پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرارداد

قرارداد میں پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں افراد کی بینائی زائل کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی


Editorial October 08, 2016
فوٹو: فائل

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت سے متعلق قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔

جمعہ کو وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قرارداد ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی طرف سے شروع کی گئی جدوجہد کی جائز حیثیت کو تسلیم کرتا ہے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے طاقت کے ظالمانہ استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں 110 سے زیادہ افراد شہید اور ہزاروں شدید زخمی ہوئے۔

قرارداد میں پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں افراد کی بینائی زائل کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ مشترکہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قوانین کو نافذ رکھنے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یاد دلایا گیا کہ جموں کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بین الاقوامی طور پر متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے یہ عالمی برادری کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ بھارتی حکومت پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درامد کرانے پرزور دے۔ مشترکہ اجلاس میں کنٹرول لائن کے پار سرجیکل اسٹرائیک کے مضحکہ خیز بھارتی دعوؤں کو کھلا جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیااسے بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش سے تعبیر کیا گیا۔ قرارداد میں بھارت کی طرف سے پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردی اور تخریبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

ایوان نے سفارش کی کہ پاکستان کی حدود میں گرفتار کیے جانے والے کلبھوشن یادیو کا معاملہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اٹھایا جائے۔ قرارداد میں بھارت کے ان عزائم پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وہ پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذموم کوشش کرنا چاہتا ہے جو نا صرف بین الاقوامی معاہدے کی ذمے داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پورے خطے کے لیے جارحیت کے مترادف ہے۔

پاکستان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو قرارداد منظور کی ہے اس کے الفاظ سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے ازلی دشمن پر آخر اس قرارداد کا کیا اثر ہو گا جو کہ روز اول سے ہی کوئی معقول بات ماننے پر تیار نہیں اور مسلسل دھمکی آمیز زبان استعمال کرتا ہے اور دوسری بات یہ کہ بین الاقوامی برادری اس قرارداد پر عمل درامد کرانے میں کیا کردار ادا کرے گی۔

جہاں تک بھارت کی طرف سے سندھ طاس کو توڑنے کا تعلق ہے تو چونکہ یہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس کا کہ ضامن ورلڈ بینک ہے اس لیے کسی ایک فریق کی طرف سے اس معاہدے کے یکطرفہ طور پر توڑ دینے کا احتمال بہت کم ہے بہر حال اس کے باوجود بھی پاکستان کو مکمل چوکس رہنا چاہیے اور پانی کے ذخیرے بنانے کی اہمیت کو ماضی کی طرح طاق نسیاں کی زینت نہیں بنانا چاہیے۔

مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی خاطر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے خصوصی ایلچیوں کی ایک ٹیم دنیا کے مختلف ممالک کے دورے پر بھجوائی تھی تاکہ سات دہائیوں سے نظر انداز کیے جانے والے کشمیر کے انتہائی حساس مسئلے پر بیرونی طاقتوں کی حمایت حاصل کی جا سکے تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہوئی اس بارے میں کوئی فیڈبیک میڈیا میں نظر نہیں آیا۔

کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی 1948ء کی قرارداد کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اپنی بھارتی ہم منصب اندرا گاندھی کے مابین طے پانے والے شملہ معاہدے میں یہ طے کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک یہ مسئلہ باہمی طور پر طے کریں گے اور کسی ثالثی کو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن اس کا کیا کیا جائے جب بھارت باہمی مذاکرات پر تیار ہی نہیں ہو رہا بلکہ بار بار طے شدہ مذاکرات کو بہانے بہانے سے مسترد کر دیتا ہے ایسی صورت میں بات بنے تو کیونکر بنے۔

اس کے بعد تو تنگ آمد ...... والا آپشن رہ جاتا ہے مگر اس حوالے سے تین جنگوں کا بھی کوئی نتیجہ نکل سکا۔ جہاں تک عالمی طاقتوں کی ثالثی کا تعلق ہے تو انھوں نے بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا' ادھر بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل جنگ کا ماحول بنا رہا ہے' پاکستانی پارلیمنٹ نے بھی عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرائے' بہرحال اڑی واقعہ کے بعد بھارت نے جو کچھ کیا۔

اس حوالے سے پاک فوج اور سیاسی قیادت نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے تاہم فہمیدہ حلقوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں عوامی نمائندوں کی پہلے دن تو حاضری بھر پور رہی اور اس روز وزیراعظم بھی ایوان میں موجود رہے لیکن باقی کے دنوں میں وزیراعظم بھی نہیں آئے جب کہ ارکان اسمبلی کی حاضری بھی کم رہی' تحریک انصاف کے ارکان بھی پارلیمنٹ میں نہیں آئے حالانکہ ہفتہ پہلے ہونے والے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں تحریک انصاف شریک ہوئی تھی۔