پانچواں ایٹمی تجربہ
شمالی کوریا کی برسر اقتدار پارٹی نے یہ کامیاب تجربہ کرنے پر اپنے ایٹمی سائنسدان کو مبارکباد دی ہے۔
پچھلے ہفتے شمالی کوریا نے اپنا پانچواں ایٹمی تجربہ کیا۔ یہ تجربہ سابق تجربوں سے زیادہ طاقتور اور 1945ء میں جاپان پرگرائے جانے والے ایٹم بم سے زیادہ تباہ کن ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت کے اعلان کے مطابق شمالی کوریا کی برسر اقتدار پارٹی نے یہ کامیاب تجربہ کرنے پر اپنے ایٹمی سائنسدان کو مبارکباد دی ہے۔
یہ تجربہ کوریا کے 68 ویں قومی دن پرکیا گیا۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اب ہم نیوکلیئر وارہیڈکو بیلسٹک میزائل پرنصب کرنے کے قابل ہو گئے ہیں اور 11 حریف ممالک کے خطرے سے نمٹ سکتے ہیں۔اس ایٹمی دھماکے سے نیوکلیئر سائٹ کے قریب 5.3 شدت کا زلزلہ آیا۔ چین جاپان سمیت کئی ملکوں نے اس دھماکے کی مذمت کی ہے۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان پاگل پن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو اس تجربے کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان نے بھی شمالی کوریا کے جوہری تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور آبنائے کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مقصد کے خلاف ہے۔ چین نے کہا ہے کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے شمالی کوریا اس طرح کے مزید اقدامات کو روک دے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور روس نے کمزورملکوں کو آپس میں بانٹنے کا جو شرمناک کھیل شروع کیا، اس میں جرمنی اور کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ شمالی کوریا اور مشرقی جرمنی سوویت یونین کے حصے میں جب کہ مغربی جرمنی اور جنوبی کوریا امریکا کے حصے میں آئے۔
جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے وہ تاریخی دیوار برلن بنائی گئی جس کے خلاف مشرقی اور مغربی جرمنی کے عوام نے متحدہ جدوجہد کر کے دیوار برلن کو مسمار کر دیا۔ اب دونوں حصے متحدہ جرمنی میں بدل گئے ہیں لیکن کوریا اب بھی تقسیم ہے۔ شمالی کوریا کو اب چین اور روس کی سرپرستی حاصل ہے جب کہ جنوبی کوریا کو امریکا کی سرپرستی حاصل ہے۔ جنوبی کوریا امریکا کا اس علاقے میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بنا ہوا ہے، جہاں ایٹمی ہتھیار بھی رکھے گئے ہیں۔
شمالی کوریا کی حکومت نے جوہری تجربے کے بعد کہا ہے کہ ''اب ہم حریف ممالک کے خطرے سے نمٹ سکتے ہیں'' یہی وہ خطرہ ہے جس کے خلاف شمالی کوریا، اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی مسلسل وارننگوں کے باوجود ایٹمی تجربات کر رہا ہے اور حالیہ تجربہ پانچواں تجربہ ہے۔
امریکا نے جنوبی کوریا میں بڑی تعداد میں اپنی فوجیں رکھی ہوئی ہیں، جو شمالی کوریا کے لیے باعث تشویش ہیں، پانچویں ایٹمی تجربے کے بعد شمالی کوریا نے جس حریف کا ذکر کیا ہے وہ امریکا اور جنوبی کوریا ہیں۔ شمالی کوریا کی اقوام متحدہ سمیت دنیا کے مختلف ملک جو مذمت کر رہے ہیں اور شمالی کوریا کو مزید ایٹمی تجربات نہ کرنے کی جو صلاح دے رہے ہیں، وہ اس لیے غیر عقلی اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں کہ جب تک امریکی فوجیں ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ جنوبی کوریا میں رہیں گی، شمالی کوریا ان سے بچاؤ کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، جس میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری بھی شامل ہے۔
جرمنی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور جب تک جرمنی دو حصوں میں بٹا رہا جرمنی کے دونوں حصوں کے درمیان کشیدگی اور فوجی تیاریوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن جب جرمنی کے عوام نے متحد ہوکر جرمنی کی تقسیم کی علامت دیوار برلن کو مسمار کرکے جرمنی کے دونوں حصوں کو متحد کر دیا۔ جرمنی نہ صرف خوف سے باہر آ گیا بلکہ اپنی اجتماعی طاقت کو ملکی ترقی میں استعمال کرنے لگا اور اب جرمنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
جرمنی اور کوریا کو تقسیم کرانے والی دوسری عالمی جنگ کو ختم ہوئے، اب 71 سال ہو رہے ہیں' مغربی ملکوں اور سوشلسٹ بلاک میں جوکشیدگی تھی اور نظریاتی جنگ تھی اسے منطقی طور پر سوشلسٹ بلاک کے انہدام کے بعد ختم ہو جانا چاہیے تھا اور سرد جنگ سمیت کشیدگی کے دوسرے حوالے بھی بے جواز ہوگئے جرمنی متحد ہوگیا۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ کوریا کو بھی بٹوارے سے نجات دلا کر جرمنی کی طرح متحد کردیا جائے تاکہ کوریا کے دونوں حصوں کو خوف اور عدم اعتمادی سے نجات ملے اور وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے ملک کی ترقی میں مصروف ہوجائیں۔ ایسا اس وقت تک ممکن نظر نہیں آتا جب تک روس اور امریکا میں اعتماد کی فضا بحال نہیں ہوتی اور ان کے مفادات ہم آہنگ نہیں ہو جاتے۔
بیسویں صدی دنیا میں بڑی تباہیاں لے کر آئی۔ اس صدی میں بے شمار علاقائی جنگوں کے علاوہ دو عالمی جنگیں ہوئیں، جن میں کروڑوں انسان مارے گئے۔کوریا اور ویت نام کی جنگوں میں بے حساب جانی و مالی نقصان ہوا صرف ویت نام کی جنگ میں 59 ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ 1947ء میں ہزاروں سال تک متحد رہنے والا برصغیر تقسیم ہو گیا اور 22 لاکھ بے گناہ انسان اس تقسیم کی نذر ہو گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کی ان خطرناک جنگوں اور خون خرابے کے محرکات کیا تھے۔ عالمی جنگوں کو منڈیوں پر قبضے کی جنگیں کہا جاتا ہے۔
برصغیر کی تقسیم مذہبی بنیادوں پر ہوئی۔ مغرب اور سوشلسٹ بلاک کے درمیان اصل جھگڑا سوشلسٹ معیشت کا تھا۔ 1917ء میں انقلاب روس کے بعد سوشلسٹ بلاک نے سوشلزم کو اپنی معیشت بنا لیا۔ مغربی دنیا جو سرمایہ دارانہ نظام کی حامل اور سرپرست تھی اس کے نظریہ سازوں نے مغرب کے حکمرانوں کو یہ باور کرایا کہ سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کا دشمن ہے۔ اسی نظریاتی جنگ نے سردجنگ کو جنم دیا اور روس سرد جنگ کی نذر ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا اور سوشلسٹ بلاک میں موجود چین روس سمیت تمام ملکوں نے منڈی کی معیشت کو اپنا لیا۔ اس کے بعد دونوں بلاکوں میں نظریاتی جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔
اس کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کی تقسیم بھی غیر منطقی ہو گئی لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ مغربی ملکوں کو اب بھی یہ خطرہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھتے ہوئے مظالم سے ساری دنیا کے عوام میں جو بے چینی اور اشتعال بڑھ رہا ہے وہ کہیں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے خطرہ نہ بن جائے اور شمالی کوریا اور کیوبا اس ممکنہ خطرے میں اضافے کا باعث نہ بن جائیں۔ کوریا ایک ملک رہا ہے دونوں کوریاؤں کے عوام کا یہ حق ہے کہ وہ کوریا کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ اگرکوریا کے عوام کو یہ حق دے دیا گیا تو نہ شمالی کوریا کو ایٹمی تجربے کرنے کی ضرورت رہے گی نہ جنوبی کوریا کو امریکا کا فوجی اڈہ بننے کی ضرورت رہے گی۔ کیا دنیا کا حکمران طبقہ اس منطقی حل کو مانے گا؟