مسلم ملکوں کی بادشاہتیں
اگر کوئی شدید قوی ضرورت ہوئی تو عوام ایک وزیراعظم یا صدر کو دوسری بار ملک کا سربراہ چن لیتے ہیں
مغربی ملکوں کی سیاسی جماعتوں میں ایک اچھی روایت یہ ہے کہ ان جماعتوں کے رہنما عموماً ایک بار برسر اقتدار رہ کر باقی عمر کا حصہ اﷲ اﷲ کرتے، کھیتی باڑی کرتے یا سماجی خدمات میں گزار دیتے ہیں۔
اگر کوئی شدید قوی ضرورت ہوئی تو عوام ایک وزیراعظم یا صدر کو دوسری بار ملک کا سربراہ چن لیتے ہیں، لیکن ان انسان کے بچوں میں زندگی بھر اقتدار سے چمٹے رہنے کی گھٹیا خواہش نہیں ہوتی نہ کوئی سربراہ اپنے پورے خاندان آل اولاد کو عوام کے سروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پسماندہ ملکوں کے عاشقان اقتدارکو اگر موقع ملے تو وہ اپنی آخری سانس بھی ایوان اقتدار میں ہی لینے کی کوشش کریںگے۔ عوام ان پر لعنتیں بھیجتے ہیں، ان کے دفع ہونے کی دعائیں کرتے ہیں۔
اخبارات اور چینلوں پر مبصرین عاشقان اقتدار کی، اقتدارکی خواہش پر لعنتیں بھیجتے ہیں لیکن ان کی غیرت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ لعنت ملامت بھی شیریں بیانی سمجھ کر پی جاتے ہیں اور ان کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اندر سے شرمسار ہونے کے باوجود میڈیا کے سامنے اپنے آپ کو اس قدر ہشاش بشاش ظاہرکرتے ہیں کہ یہ عوام کے محبوب حکمران ہیں۔ اقتدار کی بے شرمانہ خواہش کو پورا کرنے کے لیے آئین میں ترامیم تک کروالیتے ہیں۔
ہمارے ملک کی اقتداری تاریخ میں کوئی ایک بھی جمہوری حکمران ایسا نہیں گزرا کہ اس نے عوام کے مسائل حل کرکے عوام کی خوشنودی حاصل کی ہو اور عوام اپنی خوشی سے اسے دوبارہ اقتدار میں لائے ہوں۔ یہ سب ہمارے انتخابی نظام اور اقتدار کا کرشمہ ہے کہ ایسے عوام کے مستردکردہ لوگ بھی بار بار اقتدار میں آتے ہیں جن کا عوام اور عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
یہ صورت حال مسلم ملکوں میں ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہے، ہمارے محققین کی ذمے داری یہ ہے کہ مسلم اشرافیہ کی اقتدار سے غیرمعمولی بلکہ دیوانگی کی حد تک خواہش کی وجوہات اور نفسیات کا مطالعہ و مشاہدہ کرکے اس موروثی بیماری کو ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ مسلم ملکوں میں صحیح معنوں میں جمہوریت کی راہ ہموار ہوسکے اور عوام کو ان مسائل سے نجات مل سکے جو 69 سالوں سے ان کا مقدر بنے ہوئے ہیں۔
غیر منقسم ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے لگ بھگ ایک ہزار سال تک حکومت کی اور ان حکمرانوں کی اقتدار کے لیے دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ باپ بیٹے کو قتل کرادیتا تھا اور بیٹے باپ کو کال کوٹھڑیوں میں اس طرح پھینک دیتے تھے کہ وہ مرکر ہی ان کال کوٹھڑیوں یا قید خانوں سے باہر آسکتے تھے۔
ہمارے پڑوسی ملک کے سیاست دان بھی اقتدار کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن ان میں اقتدار کی کرسی سے مع خاندان چپکے رہنے کی بیماری نہیں نظر آتی کیوںکہ وہاں پارٹیوں پر کسی فرد واحد یا کسی ایک خاندان کا قبضہ نہیں ہوتا۔
بھارت کے موجودہ وزیراعظم کا تعلق ایک بہت ہی نچلے طبقے سے ہے اور بھارت میں 69 سالوں سے نچلے اور درمیانہ طبقے کے سیاست دان ہی وزارت عظمیٰ پر فائز چلے آرہے ہیں کیوںکہ ایک تو وہاں آزادی کے حصول کے فوری بعد اس عوام دشمن جاگیردار طبقے کو ختم کردیاگیا جو سازشوں کی سیاست کے ذریعے اشرافیہ کو اقتدار میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے دوسرے یہ کہ وہاں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو آگے لاکر صوبوں اور مرکز میں برسر اقتدار رہنے کے جمہوری راستے مہیا کردیے گئے۔
بھارت جیسی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ٹریڈ یونین رہنماؤں سے ڈھابے پر کام کرنے والے نچلے طبقوں کے لوگ وزارت عظمیٰ پر بغیر انتخابی دھاندلیوں کے فائز رہے۔
آج آپ پورے عالم اسلام پر نظر ڈال لیں ہر ملک میں یا تو آپ کو دنیا کا مسترد نظام بادشاہی ہی نظر آئے گا یا پھر ایسی اشرافیائی جمہوریتیں نظر آئیںگی، جو اس ملک میں جمہوریت کے نام پر خاندانی نظام مسلط کر رکھی ہیں۔
پاکستان ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے اگر اس ملک کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانا ہو تو سب سے پہلے اشرافیائی جمہوریت کا خاتمہ کرنا ہو گا، جو اس ملک پر آنے والی صدیوں تک اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ولی عہدی نظام کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے اس کلچر کے پھیلاؤ کا عالم یہ ہے کہ ولی عہدی نظام صرف چند اشرافیائی جماعتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ مڈل کلاس کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں تک یہ سیاسی طاعون پھیل چکا ہے۔
آج دنیا بھر میں ہر ملک سائنس وٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے ہر ملک میں صنعتوں کے فروغ کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ تعلیم کے شعبے کو جدید علوم سے سینچا جارہاہے۔
بھارت جیسا پسماندہ ملک مصنوعی سیارے خلا میں بھیج رہا ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترقی دی جارہی ہے لیکن اگر ہم اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو آپ کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دھول اڑتی نظر آئے گی اور صنعتی شعبے میں سناٹا نظر آئے گا کیونکہ یہ شعبے جو ملکوں کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھاتے ہیں ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کی ساری توجہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوٹ مار پر لگی ہوئی ہے اور یہ کام ہماری اشرافیہ جس مہارت سے کررہی ہے دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ چھوٹے چھوٹے ایسے منصوبوں پرغور ہی نہیں کیا جاتا، جو عوامی مسائل میں کمی لاسکیں۔ اس کے برخلاف اربوں کھربوں کے ایسے منصوبوں پر رات دن کام ہورہا ہے جن میں اربوں کی ''بچت'' یقینی ہوتی ہے۔
آج کل چین کی ساجھے داری کے ساتھ ''اقتصادی راہداری'' ہماری اشرافیہ کی پہلی ترجیح ہے کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے عوام کی قسمت بدل جائے گی لیکن یہ نہیں بتایا جارہاہے کہ یہ منصوبہ عوام کی قسمت کیسے بدل دے گا اور عوام کس طرح خوشحال ہوںگے؟
یہ ایک سراب ہے جو عوام کو دکھایا جارہا ہے کیونکہ منصوبے کتنے ہی بڑے ہوں کتنے ہی قیمتی ہوں عام طور پر ان کا فائدہ سیاسی اشرافیہ کو ہی ہوتا ہے،کروڑ پتی ارب پتی بن جاتا ہے اور ارب پتی کھرب پتی بے چارے عوام کو اگر ان منصوبوں سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو وہ ہے روزگارکے محدود مواقعے۔
ہماری اشرافیہ 69 سالوں سے اپنی ان کارروائیوں میں اگرچہ اقتدار، عوام کی دولت اور ریاستی مشینری کے بے دریغ استعمال سے کامیاب ہورہی ہے لیکن اس حوالے سے اس کی سب سے بڑی مدد گار وہ مڈل کلاس ہے جو حکومت سے جڑی ہوئی ہے اور اپنے ضمیر کو روند کر حکمرانوں کا بھونپو بنی ہوئی ہے۔