گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال طول پکڑگئی صنعتی پہیہ جام ہونیکا خدشہ ایکسپورٹ کو 20 ارب کا نقصان

10 ہزار کنٹینرز پھنس گئے، خام مال کی ترسیل رکنےسے 3.5 ارب کا یومیہ پیداواری نقصان، مہنگائی و بے روزگاری بڑھنےکا اندیشہ


Ehtisham Mufti December 12, 2012
کراچی چیمبر نے ٹرانسپورٹرز کے 8 مطالبات جائز قرار دیدیے، ہڑتال ختم کرانے کیلیے داخلہ سمیت کئی وزارتوں سے رابطے، حکومت فوری معاملات طے کرے، ہارون اگر فوٹو: ایکسپریس / فائل

تجارتی و صنعتی حلقوں نے طول پکڑتی ہوئی گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کو معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے دیا ہے۔

برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کے بعد ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں صنعتوں کا پہیہ بھی جام ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ہارون اگر نے یونائیٹڈ گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کے 13 میں سے8 مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی مفاد میں ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات فوری تسلیم کرتے ہوئے تجارتی، صنعتی، درآمدی و برآمدی سرگرمیوں کو بحال کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

''ایکسپریس'' کے استفسار پر ہارون اگر نے بتایا کہ کراچی چیمبر گزشتہ چند روز سے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم کرانے کے لیے ہرسطح کوششوں میں مصروف عمل ہے، کراچی چیمبر کی جانب سے نہ صرف ہڑتال گڈزٹرانسپورٹرز کے نمائندوں سے رابطہ کیا گیا ہے بلکہ وفاقی وزیرداخلہ، صنعت وپیداوار، تجارت اور ٹیکسٹائل کی وزراتوں کے علاوہ گورنرسندھ، وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم کرنے کی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔

ہارون اگر نے بتایا کہ کراچی چیمبر وہیکل ڈرائیورز کے اغوا، ڈکیتیوں، لسانی تنظیموں کی جانب سے بھتوں کی وصولیوں، 27 دسمبر2007 کو محترمہ بے نظیربھٹو کی شہادت پرنذرآتش کیے جانے والے 966 وہیکلزکے مالکان کو معاوضوں کی عدم ادائیگیوں، کراچی میں ہرمذہبی تہوار پرجبری طور پر وہیکلز روک کر کنٹینرز اتارنے، ہر3 ماہ بعد ڈیزل بم گرائے جانے، ناجائز ٹول پلازوں کی منفی سرگرمیوں سمیت دیگر مطالبات جائز ہیں جن کا متعلقہ حکومتی اداروں کو جائزہ لے کر فی الفور حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مزید طول اختیار نہ کر جائے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وہیکلز کی عدم دستیابی کی وجہ سے درآمدکنندگان کے بندرگاہوں پر رکے ہوئے کنسائنمنٹس پربھاری ڈیمریجز عائد ہورہے ہیں جبکہ شپنگ لائنزاور شپنگ ایجنٹس کی نمائندہ تنظیم نے لفٹ آن اور لفٹ آف چارجز کا معاملہ حل کرانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارجز متعلقہ ٹرمینل ہینڈلر اور ٹرمینل یارڈ کے حکام وصول کرتے ہیں لہٰذا انہی سے رابطہ کیا جائے۔ دوسری جانب پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید بلوانی نے وفاقی وزیرٹیکسٹائل کو بھیجے گئے مکتوب میں انکشاف کیا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث 5 تا10 دسمبر2012کے دوران10 ہزار سے زائد برآمدی مصنوعات کے کنٹینرز کراچی کی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات کو20 ارب روپے مالیت کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

01

انہوں نے بتایا کہ بحری راستے فی 40 فٹ کنٹینرکی شپمنٹ پر3500 ڈالر کے اخراجات آتے ہیں اور اس کنٹینر میں ایک لاکھ ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات بھیجی جاتی ہیں جبکہ اسکے برعکس فضائی راستے سے فی40 فٹ کنٹینر کی شپمنٹ کا فریٹ25 تا 30 ہزار ڈالر ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان کو فی 40 فٹ کنٹینر پرزرمبادلہ کی صورت میں 5 تا7 ہزار ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے لیکن فضائی راستے شپمنٹ کی وجہ سے اب انہیں فی40 فٹ کنٹینر پرنقصان کرتے ہوئے اپنی جیب سے20 تا25 ہزار ڈالر کی اضافی ادائیگیاں کرنی پڑیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث پاکستان کی ایکسپورٹ یرغمال بن گئی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں 10 ہزار سے زائد تیار برآمدی مصنوعات کے کنٹینرز پھنس گئے ہیں، اگر ہڑتال جاری رہی تو افراتفری بڑھ جائے گی جس سے سنگین نوعیت کے نئے مسائل پیدا ہوں گے۔

پاکستان ریڈی میڈ گارمینٹس مینوفیکچرر ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمد شفیق نے کہاکہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث صرف ریڈی میڈ گارمنٹس اور ٹیکسٹائل کلاتھنگ سیکٹر کو20 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، مزید برآں صنعتوں کو خام مال کی ترسیل بھی بند ہوچکی ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعتوں کویومیہ3.5 ارب روپے کا پیداواری نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے صنعتوں کو ایندھن کی فراہمی بھی معطل ہے، اگر ہڑتال فی الفور ختم نہ کرائی گئی تو دیرینہ غیرملکی خریداروں کا پاکستان پر اعتماد ختم ہوجائے گا، اہم منڈیاں ہاتھ سے نکل جائیں گی اور پاکستان کی بطور قابل بھروسہ سپلائر ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی برآمدات اور معیشت کو بچانے کے لیے اس معاملے پر فوری طور پر سوموٹو ایکشن لیں کیونکہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مزید طول پکڑ گئی تو نئے تنازعات جنم لیں گے۔

ادھر پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی حکومت پرزور دیا ہے کہ گڈزٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری ہڑتال کو ختم کرانے کے لیے فی الفور مداخلت کرے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزادمشتاق پراچہ نے کہا ہے کہ ہڑتال کے نتیجے میں صابن سازی کی مقامی صنعتوںکو خام مال کی ترسیل رک گئی ہے، اگر فیکٹریوں کو خام مال کی سپلائی بحال نہ ہو سکی توجلد ہی ملک بھر کی بیشتر صابن ساز صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں بند، ہزاروں ورکرز کی بیروزگاری اور سوپ انڈسٹری کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات ہیں، گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے کراچی کی دونوں بندرگاہوں سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کے برآمدی کنسائنمنٹس ماڑی پور روڈ اور پورٹ قاسم روڈ بلاک کیے جانے سے رکے ہوئے ہیں، ہڑتال سے پورے ملک کی صنعتیں متاثر ہورہی ہیں، حکومت ہڑتال ختم کرانے کیلیے کرداراداکرے۔

مقبول خبریں