چٹھی آئی ہے آئی ہے چٹھی آئی ہے
وہ اس کارڈ کو لے کر گاؤں بھر میں جس کسی کو دیکھتا اس سے کارڈ پڑھواتا
کیا آپ کو پتہ ہے، نہیں پتہ ہو گا کہ ہمیں ایک اکیڈمی کی طرف سے بلاوا آیا ہے اور ہم پر تقریباً وہی کیفیت طاری ہے جو ہمارے گاؤں کے ایک شخص پر اس وقت طاری ہو گئی تھی جب اسے شہر کی ایک شادی کا کارڈ ملا تھا۔
وہ اس کارڈ کو لے کر گاؤں بھر میں جس کسی کو دیکھتا اس سے کارڈ پڑھواتا، حالانکہ کارڈ کا مضمون اسے گھر سے ازبر ہو چکا تھا کیونکہ اس کے ایک پوتے نے پڑھ کر سب کچھ بتا دیا تھا، پڑھے لکھوں کو پڑھوانے کے لیے دیتا تو کہتا ہے پتہ نہیں یہ کارڈ کس نے مجھے بھیجا تھا وہ شخص بتا دیتا تو پھر پوچھتا کب بلایا ہے کس وقت بلایا ہے، دن کون سا ہے، تاریخ کون سی ہے؟ تا کہ پڑھنے والے کو تو پتہ چلے کہ وہ کتنا اہم آدمی ہے کہ شہر سے شادی کے بلاوے آتے ہیں ان پڑھ لوگوں سے پڑھوانے کی بھی کوشش کرتا اور جب وہ اپنی معذوری کا اظہار کرتے تو خود ہی شروع ہو جاتا، یہ شہر سے میرے لیے شادی کا بلاوا آیا ہے شہر میں میرے بہت سارے جگری دوست ہیں صرف یہ معلوم کرنا تھا کہ کس دوست کا ہے۔
عین مقررہ تاریخ کو وہ خوب بن ٹھن کر تیار ہوا اور گھر ہی سے جس کسی سے بھی سامنا ہوتا پوچھے بغیر ہی شروع ہوتا، شہر میں ایک دوست کی شادی پر جا رہا ہوں کیا کروں جگری دوست ہے جانا تو پڑے گا ہی، بے چارے کو اس وقت نہ جانے کتنے زور کا جھٹکا لگا ہو گا کہ جب اس نے اپنے ایک ہم نام کو یہ بات بتائی اور اس نے اسے آڑے ہاتھوں لیا، کم بخت وہ کارڈ تو میرے نام ہے وہ تو اچھا ہوا کہ میں خود شہر گیا تھا اور دوست نے بتایا کہ وہ کارڈ میرے پتے پر بھیج چکا ہے میں تو اس سے ناراض ہو رہا تھا کہ یونہی کارڈ بھیجنے کا بہانہ بنا رہا ہے جب کہ میرا کارڈ تم نے دبایا ہوا ہے، اب یہ جو ہمارے نام اکادمی کا خط آیا ہے اس پر ہمیں تعجب ہو رہا ہے بلکہ شبہ سا ہے کہ کہیں کسی اور کے نام کا نہ ہو کیونکہ
ہم تک کب اس کی بزم میں آتا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
خیر ہمیں کوئی کیا ''ملا کر'' پلائے گا کہ ہم کہاں کے دانا ہیں اور کس ہنر میں یکتا ہیں خاص طور پر اس ''ہنر'' سے تو بالکل ہی نابلد ہیں جس کے ذریعے ''سرکاری پیڑوں'' سے میوہ اتارا جاتا ہے بلکہ پیڑ اور میوہ تو دوسری طرف ہم ابھی اس کی چار دیواری ہی کے گرد پھر رہے ہیں دروازے کا بھی پتہ نہیں چلا پائے ہیں
حسن فروغ شمع حسن دور ہے اسد
پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
نہ ہی تو ہر ''منہ'' مسور کے لائق ہوتا ہے اور نہ ہی ہر ایرے غیرے کو ''کوچہ جانان'' کا انٹری کارڈ میسر ہوتا ہے۔ ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں، گٹڑ کی اینٹ چوبارے تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔
ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی
بلکہ مزاروں کے لیے ''ہی'' ۔ ہم تو ''واں'' کے کبھی تھے ہی نہیں پر ''واں'' کے نکالے ہوئے بھی تو نہیں کیوں کہ نکالنے کے لیے کعبے سے کچھ نہ کچھ نسبت تو ہونا ہی چاہیے
غافل ان طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
لیکن فرض کیجیے کہ یہ بلاوا ہمارے لیے ہے تو پھر بھی جانا مشکل ہے کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ ہمیں بطور ''مندوب'' کے شامل ہونا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں پہلے سے''مندوب'' ہونا یا بننا پڑے گا جب کہ ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ مندوب کس چڑیا کا نام ہے یا چڑیا ہے یا نہیں شاید کوئی اور پرندہ ہو بلکہ ممکن ہے کہ پرندہ ہو ہی نہیں کوئی خزندہ چرندہ یا درندہ ہو، ظاہر ہے کہ جب ہمیں مندوب بن کر جانا ہے تو اس ''مندوب'' لفظ یا ٹائٹل کا ویئرا باؤٹ تو پتہ ہونا چاہیے، شکل و صورت اور قد و قامت سے تو لگتا ہے کہ یہ کوئی عرب یا مستعرب لفظ ہے۔
مستعرب کا مطلب ہے جو عرب نہ ہو لیکن اب عرب ہو گیا ہو جیسے تاریخوں میں حضرت ابراہیم ؑ کو ''مستعرب عرب'' کہا جاتا ہے یا بہت سارے غیر پاکستانیوں کو پاکستانی کہا جاتا ہے حالانکہ ان کے اندر ایک بھی ''گُن'' پاکستانیوں کا نہیں ہوتا، خیر تو اس مندوب لفظ بلکہ عہدے کا پتہ ہم نے بھی چلانا چاہا لیکن اپنے پاس جو آدھا ادھورا عربی صرف و نحوکا چٹکی بھر علم ہے اس کے مطابق تو اس کا مادہ ''ندب'' ہونا چاہیے جسے مطلوب کا مادہ طلب ہے مقصود کا مادہ قصد ہے مضروب کا مادہ ضرب محکوم کا مادہ ''حکم'' ہے۔
''ندب'' کو ہم نے بہت ڈھونڈا کہیں نہ ملا اور بزرگوں نے کہا ہے کہ جو چیز کہیں باہر نہ نکلے اسے اپنے اندر ڈھونڈ لینا چاہیے اور جب اس اصول کے تحت ہم نے خود کو گھنگالا اپنے دماغ کو ٹٹولا اور اپنے علم کو چھانا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ''ندب'' غالباً ادب کا کوئی دور و نزدیک کا رشتہ دار ہو گا اور ''ن'' چوں کہ ''نفی'' پر دلالت کرتا ہے اس لیے ''ندب'' یقیناً وہ چیز ہو گی جو ادب نہیں ہوتی اسے آپ اینٹی ادب یا ضد ادب یا مخالف ادب بھی کہہ سکتے ہیں اور مندوب وہ لوگ ہوئے جو ادب کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں، اور یہی بات ہمیں حیراں کیے ہوئے ہیں کہ آخر اتنی رازدارانہ چیز کا پتہ اکادمی والوں کو کیسے چلا، حالانکہ ہم اس گمان اور خوش فہمی میں تھے کہ یہ راز صرف ہمیں ہی پتہ ہے کہ ''ندب'' ہمارے اندر کتنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور ہم ایک فیورٹ مندوب ہیں ۔
اس انکشاف کے بعد وہ تمام باتیں ہمیں غلط معلوم ہونے لگی ہیں جو اس قسم کی اکادمیوں کے بارے میں کہی جاتی ہیں کہ ایسی اکادمیوں میں صرف ایسے لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے جو ان کے ریکارڈ کے مطابق صرف دریا کی لہریں گننے پر لگائے جا سکتے ہیں یا فارسی کہاوت کے مطابق مونہوں کو لقمے سے بند کیا جانا ضروری ہوتا ہے، لیکن اب یہ ساری باتیں ہمیں دشمنوں کی اڑائی ہوئی افواہیں لگ رہی ہیں اکادمیوں میں بڑے لائق فائق اور ذہین و فطین لوگ بھی ہوتے ہیں جس کا ثبوت ہمیں ''مندوب'' کے عہدے پر فائز کرنے سے مل جاتا ہے ہم اتنے دور دراز بیٹھے ہیں کسی سے ملنا ملانا بھی نہیں ہے تقریبات میں بھی نہیں جاتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگوں کو ہمارے ''ندب'' یعنی مندوب یا سیدھے سادے الفاظ میں بے ادب ہونے کا پتہ چل جائے کیوں کہ حضرت شیخ سعدی نے کہا ہے کہ
تا مرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش خفتہ باشد
یعنی جب آدمی بولتا نہیں اس کے عیب و ہنر اور منہ کی بدبو کا پتہ نہیں چلتا اس لیے کہیں آنے جانے ملنے ملانے اور بولنے چالنے سے ہم مکمل پرہیز رکھے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کو ہمارے اندر کا پتہ چل گیا تو مطلب یہ کہ بڑے پہنچے ہوئے لوگ ہیں، رہا ہمارا جانا تو کیا ہم پاگل ہیں کہ خود جا کر جلسہ عام میں اپنے ''ندب پن'' کا ثبوت مندوب بن کر دیں، اس کے بعد تو ساری دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ ہم کیا ہیں؟