گلوبل وارمنگ پر ڈیڑھ سو ملکوں کا معاہدہ
حالیہ عشروں میں سمندر کی سطح 3 ملی میٹر سالانہ کے حساب سے اونچی ہو رہی ہے
HARIPUR:
افریقی ملک روانڈا میں تقریباً دو سو ملکوں نے عالمی تپش میں اضافہ روکنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہو گا۔ اس تاریخی معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں امریکا اور چین بھی شامل ہیں۔ اس وقت اوسط عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیئس بتایا جاتا ہے گو کہ ماضی میں اس میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے البتہ ماضی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مقابلے میں درجہ حرارت میں ہونے والی موجودہ تبدیلی بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہے۔
سائنس دانوں کو تشویش ہے کہ انسانوں کے ہاتھوں مستقبل میں موسموں پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ انسان قدرتی ایندھن جلا کر اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے جنگلات کاٹ کر فضا میں کاربن کی مقدار میں اضافہ کر رہا ہے۔ درجہ حرارت کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے ایک سو سال میں دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ 0.6 درجے فیصد کا اضافہ پچھلے تین عشروں میں دیکھنے میں آیا ہے۔
حالیہ عشروں میں سمندر کی سطح 3 ملی میٹر سالانہ کے حساب سے اونچی ہو رہی ہے ، اس کے ساتھ ہی پہاڑوں پر گلیشیئر اور قطبی برف کی تہہ بھی پگھل رہی ہے۔ بین الاقوامی چینل برائے ماحولیاتی تبدیلی نے 2013ء میں ایک تخمینہ پیش کیا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 21 ویں صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری اضافہ ممکن ہے جب کہ 2 درجے تپش کو خطرناک عالمی تبدیلی کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر بارشوں میں اضافہ ہو گا مگر سمندر سے دور علاقوں میں خشک سالی ہو گی اور موسم گرما کا دورانیہ بھی بڑھ جائے گا۔
سمندری طوفانوں کا خطرہ بڑھ جانے کا زیادہ اثر غریب ممالک پر پڑے گا۔ یک لخت موسم کی تبدیلی سے جانداروں کی کئی نسلیں ناپید ہو جائیں گی۔ ملیریا اور قحط سالی سے لاکھوں اموات ہوں گی۔ سمندری حیات اور کورل ریف پر مضر اثرات ہوں گے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روانڈا میں طے پانے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیا۔ امریکا اور یورپی صنعتی ممالک نے 2019ء تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 10 فیصد کمی جب کہ 2036ء تک 85 فیصد کمی کا وعدہ کیا ہے۔
پاکستان، بھارت، ایران، عراق اور خلیجی ممالک نے 2024ء تک اس حوالے سے نمایاں کارکردگی دکھانے کا دعویٰ کیا ہے۔ گزشتہ برس پیرس میں ہونے والے اجلاس میں بھی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن روانڈا کے معاہدہ کو چونکہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے لہٰذا اس کے اثرات زیادہ بہتر ہو سکیں گے۔