سب کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں قائدانہ کردار ادا کرتی رہیں گی، ملاقات میں اتفاق


Editorial October 12, 2016
دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں قائدانہ کردار ادا کرتی رہیں گی، ملاقات میں اتفاق۔ فوٹو: فائل

TOKYO: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی' اس ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار' وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان' وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔

اس ملاقات میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں قائدانہ کردار ادا کرتی رہیں گی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف تمام کارروائیاں تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے جاری رکھی جائیں گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں قومی اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی' اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ میڈیا قومی سلامتی اور ریاست کے مفادات کے امور پر مفروضوں پر مبنی رپورٹنگ سے اجتناب کرے۔

پاکستان کو اس وقت جس صورت حال کا سامنا ہے' اس کا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت' علماء مشائخ' اہل علم' دانشور' شاعر و ادیب اور میڈیا سمیت ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز معاملہ فہمی' ذمے داری اور ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔

اس میں دورائے نہیں کہ پاکستان کو اندرونی طور پر سب سے بڑا خطرہ دہشت گردوں' ان کے سہولت کاروں' ہمدردوں اور انھیں نظریاتی جواز فراہم کرنے والوں سے ہے' دہشت گردی کے خلاف جنگ انتہائی مشکل کام ہے بلکہ یہ چومکھی لڑائی ہے جسے ہم سب نے مل کر لڑنا ہے' ہمارے سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں'انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اپنا کام کر رہی ہیں اور انھوں نے کئی موقعے پر سانحہ سے پہلے دہشت گردوں کو دبوچا بھی ہے ' دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیںاور ان کا نیٹ ورک ٹوٹ چکا ہے تاہم اس لڑائی کو جیتنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس لڑائی میں وطن عزیز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے' 60ہزار سے زائد سیکیورٹی اداروں کے جوان وافسر اور عوام اس جنگ کی نذر ہو گئے ہیں' کم از کم اب تو ہمیں ہوش میں آ جانا چاہیے۔ غور کیا جائے تو بیرونی خطرات بھی اسی سے منسلک ہیں۔پاکستان پر انٹرنیشنل کمیونٹی کا دباؤ بھی دہشت گردی کے حوالے سے ہی ہے۔

وطن عزیز میں سرگرم دہشت گرد گروپوں نے ملک دشمن قوتوں کے ساتھ بھی روابط پیدا کر لیے ہیں' یوں ہمارا دشمن ہمیں اندرونی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان میں سرگرم عمل دہشت گرد تنظیموں کے ڈانڈے کہاں ملتے ہیں' انھیں کون سی قوتیں سرمایہ فراہم کر رہی ہیں اور اندرون ملک انھیں کون پناہ گاہیں مہیا کر رہا ہے ۔ یہ رازکسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

بھارت اور افغانستان کا طرز عمل سب کے سامنے ہے' مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی سے بوکھلا کر بھارتی فوج کنٹرول لائن پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہی ہے' ادھر امریکا کی ڈھلمل پالیسی سے سب آگاہ ہیں' امریکا کے مفادات بھارت سے جڑ چکے ہیںاور وہ بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ وطن عزیز کو اس مشکل صورت حال سے نکالنے کے لیے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا' ایسے حالات میں میڈیا کی ذمے داری بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

بلاشبہ حساس قومی امور پر جہاں ریاستی اداروں کی ذمے داری دو چند ہوتی ہے' وہیں میڈیا کو بھی احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ میڈیا اس معاملے میں احتیاط کا مظاہرہ کر بھی رہا ہے بہر حال احتیاط کی ڈگری کو مزید بڑھانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔قومی مفاد کیا ہوتا ہے اور حساس امور کیا ہوتے ہیں' ان کا ادراک تقریباً سب اسٹیک ہولڈرز کو ہوتا ہے لہٰذا کسی کو بھی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

اطلاعات تک رسائی اور عوام تک اطلاعات کا پہنچنا بھی ایک بنیادی حق ہے اور اس حق پر کوئی پابندی عائد نہیں کر سکتا لیکن یہ حق بھی احتیاط اور ذمے داری جیسے اوصاف کے ساتھ منسوب ہوتا ہے' دوسری جانب یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ میڈیا کی آزادی بہرحال ہر صورت میں برقرار رہنا چاہیے' یہ بھی سچائی ہے کہ ماضی میں ریاستی ادارے اور حکومتیں جو کچھ کرتی رہیں' انھیں بھی آزادی اور ضوابط کی سائنس کو سمجھنا چاہیے۔

آئین' قانون اور ضابطے سب کے لیے یکساں ہوتے ہیں اور اس سے کوئی بالادست یا برتر نہیں ہوتا' ہم نے ماضی میں جو کچھ کیا' شاید اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہے' پاکستان کے پالیسی سازوں' سیاسی جماعتوں' مذہبی جماعتوں' دانشوروں اور کاروباری اداروں کو نئے حالات اور نئے چیلنجز کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنے کے لیے راہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ اب باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے' غلطی کی گنجائش کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔