کرپشن کا پاکستانیوں کے خلاف جہاد

ہم جب تک ہم بدعنوانی کے خلاف موجودہ رویوں اور خراب نیتوں کے ساتھ لڑتے رہیں گے تب تک نتیجہ صفر بٹا صفر ہی رہے گا۔


احمد نواز October 02, 2016
کرپشن کے خلاف ایک موثر اور طاقتور نظام کے ذریعے ایک بھرپور مہم چلائے بغیر کرپشن ختم کرنے کے دعوے کرنا کرپشن مکاؤ کی بجائے کرپشن بچاؤ کے زمرے میں ہی آئے گا۔

کرپشن اور ہیرا پھیری کی وبا نے جس قوت بے ایمانی کے ساتھ پوری قوم کو آگے بلکہ الٹا لٹکا رکھا ہے، اسے دیکھ کر اب اس دیرینہ غلط فہمی کی تصیح کرلینے میں کوئی حرج نہیں کہ حقیقت میں کون کس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ خاص طور پر گزشتہ تین دہائیوں سے اہلیان پاکستان نے کرپشن کا جینا حرام کر رکھا ہے یا کرپشن نے اہلیان پاکستان کا؟ اس کُلی یکطرفہ جہاد میں ابتک کون کون عزیز و اقارب سمیت کیا کیا سمیٹ کر چلتا بنا اور کون بدنصیب ہمیشہ کی طرح تالیاں بجاتے اور منہ سے مکھیاں ہٹاتے ہی رہ گئے؟ اس قومی راز کا سراغ لگانے کے لئے ابن بطوطہ کی قبر پر حاضری دینے کی ضرورت نہیں، اس کے لیے قومی اخبارات اور میڈیا میں کرپشن اور ہیرا پھیری کی مذمت میں روازنہ کی بنیادوں پر تھوک کے حساب سے ہونے والی آہ و فغاں اور بحث و تکرار ہی بطور فریق ہمیں اپنی خستہ حالی اور کسمپرسی کا احساس دلانے اور ہوش میں لانے کے لیے کافی ہونی چاہیئے۔

مزید تسلی کے لیے قومی خزانے پر چڑھے ہوئے قرضوں کا حجم، متاثرہ عوام کی حالت زار، بیرون ممالک پرائی ملکیت میں نشوونما پاتی عوامی دولت اور غریب اور کرپٹ ممالک میں ہماری تازہ رینکنگ کو سامنے رکھ کر بھی یہ طے کیا جاسکتا ہے کہ متاثرہ اور تھلے لگے ہوئے فریق کا اعزاز کس خوش نصیب کے حصے میں آتا ہے؟ اگر اس گھسی پٹی دلیل سے بھی دل کی خاطرخواہ تشفی نہ ہو تو اپنی معاشرتی، معاشی اور اخلاقی صحت سے اندازہ لگا لیجئے کہ ہمارے پاس کرپشن اور ہیرا پھیری کے ہاتھوں مزید ذلیل و خوار ہونے کی کتنی گنجائش اور کتنی مہلت باقی ہے؟

اس میں شبہ نہیں کہ مال و زر اور اثاثوں کی شدید محبت نے ایک عالم میں لوٹ مار اور بے ایمانی کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اس کی آگ سے قریباً ہر سینہ حسب توفیق گرم تندور کی طرح دہکتا نظرآتا ہے۔ مگر جو لوٹ روزِ اول سے ہمارے یہاں مچی ہوئی ہے اس کی تشہیر کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ سرمائے کی محبت میں لوگ لوٹ مار، دھوکہ دہی، فراڈ، بے ایمانی، ملاوٹ، زخیرہ اندوزی، ٹیکس چوری اور اس طرح کی بے شمار دوسری غیر قانونی اور غیر اخلاقی آپشنز سے مستفیض ہوتے نظر آتے ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں بے ایمانی اور لوٹ مار کا راج نہیں۔ جس کو دیکھو اوپر سے نیچے تک حسبِ توفیق جہاں تک ہوسکے جس طرح بن سکے مال و زر اکٹھا کرنے میں جتا ہوا ہے۔

مال و زر کی محبت میں غرق لوگ جوق در جوق دائرہ کرپشن میں داخل ہوتے نظرآتے ہیں۔ اصل تشویش ناک بات یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے مال پر بغیر کسی شرعی عذر کے ہاتھ صاف کرنا اپنا جائز پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کرپشن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود سائل بھی سرکاری دفاتر میں جب تک کچھ دے دلا نہ لیں ان کی دلی تسلی اور روحانی تشفی نہیں ہوتی۔ لہذا عوام بھی سرکاری دفاتر میں ذلیل و خوار ہونے کے بجائے اسپیڈ منی ادا کرکے اپنا کام نکلوانے کو اب باقاعدہ ایک باعزت آپشن سمجھنے لگے ہیں۔ ان حالات میں اپنے قومی ضمیر کو جگائے بغیر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے بغیر کرپشن فری پاکستان کی باتیں کرنا اور کرپشن فری پاکستان کے نعرے لگانا محض وقت گزاری اور وقت ضائع کرنے کے مترداف ہے۔

کرپشن کے خلاف ہمارا جوابی جہاد بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کرپشن وہ برائی نمبر ون ہے جس کے خلاف وطن عزیز میں کسی خاطر خواہ سنجیدگی اور ٹھوس لائحہ عمل کے بغیر بھی 12 مہینے جہاد کا سا ماحول بنا رہتا ہے۔ ہمارا کرپشن کے خلاف جہاد ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے شروع ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے مک مکا کرنے پر ختم ہوجاتا ہے۔ پھر دھرنوں سے لے کر ٹرین مارچ تک ایک دوسرے کا منہ کالا کرنے، شرم دلانے، غیرت جگانے، پیٹ پھاڑنے، گلیوں میں گھسیٹنے سے لے کر سرِعام الٹا لٹکانے کے نعروں تک سبھی حربے آزمائے جاتے ہیں۔ کوئی سیاسی جلسہ، کوئی حکومتی سیمینار، کوئی سیاسی فورم اور کوئی عوامی محفل ایسی نہیں ہوتی جس میں معاشرے کے کرپٹ عناصر کو بُرا بھلا نہیں کہا جاتا یا لعن طعن نہیں کی جاتی۔ حتیٰ کہ شادیوں اور جنازوں کی تقریبات میں بھی لوگ ایک دوسرے کے کرپٹ لیڈروں کو گالیاں دے کر کرپشن کے ہاتھوں پہنچنے والے جذباتی صدموں کو رفع کرتے پائے جاتے ہیں۔

کرپشن کے خلاف جہاد میں ہمارے انسداد کرپشن کے قومی ادارے بھی زبانی جمع خرچ میں کسی سے پیچھے نہیں۔ یہ ادارے پوری نیک نیتی کے ساتھ کرپشن کے خلاف جنگ کو طول دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ باقی طبقوں اور اداروں کی سنجیدگی کے بھی کیا کہنے، درد دل رکھنے والے صاحبان اقتدار ہوں یا محب وطن سیاست دان، فرض شناس سرکاری افسران ہو یا انصاف پسند جج صاحبان، باضمیر صحافی ہوں کاروباری حضرات سبھی با آواز بلند اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کی دوڑ میں کرپشن آگے آگے ہے اور پاکستان پیچھے پیچھے اور ان کے پیچھے پیچھے بھوک، غربت اور جہالت سے نبرد آزما غریب عوام کرپشن کے خلاف جہاد میں کامیابی کی واحد صورت یہی ہے کہ محض رونے پیٹنے اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے پاکستان کی خیر خواہی کا دم بھرنے والی سبھی سیاسی جماعتیں موثر اور بلا تفریق احتساب کا ایسا نظام بنانے پر رضامند ہوسکیں، جس میں ہر رنگ و نسل کے ہر قومی چور اور ہر قومی ڈاکو کا بلا تفریق محاسبہ ممکن ہو سکے۔

کرپشن کے خلاف ایک موثر اور طاقتور نظام کے ذریعے ایک بھرپور مہم چلائے بغیر کرپشن ختم کرنے کے دعوے کرنا کرپشن مکاؤ کی بجائے کرپشن بچاؤ کے زمرے میں ہی آئے گا۔ جب تک ہم بدعنوانی کے خلاف موجودہ رویوں اور خراب نیتوں کے ساتھ لڑتے رہیں گے تب تک نتیجہ صفر بٹا صفر ہی رہے گا اور ہم کرپشن کے ہاتھوں اسی طرح پٹتے رہیں گے۔
کیا پوچھتے ہو عالم رفتار عہد ِنو
ہر سمت بس فریب کا بازار گرم ہے

[poll id="1232"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected] پر ای میل کریں۔