گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال پھل وسبزیوں کی برآمدات مکمل بند

1200سے زائد کنٹینرز راستے میں کھڑے ہیں، ایکسپورٹرز کے ڈیڑھ کروڑ ڈالر پھنس گئے


Business Reporter December 11, 2012
پھل وسبزیاں ضائع، سرگودھا میں کینو پراسیسنگ کی 250 فیکٹریاں بند ہونے کا خدشہ۔ فوٹو: ایکسپریس / فائل

گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث ملک سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات مکمل طور پر بند ہوچکی ہیں۔

سرگودھا میں کینو پراسیسنگ کی 250 فیکٹریاں بند ہونے کا خدشہ ہے، ہڑتال کے سبب بندرگاہ جانے والے پھل اور سبزیوں کے 1200سے زائد کنٹینرز راستے میں کھڑے ہوئے ہیں جس سے ایکسپورٹرز کے 1.5کروڑ ڈالر کا سرمایہ بھی پھنس کر رہ گیا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق ہڑتال کے سبب کینو کے 700اور پیاز کے 400کنٹینرز پھنس گئے ہیں جس میں موجود کینو اور پیاز مزید تاخیر کی صورت میں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی جانب سے آلو پیاز پر درآمدی سیس 35روپے فی کلو کم کردیا گیا جس سے پاکستان کے لیے سری لنکا کو آلو پیاز کی برآمد کا بہترین موقع ملا ہے تاہم ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے سبب سری لنکا کو بھاری مالیت کی پیاز کی برآمد رک گئی ہے جبکہ تاخیر کی وجہ سے 20لاکھ ڈالر کے آلو کی ایکسپورٹ کے آرڈرز پاکستان کے بجائے بھارت کو مل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے سبب کراچی بندرگاہ سے خالی کنٹینرز کی اندرون ملک روانگی بھی معطل ہے، اسی طرح ملک بھر میں تجارت کا پہیہ جام ہے۔

5

وحید احمد نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز پر زور دیا کہ ملکی مفاد میں ہڑتال فی الفور ختم کرائی جائے، ہائے ویز پر مقررہ وزن سے زائد ٹرک چلنے سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی جس سے خود ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا، اس لیے ٹرانسپورٹرز اپنی ضد ختم کرتے ہوئے مقررہ وزن کی پابندی کریں۔

دریں اثنا پاکستانی ایکسپورٹرز نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر 12 سے 13 دسمبر ممبئی میں ہونے والی فوڈ اینڈ گراسریز کی نمائش میں شرکت منسوخ کردی ہے، پاکستانی ایکسپورٹرز کو نمائش کے ساتھ بزنس فورم میں بھی شرکت کرنا تھی جو اب منسوخ کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں