاندانی اور وراثتی تلواریں چلتی رہتی ہیں اور کسی اجنبی کی مجال ہے جو ان تیز اور دو دھاری تلواروں سے بچ کر دکھائے
موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
ہر زدہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
ہمیں وثوق سے پتہ نہیں کہ جناب خورشید شاہ صاحب جمہوریت کی بقاء کے لیے یہ جنگ کہاں اور کس طرح لڑ رہے ہیں یا لڑنے والے ہیں لیکن اب ان سے ہمیں کچھ انسیت سی ہو گئی ہے کیوں کہ ان ہی کے بیان سے پتہ چلا ہے کہ جس جمہوریت کو ہم مرحوم سمجھ چکے تھے اس میں ابھی تک کچھ ''بقاء'' کا بقایا باقی ہے جس کے لیے وہ جنگ لڑ رہے ہیں یا لڑیں گے۔ تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کی کچھ نہ کچھ مدد کریں اور کچھ تو ہم نہیں کر پائیں گے کیوں کہ خاندانی تلواریں بڑی تیز ہوتی ہیں جب چلنے پر آتی ہیں تو اپنے ہی خاندان پر بھی چل جاتی ہیں لیکن ان کو نیک مشورے تو دے سکتے ہیں، اور ہمارا یہ نیک مشورہ ہے کہ ذرا ادھر ادھر دیکھیے کہیں اس جنگ میں ''عزت سادات'' ہی نہ چلی جائے اور کہیں وہ خود ہی کسی ''شمشیر دو شمشیرہ'' کا شکار نہ ہو جائیں۔