محرم کے بعد

پانامہ لیکس کا مسئلہ پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں تک پھیلا ہوا ہے


Zaheer Akhter Bedari October 08, 2016
[email protected]

30 ستمبرکو تحریک انصاف کے زیر اہتمام رائے ونڈ میں جومارچ یا جلسہ ہوا وہ بلاشبہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک بہت بڑا جلسہ تھا، جس میں ملک بھر سے تحریک انصاف کے کارکن اور حامی شریک ہوئے۔ جلسے جلوس جمہوری نظام کا حصہ ہوتے ہیں' اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکمران جماعتیں بھی جلسے جلوسوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ اپوزیشن عموماً اپنے مطالبات کے حوالے سے جلسوں ریلیوں کا اہتمام کرتی ہے۔ تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے ایشو پر مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔

پانامہ لیکس کا مسئلہ پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں تک پھیلا ہوا ہے اور جن ملکوں کے حکمران اس اسکینڈل میں باالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں' ان میں سے کئی نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے ہیں۔ غالباً پاکستان ایک واحد ملک ہے جس کے حکمران اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، نہ اس مسئلے کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیق کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے برسراقتدار جماعت کا موقف یہ ہے کہ چونکہ وزیر اعظم پانامہ لیکس میں براہ راست ملوث نہیں، اس لیے ان سے استعفے کا مطالبہ درست نہیں۔

حکمران جماعت کا یہ موقف جزوی طور پر تو درست مانا جا سکتا ہے لیکن اس موقف کو کلی طور پر درست اس لیے نہیں مانا جا سکتا کہ اس اسکینڈل میں ان کے بیٹوں اور صاحبزادی کا نام ہے۔

وزیر اعظم کسی آف شور کمپنی کے مالک نہیں ہیں تو پھر وزیراعظم کو اس اسکینڈل کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیق پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ اس کیس کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیق ہونی چاہیے۔ یہ مطالبہ کسی طرح بھی ناجائز نہیں ہے لیکن بدقسمتی یا افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیق کے لیے ابتدائی اقدامات یعنی ٹرمزآف ریفرنس کی تیاری ہی کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے۔

یہ مسئلہ براہ راست عوامی مفادات سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اشرافیہ جس کھربوں روپوں کی کرپشن کا ارتکاب کر رہی ہے وہ عوام کی دولت ہے اور اگر اس بھاری رقم کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جائے تو ان کی کلفت زدہ زندگی میں بہتری آ سکتی ہے یوں یہ مسئلہ کسی فرد افراد یا خاندان کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ یہ مسئلہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام کی عذاب ناک زندگی میں بہتری لانے کا مسئلہ ہے۔

ہمارے حکمران اور اپوزیشن رہنما دن رات جمہوریت کی مالا جپتے نظر آتے ہیں اور کبھی ''کسی طرف'' سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نظر آتا ہے تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں۔ کیا جمہوریت میں غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کا خطرہ ہی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے؟ جمہوریت کی اساس رائے عامہ کا احترام اور عوام کے مفادات ہیں۔ کیا پانامہ لیکس کی تحقیق سے گریز جمہوریت کی نفی نہیں ہے؟

اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن اس مسئلے کے حوالے سے عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں اسے عمران خان کے طریقہ احتجاج سے اختلاف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کا طریقہ احتجاج کیا غیر جمہوری ہے؟ رائے ونڈ کے مارچ میں لگ بھگ تین لاکھ عوام کی شرکت بتائی جا رہی ہے، اتنے بڑے ہجوم میں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے کسی نے ایک گملا نہیں توڑا ایک ٹائر نہیں جلایا۔

اگر یہی حقیقت ہے تو ہماری محترم اپوزیشن کو عمران خان کے طریقہ احتجاج سے کس طرح کا اختلاف ہو سکتا ہے؟ اصل مسئلہ یہ نظر آتا ہے کہ ہماری اپوزیشن ''رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی'' کے فارمولے پر چلتی نظر آ رہی ہے۔ اگر حکمران قوم کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں تو یہ جرم ہے اور اس قسم کے قومی جرائم میں اگر مگر چونکہ چنانچہ نہیں چل سکتی۔

عمران خان کہہ رہے ہیں کہ محرم کے بعد اسلام آباد بند کر دیں گے اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ محرم کے بعد جلسہ نہیں ہو گا ''کچھ اور ہو گا'' کیا ہماری جمہوریت پسند اپوزیشن اس بیان کے مضمرات کو سمجھ رہی ہے؟ عمران خان کے ساتھی کہہ رہے ہیں''خان صاحب اس روز روز کے احتجاج سے ہم تھک گئے ہیں اب آر یا پار ہونا چاہیے'' جب اس قسم کی فضا بنتی ہے اور عوام بھی اپنے مسائل سے دل برداشتہ ہوں تو پھرکیا نتیجہ سامنے آ سکتا ہے؟

غصے اور اشتعال کی ایک چنگاری پرامن فضا کو آگ لگا سکتی ہے۔ ہماری اپوزیشن یقینا بدنظمی اورافراتفری کو پسند نہیں کرے گی۔ پانامہ لیکس ایک اہم قومی مسئلہ ہے جس سے عوام کے مفادات براہ راست جڑے ہوئے ہیں اگر اپوزیشن اس مسئلے پر کسی تحفظات کے بغیر متحد ہو جاتی ہے تو عمران خان ''اپنی اپنی ڈفلی اپنے اپنے راگ'' سے نکل آئیں گے اور یہ اہم مسئلہ پرامن طریقے سے جمہوریت کو نقصان پہنچائے بغیر حل ہو جائے گا۔

مقبول خبریں