ملکی سلامتی اور مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ
مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی
لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر غور کے لیے پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو اسے جارحیت تصور کیا جائے گا' مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں جب کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے نہ صرف دہشت گردی کے الزامات بلکہ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کا بے بنیاد دعویٰ بھی مسترد کرتے ہیں' اعلامیہ میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت کا مذاکرات اور سارک کانفرنس میں نہ آنا افسوسناک ہے تاہم پاکستانی قیادت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کا بھارتی دعویٰ بھی مسترد کرتی ہے' کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں' مسئلہ کشمیر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے عوام' سیاسی جماعتیں اور افواج متحد ہیں۔
اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری' خورشید شاہ' اعتزاز احسن' شیریں رحمان' شاہ محمود قریشی' شیریں مزاری' محمود خان اچکزئی' غلام احمد بلور' میر حاصل بزنجو' سراج الحق' مولانا فضل الرحمن' ڈاکٹر فاروق ستار' ق لیگ اور پارلیمنٹ میں فاٹا کے پارلیمانی رہنما بھی شریک ہوئے۔ سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اجلاس کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا' وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا معاملہ اٹھایا۔
گزشتہ چند روز سے جاری پاک بھارت کشیدگی سے قومی سطح پر نمٹنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس کا انعقاد وقت کی ضرورت بن چکا تھا' اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تمام قومی سیاسی قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے بھارت اور پوری دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم ملکی سلامتی اور مسئلہ کشمیر پر یکجا ہے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے بھی یہ خوش آیند پیغام دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن جب ملکی سلامتی اور بقا کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کے لیے متحد ہو کر ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں وہ اور حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر ہیں۔ بھارتی حکومت اور اس کی عسکری قیادت چند روز سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے تھے، اس تناظر میں یوں محسوس ہوتا تھا کہ پاک بھارت جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی اور پورے خطے کا امن داؤ پر لگ سکتا ہے۔
ان حالات میں تمام اپوزیشن سیاستدانوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہو چکا تھا لہٰذا اس مقصد کے پیش نظر وزیراعظم نے اسلام آباد میں پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس بلایا۔ کانفرنس کے بعد تمام سیاستدانوں نے اپنے بیانات دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے حکومت کا ہر ممکن ساتھ دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بڑے پرجوش انداز میں کہا کہ بھارت ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو جواب دینے کے لیے تیار ہیں' وہ ہمیں آزمائے گا تو منہ کی کھائے گا' بھارت کشمیریوں پر ظلم کر کے اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔
مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی' بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہو کر جواب دینے کی ضرورت ہے اور کشمیر کے موقف پر تمام سیاسی جماعتوں کا متحد ہونا قابل فخر ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے کا یقین دلاتے ہیں' تمام سیاسی جماعتوں کا مسئلہ کشمیر پر متفق ہونا بہت اچھی بات ہے' کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ جہاں تک اڑی حملے کا تعلق ہے تو مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بھارتی تسلط کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں لہٰذا بھارتی مظالم کے جوابی ردعمل کے طور پر کشمیریوں کا بھارتی فوج پر حملے اچنبھے کی بات نہیں' ایسے کئی حملے پہلے بھی ہوچکے ہیں' اتوار کو بھی مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولہ میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ ہوا جس میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا' جب تک بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے ایسے حملے ہوتے رہیں گے۔
ان میں پاکستان کو کسی بھی طور پر ملوث کرنا قطعی طور پر درست نہیں۔ ادھر بھارت نے ایک پاکستانی کشتی کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے' اس کا بھی وہ کوئی ثبوت نہیں دے سکا۔ ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ گزشتہ 50برس سے شراکت داری کے نمونے کے طور پر قائم ہے دونوں ممالک اس معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کریں' امید ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے لہٰذا بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا' اگر مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ ایسا کرتا ہے تو یہ عالمی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو گی اور پاکستان اس مسئلے کو عالمی بینک کے سامنے اور اقوام متحدہ میں اٹھا سکتا ہے۔