لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

اس دن اچانک ایک بہت ہی پرانے دوست سے اچانک سر بازار ملاقات ہوئی۔


Saad Ulllah Jaan Baraq October 05, 2016
[email protected]

اس دن اچانک ایک بہت ہی پرانے دوست سے اچانک سر بازار ملاقات ہوئی۔ یہ ہمارے اس زمانے کا دوست تھا جب ہم دونوں کی ''گرفتاری'' عمل میں نہیں آئی تھی بلکہ یوں کہیے کہ ڈبل گرفتاری نہیں ہوئی تھی یعنی نوکری ملی تھی اور نہ شادی ہوئی تھی اور ہم ''دونوں'' انھی ''دونوں'' کی تلاش میں تھے اور ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھے۔

ان دنوں موصوف کو اپنے سے زیادہ ''دنیا' کی فکر تھی اور وہ پوری دنیا سے ظلم مٹا کر انسانیت کا بول بالا کرناچاہتا ہے، اس کی باتوں میں زیادہ تر مارکس، اینگلز اور لینن کے حوالے ہوتے تھے اور ہر بات میں داس کیپٹال داس کیپٹال کرتا رہتا تھا، کھانے میں اسے کدو سے چڑ تھی تو ہمیں کریلے سے بیر تھا جب کہ اسے کریلے اور ہمیں کدو بے حد پسند تھے، البتہ اس بات پر ہم دونوں کا اتفاق تھا کہ یہ دنیا انتہائی بگڑی ہوئی ہے اور اسے سیدھا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس ضروری کام کے لیے وہ ''ترقی پسند'' بھی تھا اور ''مصنفین'' بھی لیکن ہم کچھ نہیں تھے البتہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی اس بگڑی ہوئی دنیا کو سدھار دے، کم از کم اتنی تو سدھار دے کہ ہمیں ایک نوکری اور ایک چھوکری دینے پر تیار ہو جائے، پھر اسے کراچی میں کوئی نوکری مل گئی اور ہماری حد تک بھی دنیا سدھر گئی۔ لیکن اس دودھ میں مینگنی یوں پڑ گئی کہ ہمیں نوکری تو پسند کی مل گئی لیکن جو محترمہ ملی۔

اس کا سارا خاندان شوگر کا مریض تھا اس لیے اس کے میکے میں ''کریلے'' کا بول اتنا بالا تھا کہ اگر بس چلتا تو چائے میں بھی دودھ اور شکر کی جگہ کریلے کا جوس اور سفوف ڈالتے، پتی کی جگہ شاید کریلے کا اوپر والا چھلکا استعمال ہوتا، ہماری اس محترمہ کو خوش قسمتی سے شوگر تو نہیں تھی اور شاید اس لیے نہیں تھی کہ ''کریلستان'' میں پیدا ہوئی اورپلی بڑھی تھی لیکن گھر میں ''کریلے'' کی آمریت نے یہ اثر ڈالا تھا کہ کریلے کے سوا اس کے خیال میں کوئی اور چیز قابل تعریف تھی ہی نہیں، یوں کہیے کہ سرتاپا خود بھی کریلا ہو گئی تھی اور اکلوتی ہونے کی وجہ سے نیم چڑھی بھی تھی اس لیے سارا نزلہ بلکہ کریلا اس حقیر پرتقیسر پر گرتا تھا، حالانکہ ہم نے کریلے کی حکومت تسلیم کر لی تھی اور خراج میں اپنا ذائقہ دینے پر راضی ہو گئے کیونکہ کورٹ میرج ہونے کے باوجود اس شادی میں تھوڑا ''لو'' کا تڑکا بھی تھا چنانچہ ہم نے کریلے کی اتنی گونا گوں اور ھمہ جہت (کڑوی) ڈش کھائی کہ اب ہمارے نزدیک بھی کریلا ہی کریلا ہوتا تھا۔

اس دن بھی ہم بازار سے سبزی خریدنے نکلے تھے اور کریلے سے زیادہ کوئی اور چیز تو زیادہ سبز ہوتی ہی نہیں ہے سوائے مسلم لیگ کے لیکن وہ سبزی نہیں بلکہ ''سبز قدمی'' کی فہرست میں شامل ہے، ہمارے اس دیرینہ دوست کے ہاتھوں میں بھی سبزی کا تھیلا تھا جس سے کدو صرف جھانک ہی نہیں رہے تھے بلکہ شریر بچوں کی طرح بس سے آدھے نکلے ہوئے نظر آرہے تھے، غالباً اس کے ذہن میں یہ خیال بھی تھا کہ پہلے ہی کی طرح اب بھی کدو ہماری مرغوب ترین چیز ہو گی، بے چارے کو کیا معلوم تھا کہ یہ دنیا کتنی ظالم ہے، انسان کا کیا کیا بدل نہیں ڈالتی چنانچہ ہم رہے نہ تم اور تم رہے نہ ہم آج کل ہم کریلے کے فین ہیں اور اس کی ترقی پسندی اور مصنفین کے بارے میں پوچھ ڈالا، ناک سکوڑتے ہوئے بولا، نوکری اور پھر شادی کے بعد اتنا موقع ہی نہیں ملا کہ کچھ اور سوچ سکوں ۔

یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا
مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے

سوچا تھا ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچوں گا لیکن اب اس کم بخت مہنگائی نے ایسا جکڑ رکھا ہے کہ ہلنے جلنے کی بھی سکت نہیں رہی، کچھ ایسا ہی حال ادھر بھی تھا لیکن اپنے کچھ ''آدرش'' وغیرہ تھے ہی نہیں اس لیے یک جہت ہو کر سیلاب کے ساتھ بہہ رہے تھے، پھر سوچا اچھا ہوا جو آدرش نہیں پالے تھے ورنہ آج ہم اس کی طرح بلکہ سب کی طرح ان آدرشوں کی لاشوں پر آنسو بہا رہے ہوتے۔

کبھی بے بسی نے مارا کبھی بے کسی نے مارا
گلہ موت سے نہیں ہے ہمیں زندگی نے مارا

کبھی کبھی تو ہم سوچنے لگتے ہیں کہ لوگ زندہ کیسے ہیں؟ کہ زندگی جینا ہر لحاظ سے ناممکن سا نظر آرہا ہے، ایک نہیں دو نہیں دس بیس بھی نہیں بلکہ پورے پورے طبقے ہم نے دیکھے تھے جو اونچی اونچی باتیں کرتے تھے، انسانیت کو سدھارنے کے عزائم ظاہر کرتے تھے، تقریریں کرتے تھے نظمیں غزلیں کہتے تھے افسانے اور ڈرامے لکھتے تھے کہ یوں ہو گا تو یوں ہو جائے گا اور جب یوں ہو گا تو پھر ووں اور چوں ہو جائے گا، ان سب سے آج ملو تو صرف آٹے، دال، بجلی، گیس بلوں اور مہنگائی کی لگائی ہوئی چوٹوں کی بات کرتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ وہ ''فولادی لوگ'' گھستے گھستے پگھلتے پگھلتے ''کانچ'' کے ہو گئے ہوں جو ہوا کے تیز جھونکے سے بھی چھپتے پھرتے ہیں

سارے بدن کا خون پسینے میں ڈھل گیا
اتنا چلے کہ جسم ہمارا پگھل گیا

اور راستہ ہے کہ روز بروز پتھریلا ہوتا جارہا ہے، ایسے میں کبھی کبھی تو حیرت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ جو زمین پر نہیں ہوا میں اڑ رہے ہیں ،کتنی اونچی اونچی آسمانی اور ہوائی باتیں کرتے ہیں حالاں کہ سب کو پتہ ہے کہ برسر زمین کیا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی اتنے ڈھیٹ ہیں کہ ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے، ایسے میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے کہ اس کے سوا کہ

سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہو گا
لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے