پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر سے عوام پریشان ایجنٹوں کی چاندی

درخواست پر اعتراض لگادیئے جاتے ہیں، ربیع الاول کے لیے خریدے گئے ٹکٹ ضائع ہونے کا خدشہ


Nama Nigar December 10, 2012
ایجنٹ عوام کو حکومت کی طے شدہ فیس سے زائد رقم کے عوض تمام پروسیس خود اپنی نگرانی میں کرواکر پاسپورٹ مہیا کردیتے ہیں. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ضلع سانگھڑ ، ضلع بینظیر آباد (نواب شاہ) اور ضلع نوشہرہ فیروز کی عوام کو پاسپورٹ بنانے کی سہولت دینے کے لیے قائم کیے جانے والے ریجنل پاسپورٹ آفس اس وقت ایجنٹوں کے نرغے میں ہیں اور پاسپورٹ بنوانے کے لیے آنے والے ہزاروں لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔

مذکورہ ایجنٹ عوام کو حکومت کی طے شدہ فیس سے زائد رقم کے عوض تمام پروسیس خود اپنی نگرانی میں کرواکر پاسپورٹ مہیا کردیتے ہیں، ایجنٹ عام پاسپورٹ بناکر دینے کے لیے فی پاسپورٹ4ہزار 5 سو روپے لیتے ہیں جبکہ اس کی سرکاری طے شدہ فیس 3 ہزار ایک سو روپے ہے، اسی طرح ارجنٹ پاسپورٹ بنوانے کی 5 ہزار فیس کی جگہ6 ہزار روپے لیے جاتے ہیں اور اگرکوئی شخص پیسے بچانے کے لیے براہ راست آفس میں جاتا ہے تو راشی عملہ مختلف غیر ضروری اعتراض لگاکر چکر لگواتا ہے۔

1

یہی وجہ ہے کہ تینوں اضلاع کے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ دوبارہ آنے کی زحمت ، وقت اور آمدورفت کے اخراجات سے بچنے کے لیے ان ایجنٹوں کو اضافی رقم دیکر کام کروانے پر مجبور ہوجاتے ہیں،اس ضمن میں شہداد پور کے رہائشی ایاز علی لاکھونے بتایا کہ جب میں براہ راست پاسپورٹ بنانے کے لیے آفس گیا تو انھوں نے رہائشی سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ ہونے کے باوجود تھانے کا کریکٹر سرٹیفیکیٹ اور مختلف تعلیمی اسناد مانگیں، تاہم وہی کام باہر آکر میں نے ایک ایجنٹ کے ذریعے کروایا تو رہائشی سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ پر میرا کیس قبول کرلیا گیا۔

دوسری جانب ریجنل پاسپورٹ آفس نواب شاہ سے پاسپورٹ کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر کی شکایات بھی ملی ہیں، جس کے باعث خدشہ ہے کہ عوام کی جانب سے ربیع الاول کے لیے رش سے بچنے کے لیے ایڈوانس ٹکٹ خریدے گئے تھے وہ پاسپورٹ ملنے میں تاخیر کے سبب ضائع نہ ہوجائیں جس سے عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا،اس حوالے سے ارشاد نے بتایا کہ اس نے 5 ستمبر کو پاسپورٹ بنوانے کے لیے دیئے تھے اور وہ ہمیں 15 دن بعد لے جانے کا کہا گیا تھا، تاہم 3 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ ہمیں پاسپورٹ ملے اور نہ ہی کوئی کنفرم تاریخ بتائی جارہی ہے، جبکہ شہداد پور کے ایک اور رہائشی سابق نیوی ملازم یوسف نے بتایا کہ ربیع الاول میں جہازوں میں سیٹ نہ ملنے کے پیش نظر اس نے ایئر لائنز کی پالیسی کے مطابق اپنے اور خاندان کے 10 افراد کے ایڈوانس ٹکٹ لے رکھے ہیں جن کی مالیت تقریباً 4 لاکھ روپوں سے زائد ہے ، مجھے 3 ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود پاسپورٹ نہیں ملے جس کی وجہ سے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں اور میرے ٹکٹس ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

مقبول خبریں