حقانی نیٹ ورک اور دیگر گروپوں سے مذاکرات ہوسکتے ہیںاولسن

انتہا پسندی پراپنے تحفظات بتادیے، شمالی وزیرستان میں آپریشن پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے


INP December 13, 2012
انتہا پسندی پراپنے تحفظات بتادیے، شمالی وزیرستان میں آپریشن پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے مفاہمت کی پالیسی کے جو اصول وضع کیے ہیں، ان کا اطلاق حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسند گروہوں پر ہوتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی تنظیم کا کوئی بھی رکن اگر مفاہمتی پالیسی پر عمل کرے گا تو اس سے بات ہو سکتی ہے۔ امریکا کا گھوڑا جمہوریت ہے، پاکستان میں شفاف انتخابات کے حق میں ہیں۔ پاک امریکا تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہونے کے بارے میں پاکستانی وزیرخارجہ حناربانی کھرکے بیان سے متفق ہو ں۔ بدھ کوبرطانو ی نشریاتی ادارے کودیے گئے انٹرویومیں رچرڈ اولسن نے کہاکہ افغان مفاہمتی پالیسی پر بات کرنا یا اسے طے کرنا ان کا نہیں بلکہ افغان حکومت کا کام ہے۔

انھوں نے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں امریکی تشویش کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ پاکستان کو انتہا پسندی اور تشدد کے حوالے سے اپنے تحفظات بتائے ہیں، اب اس بارے میں مناسب اقدامات اٹھانا پاکستان کی حکومت کا کام ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ ماضی میں ہمارے تعلقات میں کچھ مشکل مرحلے آئے مگر ہمارے تعلقات اب مثبت سمت میں گامزن ہیں۔

پاکستان کی جانب سے رسد کا راستہ دوبارہ کھول دینا سب سے اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس حوالے سے تعلقات میں شدید تنائو تھا۔ امریکی سفیر نے تعلقات میں استحکام کے لیے بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کو اہم قرار دیا۔ اس سوال پر کہ ڈرون حملے پاک امریکا تعلقات کا سب سے تلخ پہلو ہیں؟رچرڈ اولسن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پرتشدد انتہا پسندی کے مشترکہ خطرے سے پاکستانی اور امریکی عوام دونوں متاثر ہو رہے ہیں اور یہ یقینی طور پر پوری دنیا کے لیے بھی چیلنج ہے۔

07

امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ مفاہمت کی پالیسی افغانستان کی ہے جس پر پاکستان کی حمایت کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔ امریکا نہیں سمجھتا کہ طالبان کے ساتھ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف ساتھ لڑائی میں کوئی اختلافی بات ہے۔ ایک سوال پر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان نیٹو کا رکن نہ ہونے کے باوجود امریکا کا اہم اتحادی ہے اور دونوں کے تعلقات کی تاریخ 65 سال پر محیط ہے۔

امریکا پاکستانی حکومت پر اعتماد کرتا ہے۔ میرے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ پاکستان کی حکومت کو اسامہ بن لادن کی ملک میں موجودگی کاعلم تھا، ہم تعلقات کی بہتری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔ انٹرویو کے دوران امریکی سفیر نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کی طرح پاکستان کو بھی پرتشدد انتہا پسندی کے چیلنج کا سامنا ہے جس کے علاوہ پاکستان کو اندرونی چیلینجز بھی لاحق ہیں جن سے نمٹنا پاکستانی حکومت اور عوام کا کام ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو اس حوالے سے کیا گریڈ دیتا ہے، میں یا باہر کا کوئی بھی آدمی ایسا نہیں کر سکتا۔ رچرڈ اولسن کے مطابق انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے۔ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس جنگ میں گذشتہ دس برسوں میں تقریبا 40 سے 50 ہزار پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی کاموں پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی ہمارا مشترکہ ایجنڈا ہ، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کا مستقبل روشن اور تابناک ہو اور ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے رہیں۔