انجمن تنزل پسند مصنفین کا قیام

پہلے یہ خیال ایک چھوٹی سی ’’پھنسی‘‘ کی طرح کبھی کبھی تنگ کرتا تھا


Saad Ulllah Jaan Baraq September 27, 2016
[email protected]

ویسے تو ہمارے خیال بلکہ کھوپڑی کے اندر یہ ''پھوڑا'' بہت پرانا ہے کہ آخر ہمارے اندر کیا کمی ہے کہ نہ تو اپنی کوئی ادبی غیر ادبی، تنظیم کھڑی کر سکے اور نہ ہی کسی این جی اوز میں گھس کر کسی شاخ پر بیٹھ کر انجام گلستان میں حصہ لے پائے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم سے ''ماڑے ماڑے'' لوگ آئے اور کسی تنظیم کے کرتا دھرتا بن گئے۔

پہلے یہ خیال ایک چھوٹی سی ''پھنسی'' کی طرح کبھی کبھی تنگ کرتا تھا بلکہ اس سے بھی پہلے گرمی دانے کی سی چیز ہوتی ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ صرف ہمارا ذاتی یا خاندانی مرض نہیں ہے بلکہ ''کھجلی'' بنی نوع کی اجتماعی بیماری ہے، یہ ''کھجلیاں'' ہی تو ہیں جن کی وجہ سے یہ دنیا اتنی ٹیکنی کلر ہے ورنہ یونہی اسپاٹ اور بے مزہ سی زندگی ہوتی کہ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زندگی یونہی تمام ہوتی ہے، یہ جو دنیا میں بڑے بڑے فرعون و نمرود ہوئے ہیں، سکندر ہینی بال ہوئے ہیں، چنگیز، ہلاکو، تیمور، نادر شاہ، نپولین، ہٹلر اور بش اوبامے ہیں سب کے سب اسی کھجلی کا نتیجہ ہیں، پتھر سے ایٹم بم تک ہتھیار بنے ہیں سارے کارنامے ہی کھجلی کی پیداوار ہیں۔ لیکن کھجلی کے ساتھ وہ مطلوبہ لیاقت ہمارے اندر نہ تھی اس لیے صرف سوچ کر ہی رہ جاتے تھے لیکن اب یہ پھوڑا عمر کے ساتھ ساتھ اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہو گیا ہے کیوں کہ کھجلی کے اندر کبھی کبھی بڑی تیز چبھن ہو جاتی ہے کہ

سب کی باراتیں آئیں تو بھی لے کے آنا
دلہن بنا کر مجھے اپنے گھر لے جانا

ارادہ تو کر لیا لیکن مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ تنظیم بنائیں تو کس چیز کی۔ صرف ''ادب''کا گلستان کچھ کچھ چھدرا دکھائی دیا کہ اس میں گھسنے کے لیے کچھ زیادہ نون تیل اور ہلدی پھٹکڑی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آزاد نظم تو ایک سال کا بچہ بھی لکھ سکتا ہے بس کچھ سمجھ میں نہ آنے والی باتیں بے ترتیب انداز میں لکھ لو یا اگر آزاد نظم کی استطاعت بھی نہیں تو آج کل تو تین بے معنی جملوں سے بھی کام چل جاتا ہے جسے ''ہائیکو'' کہتے ہیں مثلاً

ہوا نے پانی سے کہا

کہاں جا رہی ہو اس وقت
پانی نے کہا جا اپنا کام کر

بجلی نے لوڈ شیڈنگ کو دیکھا
لوڈ شیڈنگ نے بجلی کو دیکھا

اور ایک دوسرے کو آنکھ مار دی
وہ ایک لڑکی تھی

میں ایک لڑکا تھا
پھر ہم بڈھے ہو گئے

اخباروں میں اکثر ترقی پسند مصنفین کا نام آتا رہا ہے اور لگ بھگ ساٹھ ستر سال سے تو چل رہا ہے اور جب چل رہا ہے تو مطلب ہے کہ چل سکتا ہے کسی نے پوچھا ہے کہ بھیا تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں، کیوں ترقی پسند ہو اور اگر ترقی پسند ہو تو کتنے مصنفین ہو، ہم بھی یہ نہیں جانتے کہ ترقی پسند مصنفین کیا کرتے تھے یا کرتے ہیں اور کیا کریں گے، اور اس دنیا میں کوئی ضروری تو نہیں کہ کوئی کچھ کرے بھی، بہت سارے لوگ کچھ بھی نہ کر کے بہت کچھ کرتے ہیں۔

اسی لیے ترقی پسند مصنفین کے مقابل ''تنزل پسند مصنفین'' کھڑی کر دی، بگاڑ لے جو کوئی ہمارا بگاڑنا چاہتا ہے ... ہم تو پرورش یا سرزنش لوح و قلم کرتے رہیں گے، لیکن ایسا بھی مت سوچیے کہ ''تنزل پسند مصنفین'' بالکل ہی بے معنی ترکیب ہے بلکہ ہمارے خیال میں اس کی اس وقت شدید ضرورت تھی، سنا ہے اس کی گولیاں بھی اب ایک ہزار فیصد مہنگی ہو چکی ہیں کیوں کہ ''ادویات'' کی مہنگائی کے لیے یہی سرکاری شرح مقرر ہوئی ہے، ویسے بھی یہ تیر بہدف نسخہ شفاء سیاست کے میدان میں استعمال کرنا تو مناسب ہے کیوں کہ شاعروں پر اس نسخے کا استعمال کچھ سنگ دلانہ سا کام لگتا ہے کیوں کہ بے چارے پہلے ہی سے ''خدا مارے'' ہوتے ہیں اور مرے ہوؤں کو مارنا کچھ اچھا کام نہیں ہے۔

اس لیے ہماری تنظیم نے سوچا ہے کہ ادب کو تنزل سے روشناس کرانے اور کچھ اور اس سے زیادہ سہل اور موثر طریقے اپنائے جائیں تاکہ ''سانپ'' بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے بل کہ جو طریقہ ہم اپنانے جارہے ہیں اس میں ''لاٹھی'' کے اور مضبوط ہونے کے امکانات ہیں، مثلاً ہم ایسے شاعروں کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر شاعر کو شعر سنانے کے لیے فیس دینا ہو گی اور یہ فیس پہلے ہی داخل کرنا ہو گی مثلاً کوئی شاعر اپنی نو شعروں پر مشتمل غزل سنانا چاہے تو اسے دس یا بیس یا سو روپے (استطاعت کو دیکھ کر) فیس ایک شعر کے لیے داخل کرنا پڑے گی اگر خدانخواستہ کسی نے کوئی شعر ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھا تو اس کے لیے اضافی چارجز وصول ہوں گے۔

فی زمانا شاعروں سے بھی زیادہ خطرناک ایک اور رحجان بڑھتا جارہا ہے اور وہ ہے کتابوں کی رونمائیاں بل کہ اکثر لوگ تو رونمائی مار دینے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتے اور ''تقریب پذیرائی'' کے نام سے نکاح کے اوپر نکاح کا جرم بھی کر لیتے ہیں، انجمن تنزل پسند مصنفین اس کے مقام کتابوں کی ''منہ چھپائی'' کی تقاریب منعقد کرے گی جو کچھ اس طرح ہو گی کہ جیسے بھی بن پڑے شعری مجموعے کے سارے نسخے اکٹھے کر کے اسٹیج پر رکھے ہوں گے، تقریب کا مہمان خصوصی کوئی شہر کا مشہور کباڑی یا تندور والا یا سینیٹری انسپکٹر ہو گا۔

کتاب پر اچھی طرح کیچڑ تھوپنے کے مقالے جب ختم ہو جائیں گے تو کوئی تنظیم کا عہدیدار مہمان خصوصی کو بلائے گا جس کے پاس ایک خالی بوری ہو گی کتاب کے سارے نسخوں کو عزت و احترام کے ساتھ اس بوری میں ڈالا جائے گا اور پھر تنظیم کا کوئی ذمے دار رکن اس کے ساتھ کر دیا جائے کہ اس بوری کو دکان یا تندور یا کوڑے دان تک نہایت حفاظت کے ساتھ پہنچا دے، آخر میں صاحب کتاب کی خاطر تواضع کمال ادب نوازی اور قدر افزائی کے ساتھ کی جائے گی۔