ویمنز ایشین ہاکی پاکستانی ٹیم کی شاندار کارکردگی

نئے کھلاڑیوں کی تربیت اور انٹرنیشنل لیول پر مقابلے کے لیے تیاری میں سینئر کھلاڑیوں کی مشاورت معاون ثابت ہوگی


Editorial October 08, 2016
۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

تھائی میں جاری ویمنز ایشین ہاکی فیڈریشن کپ میں پاکستانی ویمنز ٹیم نے پہلی بار ایونٹ کے سیمی فائنل میں جگہ بنانے کا اعزاز حاصل کر کے قوم کو خوشی کی ایک اور نوید دی ہے۔ ان سطروں کے لکھے جانے تک سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم کا ٹاکرا میزبان ٹیم تھائی لینڈ کے ساتھ ہونے والا تھا۔ پاک ٹیم نے کمبوڈیا کو 12 گول سے شکست دی تھی۔

ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے لیکن جس طرح دیگر کھیلوں کی طرح پاکستان کا قومی کھیل زوال پذیر ہے اس پر شائقین مایوسی کا شکار ہیں، مینز ہاکی میں ایک طویل عرصے سے کوئی خوشخبری نہیں سنائی دی، ٹیموں کی خراب کارکردگی سے قوم کا مورال بھی ڈاؤن ہوا ہے لیکن چوتھے ویمنز ایشین ہاکی فیڈریشن کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے ویمن ٹیم نے پاکستانی عوام کو مایوسی کی دلدل سے باہر نکالا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اگر ہاکی کے کھیل کی طرف حکومتی سطح پر صحیح توجہ مرکوز کی جائے اور جس طرح کرکٹ کے کھیل میں فنڈنگ کی جاتی ہے اپنے قومی کھیل کی طرف بھی دھیان دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی ہاکی ٹیم ایک بار پھر دنیا کی صفِ اول کی ٹیموں کے ساتھ کھڑی دکھائی دے۔

آخر یہ وہی ملک ہے جہاں ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑیوں نے انٹرنیشنل لیول پر اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہوئی تھی۔ ان محرکات کا خاتمہ کرنا ہوگا جو ہاکی کے زوال کا باعث بنے۔ نئے کھلاڑیوں کی تربیت اور انٹرنیشنل لیول پر مقابلے کے لیے تیاری میں سینئر کھلاڑیوں کی مشاورت معاون ثابت ہوگی۔ اپنے قومی کھیل سے بے اعتناعی راست اقدام نہیں، حکومت کو ہاکی کے کھیل پر بھی توجہ دینی ہوگی۔