کسانوں کے بے معنی احتجاج

کسانوں کو ہمیشہ وعدوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے


Zaheer Akhter Bedari October 07, 2016
[email protected]

پچھلے دنوں پنجاب میں ایک بار پھر کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے مظاہرے کیے، ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اپنے مطالبات کے حوالے سے کسانوں کا یہ پہلا مظاہرہ نہیں ہے بلکہ یہ مظاہرہ پچھلے کئی مظاہروں کا تسلسل ہے۔

کسانوں کو ہمیشہ وعدوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مظاہرین کی قیادت غیر نظریاتی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور وہ کسانوں کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کرکے فروعی مطالبات پر سڑکوں پر آتے ہیں اور غیر منظم اور غیر منصوبہ بند طریقوں سے مظاہرے کرکے اپنی طاقت کو ضایع کرتے ہیں۔

کسانوں کے مظاہروں میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بعض سیاسی رہنما شرکت کرتے ہیں اور فوٹو سیشن کے بعد رخصت ہو جاتے ہیں۔ کسان جو مظاہرے کررہے ہیں ان میں ان کے عمومی مطالبات کھاد بیج کی قیمتوں میں کمی، گندم وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ یہ مطالبات کسانوں کی وقتی ضرورتوں کو تو پورا کرسکتے ہیں لیکن ان کے بنیادی مطالبات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

پاکستان میں کسانوں کا بنیادی مسئلہ زرعی اصلاحات کا نفاذ ہے۔ اس حوالے سے بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ زرعی اصلاحات قومی مسائل میں ایک اہم مسئلہ ہے اور قومی مسائل کو اٹھانا سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں بوجوہ اس مسئلے کو نظر انداز کرتی آرہی ہیں۔

عام طور پر یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں جاگیردارانہ نظام ختم ہوچکا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں جاگیردارانہ نظام نہ صرف موجود ہے بلکہ مستحکم بھی ہے۔ اس حوالے سے ابہام کو دور کرنے کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے پہلے تحقیق کرائی جانی چاہیے کہ کتنے لاکھ ایکڑ زرعی زمین ابھی جاگیرداروں اور وڈیروں کے پاس ہے۔ سندھ اسمبلی میں معروف جاگیردار فیملی کی ایک خاتون نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اس کی جاگیر میں تین ریلوے اسٹیشن آتے ہیں۔

آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ پانامہ لیکس بنا ہوا ہے۔ پانامہ لیکس ملک میں 69 سالوں سے جاری کرپشن کا ایک حصہ ہے اور کرپشن بلاشبہ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ دولت کے ناجائز حصول کو کرپشن کا نام دیا جاتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہزاروں لاکھوں ایکڑ زمین پر صدیوں سے ناجائز قبضہ جمائے جاگیردار اور وڈیرے اپنی زمینوں سے جو کروڑوں روپے بٹور رہے ہیں کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟

حیرت کی بات ہے کہ پانامہ لیکس پر سیاست کرنے والوں کو اتنا بڑا قومی مسئلہ کیوں نظر نہیں آتا؟ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پانامہ لیکس جیسے بھاری کرپشن کے مسئلے کو نظرانداز کردیا جائے بلکہ اصل مسئلہ مقصد یہ ہے کہ زرعی اصلاحات جیسے بنیادی قومی مسئلے کو سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

ہماری رائج الوقت سیاست میں اہل سیاست کا اولین مقصد حصول اقتدار ہوتا ہے، خواہ اس کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے یہ غیر نظریاتی سیاست کا طرہ امتیاز ہے لیکن جو لوگ نظریاتی سیاست کرتے ہیں وہ سب سے پہلے ملک کے اہم قومی مسائل کا تعین کرتے ہیں اس کے بعد ترجیحات مقرر کرتے ہیں۔

اگر اس حوالے سے بات کی جائے تو ہمارے قومی مسائل میں سرفہرست جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہے اور یہی مسئلہ اہل سیاست کی ترجیح ہونا چاہیے لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ زرعی اصلاحات کو اپنی ترجیح بنانا دور کی بات ہے ہمارا کوئی سیاستدان زرعی اصلاحات کا نام تک لیتا نظر نہیں آتا؟

ملک میں جب تک بایاں بازو مضبوط اور فعال تھا جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز سنائی دیتی تھی بلکہ سندھ میں ہاری تحریک، خیبر پختونخوا میں ہشت نگر تحریک اور پنجاب میں کسان کانفرنسوں کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کے خلاف کسانوں کو متحرک رکھا جاتا تھا لیکن بائیں بازو کے زوال کے ساتھ جاگیردارانہ نظام کے خلاف تحریکیں بھی ماند پڑ گئیں۔

ویسے تو یورپ ہی نہیں ایشیا کے ممالک میں بھی جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ سیاستدانوں کی اولین ترجیح بنا رہا۔ خاص طور پر نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد آزاد ملکوں نے سب سے پہلا کام یہی کیا کہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کردیا۔ بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے لیکن بھارت میں آزادی کے بعد فوری طور پر زرعی اصلاحات کا نفاذ کر کے جاگیردارانہ نظام کو ختم کر دیا گیا لیکن پاکستان میں سیاستدانوں نے اس اہم قومی مسئلے کو پس پشت ڈال دیا۔

ایوب خان نے اگرچہ زرعی اصلاحات کیں لیکن اس کا مقصد جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا نہ تھا بلکہ جاگیرداروں کو بلیک میل کر کے اپنے ساتھ ملانا تھا جس میں ایوب خان کامیاب رہے۔ بھٹو مرحوم نے بھی زرعی اصلاحات کیں لیکن پیپلزپارٹی میں وڈیرے اس قدر طاقتور ہو گئے تھے کہ انھوں نے بھٹو کی زرعی اصلاحات کو ناکام بنا دیا۔

جاگیردارانہ نظام نہ صرف ملک کی اقتصادی اور سیاسی ترقی کی راہ میں حائل ہوتا ہے بلکہ عوام میں ایسی فکری پسماندگی پیدا کر دیتا ہے کہ عوام اپنے اوپر ظلم کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ آج ہمارے ملک ہمارے خطے اور دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی کا کلچر جس شدت سے فروغ پا رہا ہے۔ اس میں بنیادی کردار قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا ہے۔

حیرت ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو یہ احساس ہی نہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کے جو ملک گڑھ بنے ہوئے ہیں وہاں قبائلی اور جاگیردارانہ نظام مضبوط بھی ہے اور مذہبی انتہا پسندی میں فعال کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ورکرز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے اور اسے فعال کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے اگر اس کی فعالیت کا آغاز زرعی اصلاحات کے مطالبوں اور تحریک سے ہو تو یقینا ملک میں ایک معنوی تبدیلی آ سکتی ہے۔

مقبول خبریں