ہلیری اور ٹرمپ کے درمیان پہلا ٹی وی مباحثہ

صدارتی مباحثے میں دونوں صدارتی امیدواروں نے ایک دوسرے پر تنقید کے خوب نشتر چلائے۔


Editorial September 27, 2016
صدارتی مباحثے میں دونوں صدارتی امیدواروں نے ایک دوسرے پر تنقید کے خوب نشتر چلائے۔ فوٹو؛ فائل

امریکا کی صدارت کے دونوں امیدواروں ہلیری کلٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ روز ٹی وی پر آمنے سامنے زبردست مباحثہ ہوا۔ اس مباحثے کی امریکی صدارتی الیکشن میں بہت اہمیت ہوتی ہے اور ہر امیدوار کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے مدمقابل پر دلائل اور حقائق کی بنیاد پر غالب آئے' اس مباحثے میں بہتر پرفارمنس ووٹرز کا مائنڈ تبدیل کرتی ہے اور الیکشن میں ووٹرز کے ٹرینڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

اس پہلے صدارتی مباحثے میں دونوں صدارتی امیدواروں نے ایک دوسرے پر تنقید کے خوب نشتر چلائے ، دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین ہونے والی گرما گرم بحث میں امریکی معیشت ، امیروں کو ٹیکسوں کی چھوٹ اور گن کلچر پر بحث ہوئی اور دونوں امیدواروں نے اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ امریکی معیشت کے حوالے سے ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا درمیانہ طبقے کو مضبوط کرنا ہو گا، کم سے کم تنخواہ بڑھانا ہو گی اور امیروں پر ٹیکس بڑھانا ہو گا تاکہ غریب اور امیر میں تفریق کم کی جا سکے۔

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے تاکہ سرمایہ دار اپنی فیکٹریوں کو توسیع دیں ، نئی نوکریوں کے مواقعے پیدا ہوں اور سرمایہ دار ملک چھوڑ کر نہ جائیں۔ نسلی امتیاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ہمیں اس سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا جس میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتبار قائم کرنا ہوگا۔

پولیس کی تربیت کو بہتر اور عدل کے نظام میں اصلاح کرنا ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں قانون کو بالا دست بنانا ہو گا ، سیاست دانوں نے افریقی امریکیوں کو استعمال کیا ہے، انھیں صرف ووٹ کے وقت یاد کیا جاتا ہے۔ کلنٹن نے کہا کہ ہمیں گن کنٹرول کے لیے لوگوں کا ماضی چیک کرنا چاہیے اور وہ لوگ جو ہمارے لیے خطرہ ہیں انھیں بندوقوں تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔

دنیا بھر سے دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا۔ امریکی ٹی وی کے مطابق پہلا مباحثہ ہلیری نے جیت لیا۔ ہلیری کلنٹن کو 62 فیصد جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 27 فیصد ووٹ ملے۔ یوں ہلیری کلنٹن نے امریکا کی صدارت کی کرسی کی جانب ایک قدم مزید آگے بڑھایا ہے۔ امریکا کا صدارتی الیکشن امریکیوں کے لیے تو اہم ہے ہی لیکن دنیا بھر کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے' امریکا میں اگلا صدر کون ہوتا ہے اور وہ دہشت گردی اور ہمارے خطے کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ انتہائی اہمیت کاحامل سوال ہے لہٰذا پاکستان کے پالیسی سازوں کو امریکی صدارتی الیکشن پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور وہاں اپنی لابی کو متحرک کرنا چاہیے اور صدارت کے دونوں امیدواروں کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں میں کوئی بھی صدر منتخب ہوتو پاکستان کو اس کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز قائم کرنے میں دشواری نہ ہو۔