شکیل اوجؔ کی یاد میں
پروفیسر، ڈاکٹر، حافظ شکیل اوجؔ کی دوسری برسی 18 ستمبر کوگزر گئی مگر اُن کے قاتلوں کو سزا نہ مل سکی
پروفیسر، ڈاکٹر، حافظ شکیل اوجؔ کی دوسری برسی 18 ستمبر کوگزر گئی مگر اُن کے قاتلوں کو سزا نہ مل سکی۔ انھیں 18 ستمبر 2014ء کو صبح 10 بجے اردو یونیورسٹی کے سامنے اوورہیڈ برج پر اُس وقت نامعلوم قاتل نے گولی مار کر شہید کیا تھا، جب وہ اپنے ساتھی ڈاکٹرطاہرمسعود کے ہمراہ ایرانی قونصل خانے جا رہے تھے، صدر پاکستان نے انھیں قومی ایوارڈ دیا تھا۔
ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل کی ہر ایک نے مذمت کی تھی، صدر، وزیراعظم،گورنروں اوروزیراعلیٰ نے ایک استاد کے قتل کو عظیم نقصان قرار دیا تھا۔ پولیس حکام فورا جائے حادثہ پر پہنچے اور فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کا عندیہ دیا۔کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے ڈاکٹر شکیل اوج کے قاتلوں کی گرفتاری اور اُن کے لواحقین کے لیے مالی امداد کی تحریک شروع کی تھی۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ڈاکٹر شکیل اوج کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔
29 اپریل 2015ء کو اُن کے شاگرد ڈاکٹروحیدالرحمن اپنی قیام گاہ سے کراچی یونیورسٹی جاتے ہوئے فیڈرل بی ایریا میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروںکی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔ پولیس اوردیگر اداروں کے حکام نے ایک دفعہ پھر قاتلوں کی گرفتاری کے عزم کو دہرایا۔اساتذہ کے احتجاج پر ڈاکٹر شکیل اوج اور ڈاکٹروحید الرحمن کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا وعدہ کیا تھا مگر نہ ان دونوں کے قاتل گرفتار ہوئے نہ ان کے لواحقین کو مالی امداد ملی ۔صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی قاتلوں کی گرفتاری اور لواحقین کو مالی امداد کی یقین دہانی کروائی مگر یہ وعدہ، وعدہ ہی رہا ۔شکیل اوج کے قتل کے مقدمے میں ایک شخص گرفتار ہوا مگر عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہو گیا۔
ڈاکٹر شکیل اوج کے والد بھارت سے ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ شکیل اوج نے شاہ فیصل کالونی کے ایک چھوٹے مکان سے اپنی زندگی کا آغازکیا۔ انھوں نے دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی تھی، ممتاز عالم دین ڈاکٹر پروفیسر فضل الرحمن انصاری کے مدرسے کے فارغ التحصیل تھے۔
شکیل اوج نے دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ انھوں نے کراچی بورڈ سے میٹرک اور انٹر کی سند کے ساتھ وفاقی اردوکالج سے اسلامیات میںایم اے کی سند حاصل کی۔ انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا، وہ کراچی یونیورسٹی میں معروف عالم پروفیسر ڈاکٹر اخترسعید کے شاگرد رہے۔انھوں نے محض پی ایچ ڈی کرنے اور پروفیسر کا عہدہ حاصل کرنے پراکتفاء نہیں کیا بلکہ نئی تحقیق کرنے اورکتابیں تحریرکرنے پر خصوصی توجہ دی۔اُن کے تحقیقی مقالوں کے بنا پرکراچی یونیورسٹی نے انھیں ڈی لیٹ کی ڈگری دی۔
ڈاکٹر شکیل اوج کی تحقیق کا معیار بہت بلند تھا۔ انھوں نے زندگی کے بنیادی مسائل کوآسان کرنے کے لیے مذہبی تعلیمات کی آسان اور سادہ تشریح کی ڈاکٹرشکیل اوج نے اجتہاد کے اصول کے تحت مذہبی معاملات کو آسان کرنے کا طر یقہ اپنایا۔ ڈاکٹر شکیل اوج نے میاں بیوی کے تعلقات پر بحث کر کے واضح کیا کہ ایک وقت میں طلاق کا لفظ ہزار بار بھی دھرایا جائے تو وہ ایک طلاق شمارہو گی۔ ڈاکٹر شکیل اوج نے اسلامی کتب کے مطالعے کے بعد ثابت کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں طلاق کا یہی طریقہ رائج تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈاکٹر شکیل اوج کے تجویزکردہ طریقہ کارکو اپناتے ہوئے ایک ہی نشست میں تین طلاق دینے کے طریقے کو مسترد کر دیا۔
ڈاکٹر شکیل اوج کا کہنا تھا کہ خواتین کو تعلیم اور روزگارکا حق ہے وہ کہتے تھے کہ مسلمان خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنی مرضی کا پیشہ اختیارکر سکتی ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ عورت کے لیے چہرہ ڈھانپنا ضروری نہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمان عورت کو اپنی پسندکی شادی کا حق ہے۔ شکیل اوج کو فروعی بحث ومباحثے پر یقین نہیں رکھتے تھے، وہ تحقیق اور دلیل پر یقین رکھتے تھے۔
ڈاکٹر شکیل اوج نے اگرچہ مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی مگر وہ فرقہ پرستی کے خلاف تھے۔ وہ مذہبی انتہا پسندی اور طالبان کے خلاف تھے، وہ کہتے تھے کہ القاعدہ اور طالبان کا مذموم مقاصد کے لیے دھماکے کرنا اور شہریوں کو قتل کرنا بدترین جرم ہے ۔ڈاکٹر شکیل اوج نے ساری زندگی سخت محنت کی جب وہ کراچی یونیورسٹی کے کلیہ معارف اسلامی میں لیکچررکے انٹرویو میں پیش ہوئے تو شعبے کے سربراہ انھیں مسترد کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب اُس سلیکشن بورڈ کے سربراہ تھے شکیل اوج کی ڈاکٹر وہاب سے پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، مگر شکیل اوج کی کارکردگی کو دیکھ کر ڈاکٹر وہاب نے اُن کے حق میں فیصلہ دیا۔ ڈاکٹر شکیل اوج کی روشن خیالی بہت سے لوگوں کو پسند نہ تھی اور اُن کے خلاف مستقل سازشیں ہوتی تھیں۔
ڈاکٹر شکیل اوج مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگری کے خلاف علماء کی ایک منظم تحریک کے حق میں تھے، تاکہ انتہا پسند عناصر کو اُن کے حلقے میں تنہاکیا جاسکے۔ ڈاکٹر صاحب کی فکر اُن کی موت کی وجہ بن گئی ، جوعناصر دلائل اور تحقیق کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کو روک نہیں سکتے تھے انھوں نے قاتلوں کا سہارا لیا، ڈاکٹر شکیل اوج نے سترہ کتابیں تحریرکیں۔ سترہ ریسرچ آرٹیکل قومی وبین الاقومی رسائل میں شایع ہوئے اور لاتعداد مضامین اخبارات و رسائل کی زینت بنے وہ زندہ رہتے تو نئے موضوعات پر مزید خوبصورت کتابیں تحریر کرتے۔
ملک میں صرف ڈاکٹر شکیل اوج اور ڈاکٹر وحید الرحمن اور پروفیسر سبط جعفر، پروفیسر شبیر شاہ ڈاکٹر فاروق جیسے اساتذہ ہی قتل نہیں ہوئے بلکہ راشد رحمان، سبین محمود، پروین رحمان ،خرم ذکی جیسے لوگوں کو بھی شہیدکیا گیا۔ ملک میں ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں انتہا پسندی کی کمر تو ٹوٹی ہے مگر انتہا پسندی کو پیدا کرنے والے عوامل تو موجود ہیں۔ اِن عوامل کے خاتمے کے لیے ریاست کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہوگا پھرکوئی استاد اور سماجی کارکن قتل نہ ہوگا۔ بہرحال اساتذہ کے قاتلوں کو سزا نہ ہونا قومی المیہ ہے۔