معلومات تک رسائی اور بیوروکریسی

حکومت پاناما لیکس کی تحقیقات کرانے کو تیار نہیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan October 01, 2016
[email protected]

WASHINGTON: حکومت پاناما لیکس کی تحقیقات کرانے کو تیار نہیں۔ غیر ملکی تفتیشی رپورٹنگ کرنے والے اداروں کی رپورٹنگ کے نتیجے میں یورپی ممالک میں خفیہ کمپنیاں قائم کرنے والے افراد کے نام افشا ہو رہے ہیں۔

سرکاری ادارے کسی قسم کی معلومات تک رسائی کے لیے تیار نہیں۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں نے اطلاعات کے حصول کے لیے بہتر قوانین نافذ کیے مگر وفاقی حکومت، سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں اطلاعات اور معلومات کی رسائی کے قوانین کو بہترکرنے کے دعوؤں پر ٹرخا رہی ہیں۔ حکومتی وزراء کہتے ہیں کہ معلومات تک رسائی میں بیوروکریسی رکاوٹ ہے۔

کہا گیا ہے کہ سینیٹ کمیٹی نے جو بل منظور کیا ہے وہ قومی اسمبلی سے منظور کرا کے نافذ کیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اﷲ بابر جو سینیٹ میں شفاف نظام کے بڑے داعی ہیں، پارلیمنٹ سے اطلاعات کے حصول کے قانون کو منظور نہ ہونے کی وجہ اقتدارکی بالا قوتوں کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہمیشہ سے شفاف نظامِ حکومت پر بحث ہوتی رہی ہے۔

فلسفیوں نے ریاستی اداروں میں شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کو معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے سے منسلک کیا ہے۔ بعض فلسفیوں کا خیال ہے کہ اگر ریاستی ادارے بدعنوانی سے پاک ہونگے تو ان کی کارکردگی بہتر ہو گی اور معاشرتی اداروں میں شفافیت آئے گی۔ ریاست پر عوام کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے جمہوری اداروں کے قیام کی اہمیت کو ضروری سمجھا گیا۔

جمہوری اداروں کے قیام اور منتخب نمایندوں کے انتخاب کے لیے عوام کی معلومات تک رسائی لازمی قرار دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ معلومات تک رسائی کے لیے قانون سازی پر توجہ مبذول ہوئی۔ سوئٹزرلینڈ میں 19 ویں صدی میں معلومات تک رسائی کا قانون نافذ ہوا۔ برطانیہ میں 20 ویں صدی کے اوائل میں اس بارے میں قانون سازی ہوئی۔ امریکا، برطانیہ اور یورپی ممالک میں 20 سال بعد سرکاری دستاویزات تک عوام کی رسائی کے قوانین پہلے سے نافذ تھے۔

اب عام آدمی کے لیے برطانوی وزیراعظم کی قیام گاہ 10 ڈاؤن اسٹریٹ اور امریکی صدر کی قیام گاہ وہائٹ ہاؤس میں ہونے والے اخراجات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہو گیا۔ پاکستان میں 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 19 کے ذریعے شہریوں کا آزادئ صحافت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ ذرایع ابلاغ آزادئ صحافت کے حق کے ذریعے ریاستی اداروں کی نگرانی کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

پھر ملک میں یہ تصور عام ہوا کہ ذرایع ابلاغ اطلاعات کی فراہمی کا حق اس وقت تک انجام نہیں دے سکتے، جب تک عوام کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل نہ ہو۔ جماعتِ اسلامی کے سینٹر خورشید احمد نے معلومات تک رسائی کے حق کو قانونی تحفظ دینے کے لیے 1987ء میں سینیٹ میں ایک مسودہ قانون جمع کرایا تھا مگر سینیٹ کے اراکین اس قانون کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکے۔

جنرل ضیاء الحق نے قومی اسمبلی اورسینیٹ کو توڑ دیا، اپنے نامزد کردہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کو برطرف کیا اور ملک میں شریعت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا مگر 1988ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے اپنے اپنے منشور میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی دوسری اور تیسری حکومت یہ قانون نافذ کرنے میں ناکام رہی۔ یہی صورتحال مسلم لیگ ن کی پہلی حکومت کی ہوئی، جب پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق لغاری نے اپنی حکومت کو برطرف کیا اور ملک معراج خالد کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی تو اس عبوری حکومت نے اطلاعات کے حصول کا قانون آرڈیننس کی صورت میں نافذ کیا۔ یہ ایک کمزور قانون تھا۔

بعد میں مسلم لیگ کی حکومت اپنا وعدہ پورا نہ کر سکی اور 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ پرویز مشرف نے اپنی پہلی تقریر میں نجی شعبے میں الیکٹرونک میڈیا کی اجازت دینے اور اطلاعات کے حصول کا قانون بنانے کا عندیہ دیا۔ ان کے وزیر اطلاعات جاوید جبار نے معلومات تک رسائی کے قانون کی تیاری کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشورے کیے مگر یہ کام مکمل ہونے سے پہلے مستعفی ہو گئے۔

نثار میمن وزیر اطلاعات بنے اور2002ء کے انتخابات کے بعد پی سی او کے تحت جو قوانین نافذ کیے گئے ان میں اطلاعات کے حصول کا قانون بھی شامل تھا۔ بعد میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی اس قانون کا چربہ اپنے اپنے صوبے میں نافذ کیا۔ یہ ایک کمزور قانون ہے۔ وفاق کی اہم وزارتیں اس قانون سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ قانون کیونکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش نہیں ہوا تھا، اس لیے اراکینِ پارلیمنٹ اس کو بہتر بنانے کے لیے ترمیمات پیش نہیں کر سکے۔

2006ء میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں میثاقِ جمہوری پر اتفاقِ رائے ہوا۔ اس میثاق میں دونوں رہنماؤں نے عہد کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد آئین میں ترمیم کر کے عوام کے جاننے کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 19-A شامل کی گئی۔ اب عوام کے جاننے کے حق کو آئینی تحفظ حاصل ہوا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت اطلاعات کے حصول کے قانون کو بہترنہیں بنا سکی۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ 2002ء کی قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمن اور سینیٹ کے رکن فرحت اﷲ بابر اس قانون کو بہتر بنانے کے لیے آوازیں بلند کرتے رہے تھے مگر اپنی حکومت میں بدعنوان کلچر کی دیوار کے آگے خاموش ہو گئے۔ پھر مسلم لیگ نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا۔

اس دوران پنجاب اور خیبرپختون خوا کی حکومتوں نے اطلاعات کے حصول کے قوانین نافذ کیے۔ خیبرپختون خوا کا قانون زیادہ جامع ہے مگر پنجاب میں اطلاعات کے حصول کے قانون کے ذریعے عام آدمی کو انصاف ملنے لگا جس کے نتیجے میں دونوں صوبوں میں طرزِ حکومت بہتر ہوا۔ غیرشفاف معاملات افشا ہونے سے بدعنوانی کے کئی اسکینڈل افشا ہوئے مگر وفاق اور سندھ کی حکومتوں نے اس بارے میں خاموشی اختیارکر لی۔

فرحت اﷲ بابر نے سینیٹ میں اطلاعات کے حصول کے قانون کا مسودہ پیش کیا۔ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے طویل بحث و مباحثے کے بعد ایک قانون کا مسودہ منظورکیا مگر مسلم لیگی حکومت اس مسودے کو قانون بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کرنا چاہتی۔

اب اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئی ہیں کہ سندھ حکومت ایک مسودے کو آخری شکل دے رہی ہے مگر یہ مسودہ ابھی تک ذرایع ابلاغ کی زینت نہیں بنا، یوں اس مسودہ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ اس سال آزادئ صحافت کے عالمی دن کے موقعے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف پر زور دیا تھا کہ وہ اطلاعات کے حصول کے قانون کو بہتر بنائیں مگر اپنی حکومت کو یہ ہدایت نہیں دے سکے۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہے۔ یہ حکومت اپنی مرضی کے قانون چند گھنٹوں میں منظورکرا لیتی ہے مگر بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر تیار نہیں۔ یہی صورتحال حکومت سندھ کی ہے۔ فرحت اﷲ بابر وفاق میں تو نعرے لگا رہے ہیں مگر اپنی حکومت کو قانون بنانے پر تیار نہیں کر سکے۔ سینیٹر اعتزاز احسن پاناما لیک کو بدترین بدعنوانی قرار دیتے ہیں مگر بدعنوانی کی جڑوں کوکاٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

وفاقی حکومت اور سندھ کی حکومت پر روز بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیب وفاقی وزارتوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو وزیر اعظم کہتے ہیں کہ نیب کے پر کاٹنے چاہئیں۔ اسی طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ نیب اور ایف آئی اے کے سندھ میں مداخلت کے خلاف ہیں مگر یہ دونوں حکومتیں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کے لیے تیار نہیں۔ معلومات تک رسائی کے جامع قوانین سے ریاستی ادارے شفاف ہو سکتے ہیں، یوں جمہوری نظام مستحکم ہو سکتا ہے جس کا فائدہ عوام کو ہو گا۔

(وضاحت ) مدارس میں اصلاحات کے موضوع پر شایع ہونے والے آرٹیکل میں ایک سطر نامکمل شایع ہوگئی مکمل سطر یہ ہے سندھ میں علماء مدارس میں اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں۔