عمر تو میری بھی چھ مہینے ہے لیکن…

آج کل تو لطیفوں کی دنیا میں ’’ہاتھی اور چیونٹی‘‘ کے لطیفے زیادہ چل رہے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq October 18, 2016
[email protected]

KARACHI: آج کل تو لطیفوں کی دنیا میں ''ہاتھی اور چیونٹی'' کے لطیفے زیادہ چل رہے ہیں لیکن کچھ زمانہ پہلے ہاتھی اور چوہے کے لطیفے بڑے مقبول تھے جیسے ایک چوہا درختوں میں چھپ رہا تھا ،کسی نے پوچھا کہ کیوں بھئی یہ کیا چھپا چھپی کا کھیل کھیل رہے ہو، اس پر چوہے نے شی می کر کے کہا کہ

کچھ ایسی بات اڑی ہے ہمارے گاؤں میں
کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

پوچھنے والے نے کہا مگر وہ بات ہے کیا؟ چوہا بولا ،کسی نے ہاتھی کی بیٹی کو اغواء کر لیا ہے اور شک مجھ پر کیا جارہا ہے۔ ایسا ہی ایک حقیقہ بھی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا، اس گاؤں میں پہلے ایک بڑا زبردست بدمعاش رہتا تھا۔ وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ دوسرا بولا ، اس کے زمانے اب گئے ، اس سے بڑے بڑے پیدا ہو گئے ہیں۔ نووارد نے کہا ، آج کل یہاں کس کا راج چلتا ہے تو دوسرا بولا، کیا بتاؤں لوگ تمہارے اس بھائی کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں، لیکن ایسے لطیفے اب اولڈ فیشن ہو گئے ہیں اور ہاتھی کے ساتھ چیونٹی کا پیئر ہٹ جارہا ہے۔

ان پرانے لطیفوں میں ایک یہ بھی تھا کہ کسی ہائی فائی تقریب میں ہاتھی کے بچے اور چوہے کے بچے کا سامنا ہو گیا، چوہے نے ہاتھی کے بچے سے پوچھا ، تمہاری عمر کیا ہے؟ ہاتھی کے بچے نے کہا چھ ماہ ۔ اور تمہاری؟، چوہے کے بچے نے جواب دیا عمر تو میری بھی چھ مہینے ہی ہے لیکن میں ذرا بیمار شمار رہتا ہوں، آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ ہم اس بات کو ایک خوب صورت موڑ دے کر پاکستان اور اس کے ساتھ ہی ساتھ آزاد ہونے والے ممالک پر لے آئیں تو ہم آپ کی سوچ کو غلط کیسے کہہ سکتے ہیں۔

اس وقت بھارت، چین، انڈونیشیا، ملائشیا اور اسرائیل وغیرہ کی عمر بھی اتنی ہی ہو گی جتنی پاکستان کی ہے لیکن برا ہو ان ''بیماریوں اور امراض'' کا جو اسے ابتداء ہی سے لاحق چلے آرہے ہیں جن میں کچھ تو پیدائش سے بھی پہلے کی ''بیماریاں'' ہیں اور ابھی تک ان میں کمی تو نہیں بلکہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ہمارے علامہ بریانی عرف برڈ فلو اور چشم گل چشم عرف سوائن فلو زندگی میں پہلی بار اور شاید آخری بار بھی اگر کسی بات پر متفق ہوئے ہیں تو وہ یہ ہے کہ اس کم بخت پڑوسی نے بھی اس پر کچھ کیا یا کرایا ہوا ہے، پڑوسی کا رنگ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے کالے علم میں یدطولیٰ حاصل ہے جب کہ بزرگوں نے ستر سال پہلے اس ''بیمار'' شمار بچے کے والدین کو سمجھایا تھا کہ

گورے رنگ پہ نہ اتنا گمان کر
کہیں کالا نہ پیچھے پڑ جائے

لیکن چونکہ اس کا دل بھی اپنے رنگ کی طرح صاف ہے اور نیت بھی، اس لیے اس نے اس نصیحت کو پلے نہ باندھا اوپر سے اسے مٹی کھانے کی بری لت بھی پڑی ہوئی ہے لیکن گوری رنگت بھی اب پیلی اور پھیکی پڑ چکی ہے، لیکن اصل بات جس کے کہنے کے لیے یہ ساری زمین ہموار کی ہے وہ یہ ہے کہ اس بیمار شمار رہنے، نظر لگنے اور دشمنوں کے کچھ کرنے کے باوجود عمر تو اس کی ستر برس ہے، کچھ اور نہ سہی کم از کم ستر سال کا تجربہ تو اسے ہونا چاہیے یا کم از کم یہ تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بیمار شمار رہنے اور ابھی تک کمزور اور پیلا پڑنے کی وجوہات کیا ہیں، حالانکہ دنیا اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اپنی آنے والی بیماریوں کا بھی ابھی سے تحفظ اور تدارک کر رہی ہے۔

کہیں دور یورپ اور امریکا جاپان اور چین جانے کی بھی ضرورت نہیں، ایک بظاہر دولت اور بے فکر سعودی عرب نے بھی دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے حالانکہ اس کے پاس اتنا تیل ہے کہ ابھی اسے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے چنانچہ خبر کے مطابق سعودی عرب نے پروگرام بنایا ہے کہ توانائی کے حصول اور بجلی پیدا کرنے کے روایتی طریقوں کو ترک کر کے ماحول دوست توانائی حاصل کی جائے، اس میں چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ''سورج اور زمین'' کی توانائی پر کام شروع ہو گیا۔

شمسی توانائی کا کام تو ایک عرصے سے شروع ہو رہا ہے کیوں کہ وہاں سورج بھی تیز ہوتا ہے اور صحرا میں ''سیلیکون'' کے لیے ریت بھی بہت ہے جو بیٹریوں میں کام آتا ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ زمین کی حرارت کو بھی کام میں لایا جائے، شمسی توانائی کا سلسلہ تو اتنا تیز ہے کہ 2020ء تک پورا ملک شمسی توانائی پر چلا جائے گا، لیکن اس کے باوجود بھی زمین کی حرارت سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، زمین کی حرارت کے بارے میں بتا دیں کہ چار ارب سال پہلے جب ہماری یہ زمین وجود میں آئی تو صرف آگ اور توانائی کا ایک گولہ تھی پھر آہستہ آہستہ لگ بھگ ساڑھے تین ارب سالوں میں یہ ٹھنڈی ہوتی رہی، اوپر کی سطح پر گیسز بنے، مٹی اور پتھر وجود میں آئے ۔

سیلاب برف کے طوفان اور نہ جانے کیا کیا ہونے کے بعد کہیں جا کر یہ ذی حیات کے رہنے کے قابل ہوئی اور حیات کا پہلا جرثومہ کوئی ستاون کروڑ سال پہلے پھوٹا، لیکن اس کا اندرونی بطن بدستور گرم بلکہ گرم ترین ہی رہا، چند کلو میٹر نیچے اب بھی یہ ایک ایسی بھٹی کی مانند ہے کہ جس کی حرارت کا کوئی اندازہ تک نہیں لگا سکتا جو ہزاروں فارن ہائیٹ سے بھی زیادہ ہے، ظاہر ہے کہ توانائی ہی حرارت اور حرارت ہی توانائی ہوتی ہے اور اگر کسی طرح نیچے جا کر اس عظیم الشان حرارت کے ذخیرے تک رسائی حاصل ہو گئی تو ہزاروں لاکھوں سال تک اس حرارت سے توانائی کا حصول ممکن ہے، حالانکہ موجودہ وقت میں سعودی ہر لحاظ سے مالا مال ہے نہ صرف اس کے پاس تیل کے ذخائر ہیں بلکہ صنعتوں کو بھی ترقی دے رہا ہے۔

خاص طور پر زراعت کو اس نے صحراؤں کی طرف بڑھانا شروع کیا ہوا ہے اور اگر توانائی ہو تو پانی کو دور دور تک صحراؤں میں پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ پہنچایا گیا چنانچہ گندم میں شاید وہ خود کفیل ہو چکا ہے اور توانائی کی وجہ سے تو پائپوں کے ذریعے ہی صرف بارش نہیں برسائی جارہی ہے بلکہ ٹریکٹر نما ٹینکوں کے ذریعے بھی صحرا کو بہت دور دور تک گلزار بنایا جا چکا ہے، کچھ عرصے پہلے مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلیمان نے سعودی الیکٹرک کمپنی کے چیئرمین زیاد بن محمد الشجہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو زمین کی حرارت سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کرنے لگی ہے، حالانکہ تیل ابھی بہت ہے۔

حج کی آمدنی بھی کم نہیں ہے لیکن ان کو یہ احساس ابھی سے ہے کہ تیل کبھی نہ کبھی تو ختم ہونا ہے حالانکہ فی الحال اس کے پاس اتنا تیل ہے کہ سڑکوں کی گرد بٹھانے کے لیے ڈیزل کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی آنے والی کل کی فکر انھیںآج سے لاحق ہے غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے حکمران اس ملک کو ''اپنا'' سمجھتے ہیں جب کہ ہمارے عجیب و غریب جمہوریت کے کرتا دھرتاؤں کی سوچ ہے کہ کل کس نے دیکھی ہے جو کل کرنا ہے سو آج کر جو آج کرنا ہے سو اب، اب یہ الگ بات ہے کہ ''کرنا'' کیا ہے اور کیا کر رہے ہیں، بٹائی والے اور اجارہ دار کو کھیت سے کیا دل چسپی ہو سکتی ہے، اسے تو موجودہ تیار فصل کاٹنے سے دل چسپی ہوتی ہے ۔کتنا بڑا جھوٹ ہے کہ بری سے بری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی بادشاہت سے بہتر ہوتی ہے، ہاں اگر اسے الٹا کیا جائے تو...