ملکی معیشت کی ادارہ جاتی مضبوطی ناگزیر

پاکستان کو پھلوں کے علاوہ دیگر تمام خوردنی اشیا کی برآمد میں نمایاں کمی کا سامنا ہے


Editorial October 03, 2016
فوٹو: فائل

ملکی معیشت کے مثبت نشیب وفراز کسی بھی جمہوری ملک کے استحکام اور ترقی کا زینہ ہوتے ہیں تاہم معیشت حکومتی دعوؤں کے برعکس منفی اشاریئے دے رہی ہو اور حقیقی معنوں میں عوام جمہوری ثمرات سے محرومی کا رونا روتے نظر آئیں تو ایسی معیشت اعلانیہ اور بلند بانگ حکومتی اقتصادی اقدامات کے شور کے باوجود بے یقینی کی دھند سے نجات نہیں پا سکتی چنانچہ رواں سال کے اقتصادی اور ہمہ جہتی معاشی اقدامات کا ملا جلا رد عمل اخباری رپورٹس اور ماہرین کے معاشی تجزیوں میں حقائق کی تصویر کشی کرتے ہیں ، اب یہ عوام اور اپوزیشن جماعتوں کا کام ہے کہ وہ جمہوری ثمرات اور حکومتی ریلیف سے متعلق زمینی معاشی حقیقت سامنے لائیں۔

مثال کے طور پر وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے حکومتی ترجیحات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سرحدی تجارت اور پاکستان آنے اور جانے والے افراد پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی، اتوار کو کوارٹر ماسٹر جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل جاوید بخاری نے انھیں ملکی سرحدوں پر قائم بارڈر چیک پوائنٹس کے بارے میں بریفنگ دی، وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی تجارت اور مختلف اشیا کی آمدورفت میں اضافے کے باعث سرحدی پوائنٹس پر جدید ٹرمینل کا قیام وقت کی ضرورت ہے، بارڈر پوائنٹس پر جدیدآلات کی تنصیب تجارتی ریگولیشن بلکہ امیگریشن اور سیکیورٹی کے لیے بھی ضروری ہے ۔

بعض خبروں کے مطابق پاکستان کو پھلوں کے علاوہ دیگر تمام خوردنی اشیا کی برآمد میں نمایاں کمی کا سامنا ہے ، رواں مالی سال جولائی اور اگست کے دوران خوردنی اشیا کی برآمد کے مقابلے میں درآمدات کے رجحان میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کو خوردنی اشیا کی تجارت میں 48کروڑ 81لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا ، وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران پاکستان نے برطانیہ کو 1.355 ارب یورو کی برآمدات کی تھیں جب کہ برطانیہ سے 0.704 ارب یورو کی درآمدات کی گئیں۔ اس طرح پاک برطانیہ باہمی تجارت کے تحت تجارتی توازن پاکستان کے حق میں رہا ہے ، یہ مثبت پیش رفت تھی جب کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بلندی کے نئے تاریخی ریکارڈ کے ساتھ 23.58ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں ، دریں اثنا پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ ایشیا کی نمبر ون ہونے کی خوشخبری دی گئی ، سال کے پہلے 9 ماہ کی کارکردگی سے بھارت، جاپان سمیت ایشیا کی تمام اسٹاک مارکیٹوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، یہ رپورٹ سی این بی سی نے دی ہے۔

واضح رہے پاکستان سے غذائی اشیاء کی ایکسپورٹ رواں مالی سال 2016-17ء کے ابتدائی دو ماہ (جولائی، اگست) میں 23.15 فیصد کمی سے 39 کروڑ 51 لاکھ 88 ہزار ڈالر رہی گزشتہ مالی سال 2015-16ء کے ابتدائی دو ماہ میں غذائی اشیاء (فوڈ گروپ) کی ایکسپورٹ 51 کروڑ 42 لاکھ 18ہزار ڈالر رہی اور ملک میں غیر ملکی سامان کی بھرمار سے ٹائلز، کاٹن یارن، پرنٹنگ، لوہا اور جست سمیت کئی مقامی صنعتیں شدید متاثر ہوگئی ہیں، مقامی مصنوعات کو تحفظ فراہم کرنے والا ادارہ نیشنل ٹیرف کمیشن پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، اسی طرح آیندہ دنوں میں پھٹی کی رسد میں اضافے کے باعث روئی کے بھاؤ میں مزید گراوٹ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے دوسری جانب ٹیکسٹائل و اسپننگ سیکٹر کی پیداواری لاگت زیادہ ہونے سے برآمدات مسلسل گھٹ رہی ہیں، ادھر وزارت پانی و بجلی نے کہا ہے کہ تربیلا فور توسیعی منصوبے پر کام مئی 2017ء میں مکمل ہو جائے گا ۔

منصوبے پر 92کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور اس سے 1410 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہو گی تاہم گرمی کی شدت میں اضافے اور چند پیداواری یونٹس بند ہونے کے باعث لاہور سمیت پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں میں بجلی کی طویل اور بدترین غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا۔ یہ اطلاعات ملک کو درپیش کئی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں، معاشی ماہرین نے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بعض سخت اقدامات ، آئی ایم ایف کے قرضہ جاتی پروگرام کی گزشتہ ہفتہ تکمیل ، برآمدات اور ترسیلات زر میں مسلسل کمی، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل، انفرااسٹرکچر کے پھیلاؤ کے باوجود رزگار کی فراہمی کی بندش اور پاکستانیوں کی دیار غیر سے جبری واپسی وہ چیلنجز ہیں جن کا ازالہ ناگزیر ہوگا، اس لیے بار بار غیر ملکی زر مبادلہ کے تاریخی ذخائر کا ذکر کرنے سے بہتر ہے کہ قومی معیشت ادارہ جاتی استحکام کا یقینی سنگ میل عبور کر لے۔