غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے قانون سازی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو غیرت کے نام پر قتل اور عصمت دری کی روک تھام کے 2 بلز کی متفقہ منظوری دیدی ہے


Editorial October 07, 2016
۔ فوٹو؛ فائل

MINGORA: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو غیرت کے نام پر قتل اور عصمت دری کی روک تھام کے 2 بلز کی متفقہ منظوری دیدی ہے' مجرم کو دیت یا سمجھوتے کی صورت میں بھی 25سال قید کی سزا ہو گی' عصمت دری کے مقدمات کا فیصلہ 90روز میں ہو گا' ڈی این اے ٹیسٹ لازمی ہو گا' کیسز کا ٹرائل ان کیمرا (بند کمرہ میں) ہو گا۔

متاثرہ خاتون کے کردار کے بارے میں دوران سماعت سوالات ہو سکیں گے نہ اس خاتون کے نام کو نشر یا شایع کیا جا سکے گا اور اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکے گی' قانون کے تحت زنا بالجبر میں ملوث پولیس اہلکاروں کی سزاؤں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور وہ اپنی ملازمتوں پر برقرار نہیں رہ سکیں گے' بلز صدر کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون بن جائیں گے۔

ایک عرصے سے ملک بھر میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل اور زنا بالجبر پر سزا کے حوالے سے بحث چلی آ رہی تھی' بعض حلقوں کی جانب سے ان جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جب کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس کے بارے میں مختلف رائے رکھنے کے باعث اس کی سزاؤں کی قانون سازی میں تاخیر ہوتی چلی جا رہی تھی۔

پارلیمنٹ میں غیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے جرائم پر سزاؤں کے بلز پر بھی ارکان پارلیمنٹ کی متضاد رائے سامنے آئیں' دونوں ایوانوں کے 446ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں ان بلز کی منظوری کے موقع پر 65ارکان ایوان میں موجود تھے۔ بعض ارکان پارلیمنٹ کی رائے تھی کہ انھیں اسلامی نظریہ کونسل کے سپرد کیا جائے' غیرت کے نام پر قتل کے عوامل کو حل کیا جائے' مصالحت پر قدغن لگانے سے قتل و غارت کا رستہ نہیں رکے گا۔

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات کو ناقابل تصفیہ قرار دیا گیا ہے اب بل کے تحت مجرم قرار دیے جانے والے شخص کو عمر قید سے کم سزا نہیں دی جا سکے گی۔ملک بھر میں عورتوں کے حقوق کی ادائیگی تو ایک جانب رہی غیرت کے نام پر ان کے قتل میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا' پنجاب' خیبرپختونخوا' سندھ' بلوچستان اور پسماندہ علاقوں میں صورت حال تو بہت ہی زیادہ پریشان کن ہے جہاں عورتوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل کر دیا جاتا ہے اور ملزم سزا سے بھی بچ جاتے ہیں۔

ونی کی رسم بھی جاری و ساری ہے' قتل تو مرد کرتا ہے مگر سزا ''غیرت مند'' بھائی کی بے گناہ اور بے بس بہن کو ونی کر کے دی جاتی ہے۔ بعض ایسے واقعات بھی منظرعام پرآئے کہ ونی کی رسم میں نابالغ لڑکی کو ایک بوڑھے مرد کے حوالے کر دیا گیا' اگرچہ حکومت نے اس رسم کو روکنے کے لیے قانون سازی کر رکھی ہے اور اطلاع ملنے پر اس فعل میں شریک فریقین کو سزا بھی دی جاتی ہے۔ جہاں عام طبقے میں عورت کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے وہاں جاگیرداروں کے ہاں بھی یہ صورت حال بہتر نہیں۔

ملک بھر میں حیرت انگیز طور پر جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے' جس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک جرم کرنے والے کو بروقت سزا کا نہ ملنا ہے۔ قوانین تو موجود ہیں مگر اصل مسئلہ ان کے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے ان پر عملدرآمد کا ہے' بااثر افراد قانونی اسقام کے باعث سزاؤں سے بچ جاتے ہیں' عدالتی فیصلوں میں سالہا سال تک ہونے والی تاخیر بھی مجرموں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

کچھ ایسے قوانین بھی ہیں جن پر بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے مثلاً آوارہ گردی کا قانون جس میں پولیس والے کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر سکتے ہیں لہٰذا قوانین میں موجود اسقام کو دور کرنے اور نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ بہرحال غیرت کے نام پر قتل کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے پارلیمنٹ نے جو بل منظور کیا ہے' یہ درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔

یہ بل منظور کرکے پارلیمنٹیرینز نے روایت پسندی' انتہا پسندی اور جاگیردارانہ کلچر کے مقابلے میں جراتمندانہ اقدام کیا ہے' ہماری مذہبی قیادت کو اس بل کو سبوتاژ کرنے کے بجائے اس پر مثبت ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔

ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور پارلیمنٹیرینز کو اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا چاہیے کہ پسماندہ' غربت زدہ اور قدامت پرست معاشروں میں ریپ' غیرت کے نام قتل ' بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر ظالمانہ جرائم عام ہوتے ہیں اور سخت ترین سزائیں بھی ان جرائم کو ختم نہیں کر سکیں' جرائم کے خاتمے کے لیے معاشرے میں معاشی اور سماجی تبدیلیاں لانا انتہائی ضروری ہیں۔

پاکستان کو مہذب اقوام کے برابر لانے کے لیے گورننس کو ایمانداری' سبک رفتاری اور پروفیشنل ازم پر استوار ہونا چاہیے اور اس کا رخ قدامت نہیں جدیدیت کی طرف ہونا چاہیے' ملک میں جدیدیت ہو گی' قبائلیت' جاگیرداری کلچر کمزور ہو گا' انتظامیہ اور عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہو گی' قوانین میں اسقام نہیں ہوں گے تو جرائم خود ہی خود کم ہو جائیں گے۔