کراچی کی پیچیدہ ترین صورت حال

کراچی کے مسائل سمجھنے کے لیے یہاں بسنے والےغریب عوام کی تقسیم اور ان کے درمیان اختلاف کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔


Zaheer Akhter Bedari December 10, 2012
[email protected]

ایک زمانہ تھا کراچی سیاسی جدوجہد کا سب سے بڑا مرکز تھا، مسئلہ آمر حکمرانوں سے نجات کا ہو یا غریب طبقات پر ہونے والے مظالم کے خلاف جدوجہد کا، کراچی ان حوالوں سے عوامی تحریکوں کا مرکز بنا رہا۔ کراچی کے اسی کردار سے خوفزدہ ہوکر پہلے فوجی آمر نے پاکستان کے دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا۔ جن لوگوں نے بلا امتیاز زبان، نسل، قومیت غریب طبقات کو متحد کرکے زرعی، صنعتی اور فوجی اشرافیہ سے اس ملک کو نجات دلانے کی جدوجہد میں اپنی عمروں کا بہت بڑا حصہ لگادیا، وہ آج کے کراچی کا حال دیکھ کر دل گرفتہ بھی ہیں اور مایوس بھی۔کراچی کی موجودہ صورت حال کا زمینی حقائق کی روشنی میں جائزہ لے کر اس کا کوئی دیرپا حل تلاش کرنے کے بجائے ہمارے سیاسی اکابرین حکمران اور اپوزیشن کراچی کے سطحی اور گمراہ کن تجزیے کرکے اوٹ پٹانگ قسم کے حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے ہم سیاسی جماعتوں کی نا اہلی نہیں بلکہ طبقاتی مفادات کی ضرورت سمجھتے ہیں کیونکہ کراچی کے غریب عوام کا آپس میں دست و گریباں رہنا ان طبقات کی سیاسی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے تحت وہ کراچی کے مسائل کی ایک جعلی اور غیر حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں جس کے لیے شہر کو مقتل بنادیا گیا ہے۔

کراچی کے موجودہ پیچیدہ ترین مسائل کو سمجھنے کے لیے یہاں بسنے والے مختلف علاقوں کے غریب عوام کی تقسیم اور ان کے درمیان اختلاف کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ کراچی میں ایوب خان کے دور سے دوسرے صوبوں سے بے روزگاروں کے قافلے آنے شروع ہوگئے تھے جن کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ ایوب خان سے بھٹو دور تک کراچی کے غریب طبقات خاص طور پر مزدور طبقات صرف طبقاتی بنیادوں پر منظم تھے، ان میں نسل، زبان، قومیت کے کوئی تعصبات موجود نہ تھے۔اس دور میں چونکہ مزدور تحریکوں کی قیادت میں ہمارا بھی ایک فعال کردار تھا، اس لیے ہمیں مزدوروں کے طبقاتی کردار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اس پورے دور میں محنت کشوں کی جدوجہد کا رخ مالکان اور انتظامیہ کے ساتھ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی طرف رہا۔ یحییٰ خان کے دور میں جب سیاسی کارکنوں، مزدور رہنماؤں اور طلبہ کے خلاف مارشل لا کورٹس سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے لگے تو اردو اسپیکنگ، پشتو اسپیکنگ، بلوچی اسپیکنگ قیادت پٹھان کالونی میں روپوش رہی۔ جہاں ان کی حفاظت پختون ورکر کیا کرتے تھے۔

جیلوں میں بھی یہ سارے لوگ ایک ساتھ رہتے تھے، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان غریب طبقات کی قیادت ترقی پسند لوگوں کے ہاتھوں میں تھی۔ اس دور میں دوسرے صوبوں سے آنے والے بے روزگاروں کی توجہ اپنے روزگار اور طبقاتی استحصال کی طرف ہوتی تھی، لیکن جب دوسرے صوبوں سے بے روزگاروں کو کراچی میں لانے کا کام بعض حلقوں کی طرف سے کاروبار کی شکل اختیار کرگیا، انھیں روزگار دلانے اور انھیں کچی بستیوں میں آباد کرنے کا کام تجارتی پیمانے پر ہونے لگا تو باضابطہ لینڈ مافیا وجود میں آئی۔ افغانستان سے روس کو نکالنے کے امریکی منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوا تو پاکستان کے ہر حصے میں اسلحے کی منڈیاں کھل گئیں، اس میں آہستہ آہستہ ڈرگ مافیا بھی شامل ہوگئی، اس کے بعد جب کراچی میں لسانی سیاست کا آغاز ہوا تو سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگ بھی بن گئے۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی جرائم کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اس میں جب دہشت گردی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا انتہائی منظم اور منصوبہ بند عنصر شامل ہوگیا تو کراچی درندوں کا ایک ایسا جنگل بن گیا جہاں بلاتخصیص زبان، نسل، صوبہ ہر شخص غیر محفوظ ہوگیا اور روز دس پندرہ انسانوں کا قتل معمول بن گیا۔

ہمارا حکمران طبقہ محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر یہ تو کہتا رہا کہ کراچی سب کا شہر ہے، لیکن اس نے نہ اس حوالے سے سب کے لیے رہائش کا بندوبست کیا، نہ روزگار کی کوئی منصوبہ بندی کی۔ اس کا نتیجہ شدید کرپشن اور بے لگام لسانی فقہی تعصبات کی شکل میں برآمد ہوا۔ دنیا کے دوسرے بڑے صنعتی ملکوں میں بھی پسماندہ علاقوں سے روزگار کے لیے لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں، لیکن ان ملکوں کے حکمران اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ شہری آبادیوں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ ایک حد میں رہے، کیونکہ دوسرے علاقوں سے آنے والے بے روزگاروں کو جو روزگار ملتا ہے یا کاروبار کی طرف یہ آتے ہیں تو مقامی لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کے روزگار اور کاروبار کے مواقعے اس تناسب سے ختم ہوجاتے ہیں اور مقامی اور غیر مقامی کے درمیان محاذ آرائی کا خطرناک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روزگار کے لیے آنے والوں کی بھاری اکثریت سیاست سے دور اپنے روزی روٹی کے مسائل میں گھری رہتی ہے، لیکن بعض رہنما ان لوگوں کے نام پر سیاست کرکے محاذ آرائی کی صورت حال کو شدید تر بنا دیتے ہیں۔

اب روزگار کے لیے کراچی میں بسنے والے غریب طبقات کی تعداد کراچی کی کل آبادی کے نصف سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس صورت حال کا منطقی نتیجہ غریب طبقات میں محاذ آرائی کی شکل ہی میں نکل سکتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ٹارگٹ کلر کی سرگرمیاں اسلحہ، لینڈ اور ڈرگ مافیا کے مفادات نے ملکر کراچی کو جہنم میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس حوالے سے پیچیدہ ترین صورت حال کا مزید جائزہ لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ سروے کیا جائے کہ تجارت، صنعت مرکزی اور صوبائی اداروں میں سندھ کے عوام اور دوسرے صوبوں کے افراد کا تناسب کیا ہے۔ کراچی میں دہشت گردی میں ملوث لوگوں کا تعلق کن علاقوں سے ہے، کراچی میں لینڈ، ڈرگ اور اسلحہ مافیا پر کن لوگوں کا قبضہ ہے اور صنعتی اداروں کی اس حوالے سے کیا صورت حال ہے؟ کراچی جرائم کا اڈہ بن گیا ہے، ہر روز لاکھوں کروڑوں کی بینک ڈکیتیاں، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ہورہی ہیں، ان میں کون لوگ ملوث ہیں اور ان جرائم سے حاصل ہونے والی بھاری رقوم کا استعمال کس طرح اور کہاں ہورہا ہے؟ غریب طبقات کی مختلف حوالوں سے تقسیم کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟

ان حقائق کا جاننا اس لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست کا خاتمہ ہو اور ہمارے سندھی قوم پرست دوستوں کو بھی صحیح حقائق کا پتہ چل سکے اور حکومت کو بھی ان پیچیدہ ترین مسائل کو حل کرنے میں آسانی ہو۔ اس حوالے سے ہمارے سیاستدانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اس پیچیدہ ترین مسئلے کو اور پیچیدہ بنانے اور بے جواز الزامات کی سیاست کرنے کی بجائے ملک کے اس معاشی حب کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے یہاں کی پیچیدہ صورت حال کو حقیقت پسندانہ انداز میں حل کرنے کی طرف آئیں۔

کراچی کی اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ سیاسی تحریکوں کا یہ مرکز جو اشرافیائی اجارہ داری کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش رہتا تھا خود اپنے خون میں نہایا کھڑا ہے۔ اس سے نکلنے کے لیے یہاں طبقاتی حوالے سے مقامی اور غیر مقامی آبادی کو منظم اور متحرک کرنا ضروری ہے اور یہ کام درمیانے طبقے پر مشتمل وہ جماعتیں کرسکتی ہیں جو 65سالہ استحصالی کرپٹ سیٹ اپ کو تبدیلی کرنے میں مخلص ہوں اور ملک میں عوام کی حقیقی جمہوریت لانا چاہتے ہیں۔

 

مقبول خبریں