خان صاحب آپ ہی ’’سیز فائر‘‘کرا دیں

لوگوں نے بریکنگ نیوز کیلیے ایسی بات چھیڑنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ کامیاب ہوگئے


Saleem Khaliq October 12, 2016
میرے نزدیک ایک ہی شخصیت ہے جو ان دونوں میں سیزفائر کرا سکے اور وہ ہیں عمران خان۔ فوٹو: فائل

KARACHI: میری خوشی کا اس وقت وہی عالم تھا جو سنچری کی تکمیل پر کسی بیٹسمین کا ہوتا ہو گا، میرے کرم فرما مشتاق احمد سبحانی میری یہ کیفیت بھانپ گئے، انھوں نے کہا کہ ''تمہارے 100 کالمز ہو گئے، انھیں کتابی صورت میں کیوں نہیں شائع کر لیتے، ان کی بات مجھے پسند آئی، ویسے تو میں اپنے 20 سال سے زائد عرصے کے کیریئر میں ہزاروں مضامین تحریر کر چکا ہوں گا لیکن ''کرکٹ کارنر'' جب سے لکھنا شروع کیا اور قارئین نے اسے پسند بھی کیا تو پھر کوشش یہی رہی کہ یہ سلسلہ ہر ہفتے برقرار رکھوں، کتاب جب اشاعت کے قریب پہنچی تو تقریب سجانے کا خیال آیا۔

مہمان خصوصی کی بات آئی تو ایک دوست نے کہا کسی بورڈ آفیشل، سلیکٹر یا کھلاڑی کو تو تم نے چھوڑا نہیں سب پر تنقید کے نشتر برسائے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ کوئی تقریب میں آئے گا، مگر میں جانتا تھا کہ ایک شخصیت ایسی ہے جو کبھی انکار نہیں کرے گی اور وہ ہیں شاہد آفریدی، ان سے میں نے جب ذکر کیا تو وہ فوراً آنے کو تیار ہو گئے، ان کی یہی خوبی ہے کہ کبھی کچھ منفی لکھ بھی دو تو بُرا نہیں مانتے۔

خیر اپنے لحاظ سے میں نے ایک چھوٹی سے تقریب سجائی جسے ایکسپریس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اعجاز الحق، ایڈیٹر طاہر نجمی، پی ایس ایل فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ندیم عمر، سابق ٹیسٹ کرکٹرز صلاح الدین صلو، اقبال قاسم، صدر کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن پروفیسر اعجاز فاروقی، کھیلوں کی معروف شخصیت ڈاکٹر جنید علی شاہ ودیگر شخصیات نے شرکت کر کے بڑا بنا دیا، میں نے صرف 40 سے50 افراد کو مدعو کیا تھا مگر جب ایسے ایسے لوگوں کو آتے دیکھا جن سے دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا تو حیران رہ گیا،ایک بن بلائے آنے والے صاحب تو اپنے ساتھ چار دیگر افراد کو بھی لائے۔

میں نے اپنے میڈیا کے دوستوں کو بھی مدعو کیا تھا، سینئر صحافی زبیر نذیر خان، نوجوان باصلاحیت صحافی محمد آصف خان، عبدالغفار و دیگر سے اچھی گپ شپ رہی، آفریدی کی وجہ سے ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز اور کیمروں کا بھی رش لگا ہوا تھا، میڈیا کے دوستوں کو بتا دیا تھا کہ اسے پریس کانفرنس کا روپ نہ دیں، تقریب کو ہوسٹ کرنے والے عماد حمید خود بھی ایک منجھے ہوئے صحافی ہیں وہی حالیہ معاملات پر آفریدی سے سوالات پوچھ لیں گے اور پھر یہی ہوا سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔

عماد نے بہت منفرد انداز میں تقاریر کے بجائے شرکا سے اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے سوالات پوچھے، میں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا لیکن اچانک شرکا میں موجود ایک صاحب جنھیں میں نام سے نہیں جانتا وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور آفریدی سے سوال پوچھنے لگے، میں پہلی بارکسی ایسی تقریب میں اسٹیج پر بیٹھا تھا۔

تقریب کو بدمزگی سے بچانے کیلیے بے بسی کے عالم میں انھیں یاد دلایا کہ بھائی یہ پریس کانفرنس نہیں ہے آپ بیٹھیں مگر وہ نہ مانے اور کہنے لگے ''آفریدی صاحب جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ آپ پیسوں کی لالچ میں الوداعی میچ کیلیے بے چین ہوئے جا رہے ہیں اس پر کیا کہیں گے'' جن لوگوں نے بریکنگ نیوز کیلیے ایسی بات چھیڑنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ کامیاب ہوگئے، تب آفریدی نے میانداد کے بارے میں کہہ دیا کہ ''سب جانتے ہیں وہ خود کتنا پیسے کے پیچھے بھاگتے تھے، عمران خان اور ان میں یہی فرق ہے'' اس وقت ہال میں تو قہقہے گونجے مگر میں سمجھ چکا تھا کہ اب تنازع کھڑا ہونے والا ہے، پھر یہی ہوا ایک چینل نے جاوید میانداد کو فون کر کے رائے لی تو وہ اتنے زیادہ غصے میں تھے کہ آفریدی پر میچ فکسنگ کا الزام تک لگا دیا، پھر تو شور مچ گیا۔

بھارت ویسے ہی پاکستان کے پیچھے پڑا رہتا ہے اس کے چینلز کو تو موقع مل گیا کہ ہمارے ملک کو اور بدنام کریں، یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، میں یہاں کسی کی حمایت نہیں کروں گا آفریدی کو یقیناً میانداد کے بارے میں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی مگر جواب میں میانداد بڑا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے خود کو کرکٹ تک محدود رکھتے تو اچھا تھا،وہ کبھی آن ایئر آفریدی کو لعنت دیتے ہیں تو کبھی فکسنگ کا الزام لگا دیتے ہیں، وہ آفریدی جس کے بارے میں مشہور زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے دوران بکی مظہر مجید تک نے کہا کہ ''میرے اور کھلاڑیوں کے درمیان رکاوٹ وہی تھا''۔

آپ نے اسی کی ساکھ پر سوال اٹھا دیے، اس سے کس کا فائدہ ہوا؟ ہر جگہ ملک کی بدنامی ہی ہوئی، اب آفریدی انھیں لیگل نوٹس بھیج رہے ہیں معاملہ مزید بگڑے گا، ایسے میں افسوس اس بات کا ہے کہ ملک میں اتنی عظیم شخصیات موجود ہیں، ان میں کسی نے سنجیدگی سے کوشش نہ کی کہ دونوں سابق کپتانوں کے گلے شکوے دور کرا دیے جائیں، سب دور کھڑے تماشہ دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں، گوکہ وسیم اکرم نے کچھ کام کیا لیکن اگر میانداد کو آفریدی سے کوئی شکایت ہے تو اس کی بڑی وجہ وسیم بھی ہیں، وہ بھلا کیوں ان کی بات مانیں گے،میانداد کی ملک کیلیے بڑی خدمات ہیں تو آفریدی کو بھی کمتر قرار نہیں دیا جا سکتا، انھوں نے بھی ٹیم کو کئی میچز جتوائے، مگر ہمیں اب دو گروپس میں بٹنے کے بجائے معاملے کو حل کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

میرے نزدیک ایک ہی شخصیت ہے جو ان دونوں میں سیزفائر کرا سکے اور وہ ہیں عمران خان، وہ عیش و آرام کی زندگی چھوڑ کر خود کو ملک کیلیے وقف کر چکے اسی لیے بطور سیاسی لیڈر بھی مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں، میانداد اور آفریدی ان کی بڑی عزت کرتے ہیں، میں جانتا ہوں کہ عمران خان کے پاس ان دنوں سیاسی مصروفیات کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں ہے مگر انھیں اس تنازع کو حل کرانا ہوگا،جو کچھ ہوا اور آئندہ ہونے والا ہے اس میں ملک کی بدنامی کے سوا کچھ نہیں ہے، گوکہ میانداد نے بیان دیاکہ ''میں نے آفریدی کو معاف کر دیا'' مگر فکسنگ کے الزام کا ذکر گول کر گئے، شائد اسی لیے آفریدی نے بھی ٹویٹ کی کہ انھیں اپنا الزام واپس لینا ہوگا ورنہ وہ عدالت جائینگے۔

یقیناً ان الزامات سے انھیں نقصان پہنچا اور تلافی اس صورت ہی ممکن ہے جب میانداد اسے واپس لیں،عمران خان کی دونوں دل سے عزت کرتے ہیں اور ان کی بات نہیں ٹالیںگے، دو روٹھے ہوئے لوگوں کو ملانا بھی ثواب کا کام ہے،انھیں فریقین سے بات کر کے کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے جس سے کسی کی انا کو بھی ٹھیس نہ پہنچے۔ محب الوطن لوگ اب ٹی وی پر ایک اور بریکنگ نیوز دیکھنے کیلیے بے چین ہیں کہ ''عمران خان نے جاوید میانداد اور شاہد آفریدی میں صلح کرا دی''،امید ہے انھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑیگا۔