محرم الحرام کے موقعے پر سیکیورٹی انتظامات
اشتعال انگیزی سے پرہیز کرتے ہوئے نواسہ رسول ؐکے پیغام امن، یکجہتی اور بھائی چارے کو عوام تک پہنچایا جائے
KARACHI:
ماہ محرم کی آمد آمد ہے، اس ماہ کو واقعہ کربلا کے حوالے سے انتہائی عقیدت واحترام سے منایا جاتا ہے، وہیں کچھ شرپسند عناصر امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں عناصر شامل ہیں ۔
اسی پس منظر میں پنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران فوج ورینجرز طلب کرنے کی منظوری دیدی ہے،21 انتہائی حساس اضلاع میں فوج اور رینجرزکی 62کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، ایسے اضلاع جہاں پر مکمل طور پر امن اورسیکیورٹی بہتر ہے وہاں فوج ورینجرزکو تعینات نہیں کیا جائے گا، بلاشبہ یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے ،کیونکہ امن وامان برقرار رکھنا اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا صوبائی حکومت کا اولین فرض ہے، لیکن ہمیں عارضی بنیادوں پر نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ملک سے فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے خلوص نیت سے کام کرنا ہوگا اورایسے انتہاپسندگروہوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہوگا جو ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان کے جو نکات ترتیب دیے گئے تھے ان پر تاحال حقیقی معنوں پر عملدرآمد نہیں ہواہے،ایک دوسری خبرکے مطابق پنجاب کی وزارت داخلہ نے صوبے بھر کے 36اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اضلاع میں قائم مدارس کی چیکنگ اورکوائف جمع کرنے کا کام محرم الحرام سے قبل مکمل کرلیں۔
مدارس کی نگرانی بھی ایک اچھا اقدام ہے، بشرطیکہ اس سے کسی ایک مکتبہ فکر کے خلاف جانبدارانہ کارروائی کا تاثر نہ ابھرے ۔اگر پولیس اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرتی تو پنجاب میں محرم الحرام کے دوران رینجرزاورفوج کو طلب کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی۔ محرم الحرام سے قبل ہی تمام اضلاع میں مذہبی انتہا پسندوں اوردہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن کیا جائے ، بلکہ ان عناصرکے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں کی جائیں ۔ محرم کے احترام کا تقاضہ یہ ہے کہ مختلف مکتبہ فکر کے علمائے کرام مشترکہ امن کمیٹیاں قائم کریں ، ایک دوسرے کے عقائد ونظریات کا احترام کیا جائے ، اشتعال انگیزی سے پرہیز کرتے ہوئے نواسہ رسول ؐکے پیغام امن، یکجہتی اور بھائی چارے کو عوام تک پہنچایا جائے۔