پاکستان ترکی اور افغانستان میں اقتصادی تعاون کی یادداشت پر دستخط

قومیں کسی کی غلام نہیں ہوتیں، انتہا پسند سوچ شکست کھارہی ہے، صدرزرداری، سہ فریقی کانفرنس کا اعلامیہ جاری


Monitoring Desk/News Agencies December 13, 2012
انقرہ:پاکستان ، افغانستان کے وزرائے خارجہ اور ترک وزیر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کررہے ہیں ،صدر زرداری ،عبداللہ گل اور حامد کرزئی بھی موجود ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: پاکستان ، ترکی اور افغانستان نے افغانستان میں امن ومفاہمتی عمل کی حمایت اورخطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کیلیے تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کو خطے میں امن ،سلامتی اور استحکام کیلیے بڑا خطرہ قراردیا ہے اور تجارت اور معیشت کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق دو روزہ ساتویں سہ فریقی سربراہ کانفرنس کے موقع پر صدر آصف علی زرداری، افغان صدر حامد کرزئی اور ترکی کے صدر عبداﷲ گل کے درمیان ملاقاتوں میں ہوا۔ سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے 11نکاتی مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کیلیے ایک بڑا خطرہ اور مشترکہ چیلنج تسلیم کیا گیا۔ افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر اسداﷲ خالد اور پاکستان میں خواتین کی تعلیم کیلیے سرگرم ملالہ یوسفزئی پر دہشت گردوں کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ پاکستان' ترکی اور افغانستان نے تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلیے سہ فریقی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت سہ فریقی تجارتی کونسل قائم کی جائے گی جو تینوں ممالک کے درمیان خدمات کے شعبے میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے' تجارتی تعلقات کو متنوع بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔

05

بعد ازاں سہ فریقی کانفرنس کے اختتام پر افغان صدر حامد کرزئی اور ترکی کے صدر عبداﷲ گل کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئیصدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند سوچ شکست کھا رہی ہے، قومیں کسی کی غلام نہیں ہوتیں پاکستان نے ہمیشہ اپنے ترک دوستوں کا احترام کیا، تینوں ممالک کے مذاکرات جمہوری سوچ کے عکاس ہیں۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ افغان انٹیلیجنس چیف پر حملہ سہ ملکی اتحاد کو ناکام بنانے کی مذموم سازش ہے، دہشتگردی غیر ریاستی عناصر کرتے ہیں ان کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ اس موقع پر ترک صدر عبداللہ گل نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں اس کے خلاف ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں قیام امن اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی سے پاکستانی معیشت پر بوجھ کم ہوگا۔ دریں اثناء وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے فرانسیسی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طالبان اور افغان حکام کے درمیان مذاکرات کسی اور جگہ نہیں افغانستان کی سرزمین پر ہونے چاہئیں۔