عمران خان سے اپوزیشن کی شکایات

عمران خان کی باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بامعنی تبدیلی کے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا


Zaheer Akhter Bedari September 21, 2016
[email protected]

کرپشن کے خلاف عمران خان کی تحریک اورطاہر القادری کی ماڈل ٹاؤن قتل کے خلاف قصاص تحریک کے آغاز سے یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ ان تحریکوں کا آخری نتیجہ 'اسٹیٹس کو' کی تبدیلی کی شکل میں نکلے گا لیکن ''اے بسا آرزوکہ خاک شدہ'' کا معاملہ ہوگیا۔ اس ملک کے 20 کروڑ عوام 69 سالوں سے جس غربت، افلاس، بھوک، بیماری، بے روزگاری کی آگ میں جل رہے ہیں، اس سے نجات نہ مسلم لیگ ن کے جانے سے مل سکتی ہے نہ عمران خان کے آنے سے کیونکہ چہروں کی تبدیلی کا یہ تماشا عوام 69 سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔

جس کا کوئی فائدہ نہیں ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ''بڑے خلوص'' سے بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ ''نظام'' کو چلنے دو۔ اسے نہ چھیڑوکیونکہ اس نظام کی بھینس کے دودھ سے ہی ان سیاستدانوں کی عیش وعشرت کی زندگی جڑی ہوئی ہے۔ جمہوریت کے ان عاشقین کو ڈر لگا رہتا ہے کہ اگرکوئی تحریک قابو سے باہر ہوگئی تو ''میرے عزیز ہم وطنو!'' کی وہ آواز آجائے گی جس سے اہل سیاست سخت خوفزدہ رہتے ہیں۔کیونکہ اس آواز سے ان کا کھایا پیا سب نکلنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

عمران خان ایک دبنگ آدمی ہے وہ چاہتا ہے کہ 69 سالوں سے جاری اسی کرپٹ نظام میں کوئی تبدیلی آئے لیکن اس تبدیلی کے لیے اس پرامن احتجاج کی لکیرکو پارکرنا پڑے گا جو جمہوریت کے شیدائیوں نے کھینچ رکھی ہے۔ عمران خان کی باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بامعنی تبدیلی کے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا لیکن سیاسی اہلکاروں کی اکثریت عمران خان کی سیاست کو خطرے کی گھنٹی سمجھتی ہے۔ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں جوجمہوریت رائج ہے اس میں عوامی آرا اور عوامی مسائل کے پرامن حل کے راستے موجود ہیں ، جہاں کے جمہوری نظام میں عوام کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس لیے وہاں کے اہل سیاست اورعوام اس جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ان ملکوں کے قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندے جاسکتے ہیں۔

ہماری 69 سالہ جمہوریت دراصل خاندانی حکمرانی، خاندانی قیادت کا ایک ایسا شکنجہ ہے جس میں 20 کروڑ عوام 69 سالوں سے جکڑے ہوئے ہیں۔ اس ملک کے عوام جمہوریت دشمن ہیں نہ اہل دانش نہ اہل قلم لیکن جس خاندانی نظام کو جمہوریت کہا جا رہا ہے اسے نہ عوام مانتے ہیں نہ خواص۔ اس 69 سالہ جمہوریت میں عوام ایسی تبدیلی چاہتے ہیں جس میں قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندے پہنچ سکیں۔

اس قسم کی تبدیلی وہ لوگ کیسے لاسکتے ہیں جو 69 سالوں کے دوران ملک میں بلدیاتی نظام تک قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوسکے کیونکہ بلدیاتی نظام کے آنے سے جمہوریت کے سرپرستوں کے اختیارات میں کمی کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے جمہوری بادشاہ اپنے شاہانہ اختیارات میں کمی کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔عمران خان کی ذاتی خواہشوں میں اقتدار کا حصول شامل ہوسکتا ہے لیکن وہ اس منزل تک پہنچنے سے پہلے اس نامعقول سسٹم میں کچھ مثبت تبدیلیوں کا راستہ ہموارکرنا چاہتا ہے۔

جس سے اس سیٹ اپ کا متاثر ہونا ناگزیر ہے جسے جمہوریت کا نقاب اوڑھا کر چلایا جا رہا ہے۔ اور جن سیاستدانوں کے مفادات اس فراڈ جمہوریت اور اس کے سرپرستوں سے جڑے ہوئے ہیں وہ اس لولی لنگڑی جمہوریت میں کوئی ایسی تبدیلی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو ان کے حلوے مانڈے کے لیے خطرہ بن جائے۔

پانامہ لیکس کے انکشافات نے ہمارے سسٹم کو خطرے میں ڈال دیا ہے کیونکہ سیکڑوں آف شور کمپنیوں کے مالکان کی فہرست میں ہمارے حکمرانوں کی اولاد کے نام بھی شامل ہیں اور اس انکشاف کے ساتھ ساتھ یہ انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں کہ ہماری بااختیار اشرافیہ کے لندن میں اربوں مالیت کے فلیٹس اور دبئی میں اربوں مالیت کی جائیدادیں موجود ہیں۔ کیا یہ سب محنت کی کمائی سے بنائے گئے ہیں یا عوام کے خون اور پسینے کی کمائی سے؟

عمران خان سمیت اس ملک کے 20 کروڑ عوام بس یہی چاہتے ہیں کہ آف شور کمپنیوں اور لندن اور دبئی کی مبینہ جائیدادوں کی تحقیق ہو اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ کیا یہ مطالبہ غلط ہے؟ اگر غلط نہیں تو پھر اس مسئلے کی تحقیق میں رکاوٹیں کیوں ڈالی جا رہی ہیں یہ کس قدرافسوس کی بات ہے کہ چھ مہینے سے اس حوالے سے کی جانے والی ممکنہ تحقیق کے ٹی او آرز پر ہی ابھی تک حکومت اوراپوزیشن میں اتفاق نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ حکومت ایسے ٹی او آرز تشکیل دینا چاہتی ہے جن میں حکمران فیملی کے لوگوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکمران فیملی کے ممبران پانامہ لیکس میں ملوث ہیں تو تحقیق کے شعلوں سے انھیں کس طرح بچایا جاسکتا ہے؟ علامہ طاہرالقادری 2014 کے ماڈل ٹاؤن خون خرابے میں ملوث افراد کے خلاف قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یہ مطالبہ جائز مطالبہ ہے ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اسلامی عدل کے مطابق قاتلوں سے قصاص لیا جانا چاہیے لیکن قصاص محض کسی کے کہنے سے کسی کے خلاف نہیں لیا جاتا بلکہ اس الزام کی باضابطہ تحقیق ہوتی ہے اورجرم ثابت ہو تو قصاص کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

ابھی ان مرحلوں سے گزرے بغیر اس کی مخالفت سے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ قصاص کے مطالبے سے وہ لوگ خوفزدہ ہیں جو ماڈل ٹاؤن کے 14 شہیدوں کے قتل میں ملوث ہیں،کوئی بھی ملزم جرم ثابت ہونے تک مجرم نہیں کہلاتا۔ سوال جرم ثابت ہونے کا ہے اگر پانامہ لیکس اور ماڈل ٹاؤن کے مسئلے کی حقیقت کے لیے پوری اپوزیشن متفق ہے تو عمران خان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپوزیشن سے صلاح مشورہ کرے ۔ طاہر القادری اور جماعت اسلامی کے سراج الحق کو یہ شکایت ہے کہ عمران خان تحریک چلانے کے مسئلے پر مشاورت نہیں کرتے عمران خان کو یہ شکایت دور کرکے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ اپوزیشن کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات دور ہوسکیں اورکرپشن اورماڈل ٹاؤن کا مسئلہ یکسوئی سے حل ہوسکے۔

مقبول خبریں