جنگی تیاریاں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی مقامات پر بوفر توپوں سمیت بھاری اور درمیانہ درجے کے ہتھیار پہنچا دیے ہیں
دنیا کے دو پسماندہ ترین ملک ہندوستان اور پاکستان جن کی آبادی کا لگ بھگ 50 فیصد حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے وہ ایک بار پھر ایک احمقانہ جنگ کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے کنٹرول لائن پر بھاری ہتھیار اور توپیں پہنچا دی ہیں اور نچلے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پورا دن ملٹری آپریشن روم میں گزارا اس خبر کے مطابق مودی کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان پر حملے کے منصوبے پر غور کیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی مقامات پر بوفر توپوں سمیت بھاری اور درمیانہ درجے کے ہتھیار پہنچا دیے ہیں، جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔دوسری طرف پاکستانی افواج بھی جوابی جنگی تیاریوں میں مصروف نظر آ رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موٹروے پر جنگی مشقیں کیں۔
ان جنگی مشقوں کے دوران جنگی طیارے موٹروے کو بطور رن وے استعمال کرتے رہے۔ کالاشاہ کاکو سے شیخوپورہ تک موٹروے صبح 5 بجے سے شام 5 بجے تک بند رہا۔ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کے شاہین ہر وقت ملکی دفاع کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی ملک ''اپنے اپنے دفاع'' کی تیاریاں کر رہے ہیں تو عام آدمی یہ سوال کر رہا ہے کہ ''حملہ آور کون ہے یا ہو گا؟''
مسئلہ اختلاف ہے کشمیر۔ کشمیر میں 68 سال سے ہلکی پھلکی لڑائیاں جاری ہیں۔ ان ہلکی پھلکی لڑائیوں میں اب تک 70-80 ہزار کشمیری مارے جا چکے ہیں، لیکن پچھلے تین چار ماہ سے کشمیر میں یہ ہلکی پھلکی لڑائیاں ایک غضب ناک تحریک میں بدل گئی ہیں اور تین ماہ سے مقبوضہ کشمیر کرفیو کی زد میں ہے۔ کرفیو توڑ کر بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام میں سے 100 سے زیادہ لوگ شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہو گئے ہیں۔
جنگیں کوئی نئی بات نہیں، پوری انسانی تاریخ جنگوں کے خوف سے بھری ہوئی ہے۔ مذہبی جنگیں، برتر اور کمتر کی جنگیں، دنیا کی منڈیوں پر قبضے کے لیے لڑی جانے والی عالمی جنگیں، علاقائی جنگیں، غرض کوئی دور جنگوں سے خالی نہ رہا اور المیہ یہ ہے کہ ان تمام جنگوں میں بے چارے غریب ہی مارے گئے، خواہ وہ فوج کی شکل میں ہوں یا سول کی شکل میں۔ اقتدار کے مالک ہر دور میں عوام کو عوام سے لڑاتے رہے اور یہ سب قوم و ملک کے نام پر ہوتا رہا۔
اگر ہر دور کے بااختیار لوگ چاہتے تو تقسیم کی بنیادیں محبت اور بھائی چارے پر رکھی جا سکتی تھیں لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا اور اس کی ذمے داری کس پر آتی ہے، حال کے انسان نہ سہی مستقبل کے انسان اس مسئلے پر ضرور غور کریں گے۔کشمیر کا مسئلہ بھی بنیادی طور پر تقسیم ہی کا مسئلہ ہے۔ بھارت میں ہزاروں سال سے دو بڑی قومیں رہتی آرہی ہیں ہندو اور مسلمان۔
ہزاروں سال کے دوران ان میں لڑائیاں بھی ہوتی رہیں لیکن یہ عرصہ امن اور بھائی چارے پر بھی مشتمل رہا، یہاں ایسے حکمران بھی آئے جنھوں نے لاشوں کے مینار بنائے، یہاں ایسے صوفی بھی آئے جنھوں نے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے رہنا بھی سکھایا۔
اس شخصی غلامی کے دور کے بعد جب عوام کی حکمرانی کا آغاز ہوا تو اس کا پہلا تحفہ 1947ء میں 22 لاکھ معصوم انسانوں کے قتل کی شکل میں سامنے آیا۔ کیونکہ 1947ء کے آنے تک متحدہ ہندوستان کے عوام مذہبی طور پر بدل چکے تھے اور انسان سے حیوان بن چکے تھے۔ حیوان میں عقل نہیں ہوتی، زبان نہیں ہوتی لیکن ان کے درمیان جنگیں نہیں ہوتیں، البتہ اسی قبیل کی ایک مخلوق جسے ہم درندہ کہتے ہیں، چیر پھاڑ میں لگی رہتی ہے، کیا انسان کا تعلق اسی مخلوق سے ہے؟
کشمیر کا مسئلہ اپنی اصل میں مذہبی تفریق ہی کا مسئلہ ہے لیکن اسے حق خودارادیت سے بھی جوڑا گیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ خواہ مذہبی ہو یا حق خودارادیت کا، اسے حل کرنے کے لیے اعلیٰ انسانی اوصاف کی ضرورت ہے، جس سے سیاستدان محروم رہتا ہے۔ اس قسم کے تنازعات اس وقت آسانی سے حل ہوتے ہیں جب آفاقی وژن رکھنے والے ایسے مسئلوں کے حل میں شامل اور بااختیار ہوں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر بے گناہوں کے خون خرابے کو نہیں روکا جا سکتا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے لوگ جنھیں مفکر دانشور کہا جاتا ہے وہ بھی تقسیم کا شکار ہو گئے ہیں، ہندو دانشور، مسلمان دانشور، ہندوستانی دانشور، پاکستانی دانشور، امریکی دانشور، روسی اور چینی دانشور وغیرہ وغیرہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو انسانوں کا نمایندہ آفاقی دانشور اور مفکر ہوتا ہے وہی اصل دانشور اور مفکر ہوتا ہے، لیکن ایسے دانشور اور مفکر اگر ہیں تو وہ سب سے پچھلی نشستوں پر گم سم بیٹھے ہوئے ہیں یا بٹھا دیے گئے ہیں۔
بھارت کنٹرول لائن پر بھاری توپیں اور ہتھیار پہنچا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم ایسے اجلاسوں کی صدارت کر رہا ہے جس میں پاکستان پر حملے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے جنگی ہوائی جہاز موٹرویز پر جنگی مشقیں کر رہے ہیں۔ کالاشاہ کاکو سے شیخوپورہ تک سڑک بند کر دی گئی ہے ہمارے وزیر دفاع فرما رہے ہیں کہ ہمارے شاہین موٹروے کو رن وے کے طور پر استعمال کریں گے۔
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی اور اس آگ میں نہ کسی ملک کا صدر جلے گا نہ وزیر اعظم، اس آگ میں ماضی میں بھی غریب اور بے گناہ عوام ہی جلتے رہے ہیں، حال میں بھی وہی جلیں گے اور اگر دنیا کی قیادت تنگ نظر سیاستدان ہی کرتے رہے تو مستقبل میں بھی غریب اور معصوم عوام ہی ان جنگوں کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو کشمیر پر قبضے کے لیے نہیں کشمیری عوام کی بہتری کے لیے حل کیا جائے۔ تاکہ 68 سال سے بہتا ہوا خون رک سکے۔