آذربائیجان کی کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت
ہمسایہ اور عالمی سطح پر دیگر ممالک سے اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کو پہلے کی نسبت زیادہ متحرک ہونا پڑے گا
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ان دنوں آذربائیجان کے دورے پر ہیں' وہاں پر انھوں نے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی۔ دارالحکومت باکو میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر الہام علیوف نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی شعبوں میں بہت ترقی کر چکا ہے، وہ آذربائیجان کو عسکری تربیت فراہم کر سکتا ہے' پاک فوج کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی قابل رشک ہے' آذربائیجان کے ساتھ تجارت کو مزید فروغ دیں گے' دونوں ممالک خطے میں امن چاہتے ہیں اور آذربائیجان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی حمایت قابل تعریف ہے۔
آذربائیجان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت خوش آیند ہے اس سے یقیناً عالمی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے موقف کو تقویت ملے گی۔ گزشتہ دنوں سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ترکی نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی تائید کرکے دوستی کا حق ادا کیا تھا۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنم لینے والی کشیدگی کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بڑھک لگائی تھی کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیں گے' اس تناظر میں وزیراعظم نواز شریف کے آذربائیجان کے کامیاب دورے اور صدر الہام علیوف کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی حمایت سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں پر پانی پھر گیا ہے۔
ہمسایہ اور عالمی سطح پر دیگر ممالک سے اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کو پہلے کی نسبت زیادہ متحرک ہونا پڑے گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے ایسی رائے بھی سامنے آئی ہے کہ جب بھارت کی جانب سے پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات خراب کرنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان کسی قابل اور متحرک شخص کو وزیر خارجہ مقرر کرے جو عالمی سطح پر پاکستان کا امیج اور تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔
آذربائیجان قدرے خوشحال اور پرامن ملک ہے' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آذر بائیجان کی معاشی ترقی اور استحکام دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ قدرتی تیل اور گیس سے مالا مال خطہ ہے پاکستان اس سے اپنے تجارتی تعلقات مضبوط بنا کر بہت سے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت اور افغانستان پاکستان کا تجارتی راستہ روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں ایسی صورت میں پاکستان' ایران' آذربائیجان اور ترکی مشترکہ طور پر تجارتی زون تشکیل دیں تو اس خطے میں خوشحالی اور ترقی کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ تجارت اور صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا' آسیان اور یورپی ممالک کی مثال سب کے سامنے ہے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان نے دفاعی شعبے میں بہت ترقی کی ہے خاص طور پر دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن ضرب عضب کے باعث پوری دنیا میں پاک فوج کو شہرت ملی ہے' نتیجتاً بہت سے ممالک پاکستان سے دفاعی تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں' حالیہ ہونے والی پاک روس مشترکہ جنگی مشقیں بھی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں' اب آذربائیجان نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھانے کی بات کی ہے تو پاکستان کو اس جانب بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ اسلحے کی تجارت میں بہت زیادہ فائدے ہیں' امریکا اور دیگر یورپی ممالک اس کی تجارت ہی سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔
پاکستانی اسلحے کا معیار کسی سے کم نہیں اگر پاکستان مسلم اور دیگر ممالک کو اسلحے کی فروخت پر توجہ دے تو وہ بھی سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے آذربائیجان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہاں توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں وسیع مواقع موجود ہیں' دونوں ممالک باہمی اقتصادی تعلقات کو فروغ دیں۔
پاکستان اور آذربائیجان کو سیاحت اور بینکنگ کے شعبے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے اس سے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ چین' بھارت اور افغانستان وسطی ایشیائی ممالک سے اپنے تجارتی تعلقات کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں۔
تاجکستان' قازقستان' ترکمانستان اور وسط ایشیا کے دیگر ممالک سے پاکستان کو بھی اپنے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کی جانب انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے اس سے بحران کا شکار پاکستانی صنعت کو بہت بڑا سہارا ملے گا۔ پاکستان جنوبی افریقہ کے ممالک میں بھی تجارتی منڈیوں کی تلاش کی جانب توجہ دے' اس سے تجارت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو گا اور بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔