’’جنات کا وجود قرآن پاک کی روشنی میں‘‘

عبد القادر شیخ  جمعرات 13 دسمبر 2012
اور ہم نے انسان کو کھنکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے، القرآن ۔ فوٹو : فائل

اور ہم نے انسان کو کھنکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے، القرآن ۔ فوٹو : فائل

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 

ترجمہ: ’’بے شک ہم نے انسان کو بہترین انداز پر بنایا ہے۔ ‘‘ (سورۃ تین، آیت،۴)

حضور اکرم ؐ کا ارشاد مبارک ہے۔

ترجمہ: ’’انسان اپنی خلقت میں سب سے اشرف ہے۔ خوب صورتی اور وضع قطع میں دنیا کی کوئی چیز اس کے مد مقابل نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح جن بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جنہیں انسان کی پیدائش سے قبل پیدا کیا تھا۔ اس مخلوق کے وجود کے تمام اکابرین قائل ہیں ۔ شیخ تقی الدین ابن تیمّیہ ؒ فرماتے ہیں کہ ’’ اکابرین امت میں سے کسی نے بھی جنات کے وجود کا انکار نہیں کیا۔ اکثر کفار بھی ان کے وجود کے قائل ہیں کیونکہ جنات کے وجود کے متعلق انبیائے کرام کے ارشادات حدتواتر تک پہنچے ہوئے ہیں، جس کا یقینی طور پر معلوم ہونا لازمی ہے ۔ سوائے فلسفیوں کی ایک معمولی جماعت کے علاوہ جنات کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا ۔

اسلامی عقائد میں جن کا وجود متفقہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔جن کے معنی چھپے ہوئے، پوشیدہ، دیو بھوت کے ہیں (نقاد اللغات)۔ جس لفظ میں ج اور ن ایک ساتھ آتے ہیں، اگر چہ ان پر تشدید بھی لگی ہو تو اس میں پوشیدگی کا مادہ کارفرما ہوتا ہے۔ مثلاً جنت ، جنین (وہ بچہ جو مادر رحم میں ہو) ۔ اسی طرح ایک اور لفظ جنون ہے جس کے معنیٰ عقل پرپردہ ڈالنا ہے۔ اسی طرح ’جنہ‘ ڈھال کو کہتے ہیں، جو ایک جنگی ہتھیار ہے جسے سامنے کرکے سپاہی اپنے مخالف کے وار سے خود کو بچاتا ہے۔ چناںچہ اسے ’جن‘ کا نام اسی لئے دیا گیا کہ یہ ہماری نظر سے پوشیدہ ہے ۔

قرآن کی اصطلاح میں ’جن‘ ایک غیر مرئی مخلوق ہے۔ اس مخلوق کا ذکر قرآن حکیم میں 8 سورتوں کی 12اور سورۃ جن کی 15آیات میں موجود ہے ۔
جنوں کی تخلیق کب اور کس طرح ہوئی؟ بعض محققین اور تاریخ داں لکھتے ہیں کہ جنات کو آدم ؑ کی تخلیق سے بھی دو ہزار سال قبل تخلیق کیا گیا تھا۔ قرآن حکیم میں اس کا ذکر اس طرح آیا ہے۔ ترجمہ: ’’اور ہم نے انسان کو کھنکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بے دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا ۔‘‘ (سورہ الحجر آیات 26-27)

ایک اور جگہ ارشاد مبارک ہے۔ ترجمہ: ’’اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا اور جنات کو آگ کے شعلے سے پید ا کیا ‘‘۔ (سورہ رحمٰن آیات 14-15) ابن کثیر ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’صلصال‘ خشک مٹی کو کہتے ہیں اور جس مٹی میںآواز ہووہ فخار کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی جو آگ میں پکی ہوئی ہو اسے ’ٹھیکری‘ کہتے ہیں ۔ مارج سے مراد سب سے پہلا جن ہے جسے ابو الجن کہا جا سکتا ہے جیسے حضرت آدم ؑ کو ابو ا لآدم کہا جاتا ہے ۔ لغت میں ’مارج‘ آگ سے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر )

تفہیم القرآن میں سید ابو الاعلیٰ مودودی رقم طراز ہیں کہ ’’نار سے مراد ایک خاص نوعیت کی آگ ہے ،نہ کہ وہ آگ جو لکڑی یا کوئلہ جلانے سے پیدا ہوتی ہے اور مارج کے معنی ہیں خالص شعلہ، جس میں دھواں نہ ہو۔ جس طرح پہلا انسان مٹی سے بنایا گیا پھر تخلیق کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اس کے جسد خاکی نے گوشت پوست کے زندہ بشر کی شکل اختیار کی اور آگے اس کی نسل نطفہ سے چلی۔ اسی طرح پہلا جن خالص آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا اور بعد میں اس کی ذریت سے جنوں کی نسل پیدا ہوئی۔ ان کا وجود بھی اصلاً ایک آتشیں وجود ہی ہے لیکن جس طرح ہم محض ایک تودہ خاک نہیں ہیں اسی طرح وہ بھی محض شعلہ آتشیں نہیں ہیں۔‘‘ (تفسیر سورہ رحمٰن آیت 15) ایک روایت میں آیا ہے کہ جنوں کو جمعرات کو تخلیق کیا گیا تھا ۔ جنوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تھا جس کی تصدیق قرآن حکیم نے ان الفاظ سے کی ہے۔ ترجمہ: ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘ ۔ (سورہ الذاریات آیت 56)

اس آیت مبارکہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ انسان اور جن ، دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیاگیا ہے اورقرآن حکیم ان دونوں مخلوقات کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے ۔
اہل عرب دور جاہلیت میں بڑے تو ہم پرست ہوا کر تے تھے۔ 360 بتوں کی تو وہ پوجا اور پرستش کرتے ہی تھے اور اس میں شدت کا یہ عالم تھا کہ ہر خاندان اور قبیلے کا ایک الگ بت ہوا کرتا تھا۔ کوئی ایک قبیلہ دوسرے کے بت کی پوجا کا مکلف نہ تھا ۔ چناں چہ اسی دور میں جب عرب قوم کے لوگ کسی سفر پر روانہ ہوتے اور راستے میں کوئی وادی یا خوفناک بیابان آجاتا تو وہاں سے گزرتے وقت یہ الفاظ اد اکرکے گزرتے ۔ ’’ میں اس وادی کے سردار اور اس کی قوم کے بیوقوفوں سے پناہ چاہتا ہوں ‘‘۔ ان کے خیال میں بیابانوں پر جنات کا تسلط تھا اور جنوں کے سردار کی اس لیے پناہ طلب کرتے تھے کہ اس کے ما تحت بسنے والے جن کچھ اذیت نہ پہنچائیں ۔ مطلب یہ کہ اس قسم کے رسوم اور اقوال سے انسانوں نے ان جنات کو اور بھی زیادہ مغرور بنا دیا تھا ۔ اس کے علاوہ اس مخلوق میں سر کشی ونافرمانی کا بھی مادہ موجود ہے اور اپنے مادے کی خاصیت کی بناء پر ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ آگ کا خاصہ یہی ہے کہ وہ سر اٹھائے اور سوزش اور جلن کو نتیجے میں دکھلائے ۔

جنات میں نیک اور بد دونوں اقسام ہوتی ہیں۔ یہ مختلف روپ دھار کر روئے زمین پر وارد ہوتے ہیں۔ انہیںمیں سے ایک جن کا نام ’ابلیس‘ ہے، جو انسان کی دشمنی میں اندھا ہوگیا ہے اور اس نے نسل آدم کو بہکانے کے لیے قیامت تک کی مہلت لے لی ہے۔ یہ وہی ابلیس ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی تھی اور حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اس کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح کیا گیا ہے۔ ترجمہ: ’’ جب کہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا، میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں۔ سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ چناںچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا)۔ اس نے تکبر کیا اور وہ تھا کافروں میں سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا!اے ابلیس اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، کیا تو کچھ غرور میں آگیا ہے یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے؟۔ اس نے جو اب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے۔ ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہوا اورتجھ پر قیامت کے دن تک لعنت و پھٹکار ہے ۔ کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن (قیامت ) تک کی مہلت دے ۔ فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے، متعین وقت کے دن تک۔ کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم میں ان سب کو یقینا بہکا دوں گا۔ بجز تیرے ان بندوں کے، جو چیدہ اور پسندیدہ ہوں۔ فرمایا سچ تو یہ ہے اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں جہنم کو بھر دوں گا‘‘۔ (سورہ ص ٓ آیات 72تا85)

یہ جن و شیاطین صرف روئے زمین پر ہی اپنے مذموم عزائم برپا کرسکتے ہیں ۔ آسمانی دنیا پر ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ اگر وہ ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہونے والی گفت و شنیدکی ٹوہ میں جائیںگے تو ان پر ستاروں کی مار لگائی جاتی ہے او ر وہ زمین کی طرف چیختے چلاتے واپس آجاتے ہیں ۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔ ترجمہ: ’’ یقینا ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لیے اسے سجا دیا ہے اور اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھاہے۔ ہاں! مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے، اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگتا ہے‘‘۔ (سورہ الحجر آیات 16تا18)

اس آیۂ مبارکہ میں دو الفاظ رجیم اور مردود آئے ہیں ۔ رجیم کے معنیٰ سنگسار کرنے کے ہیں۔ شیطان کو رجیم اس لئے بھی کہا گیا ہے کہ جب یہ آسمانوں پر جانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب برسائے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ شیاطین تو اسی وقت جل مرتے ہیں اور جو بچ کر آتے ہیں وہ نجومیوں اور کاہنوں سے مل کر شرارت کرتے ہیں (تفصیل کے لیے صحیح بخاری و تفسیر سورہ الحجر دیکھئے)
ستارے آسمان دنیا کی زینت ہیں جہاں رات کے وقت وہ مسافروں کی اور اوقات کی راہ نمائی کرتے ہیں اسی طرح جنات و شیاطین کو سبق سکھانے کا کام بھی دیتے ہیں۔

جنات میں جہاں بد طینت قسم کا گروہ تھا وہاں اچھے نیک اور بزرگ گروہ بھی تھے۔ وہ اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان میں ہدایت حاصل کرنے کا عزم اور ولولہ تھا جس کی اولین مثال حضرت سلیمان ؑ کی ہے جن کے تابع فرمان رہ کر وہ مشکل سے مشکل امور سرانجام دیتے رہتے تھے۔ دوسری مثال نبی اکرمﷺ کے دور نبوت کی ہے جب جنات نے نبی اکرم ﷺ سے قرآن حکیم سنا تھا۔ اس گروہ نے جہاں آپؐ کی زیارت کا شرف حاصل کیا وہاں اپنی سماعت کو بھی منور کیا اور پھر اپنے قبیلے یا خاندان میں جاکر بڑی حیرت و استعجاب کے ساتھ اس واقعے کو سنایا۔

یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپؐ صحابہ کرام ؓ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنوں کو تجسس تھا کہ آسمان پر ہم پر بہت زیادہ سختی کردی گئی ہے اور اب ہمارا وہاں جانا تقریباً نا ممکن بنا دیا گیاہے، کوئی بہت اہم واقعہ رونما ہوا ہے جس کی بناء پر ایسا ہوا ہے۔ چناںچہ مشرق و مغرب کے مختلف اطراف میں جنوں کی ٹولیاں واقعے کا سراغ لگا نے کیلئے پھیل گئیں۔ انہی میں سے ایک ٹولی نے یہ قرآن سنا اور یہ بات سمجھ لی کہ نبی ؐ کی بعثت کا یہ واقعہ ہی ہم پر آسمان کی بندش کا سبب ہے اور جنوں کی یہ ٹولی آپؐ پر ایمان لے آئی اور جا کر اپنی قوم کو بھی بتلایا ۔(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ )
مکہ مکرمہ میں حرم کے قریب جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں اب ’مسجد جن‘ بنا دی گئی ہے ۔ بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپؐ جنوں کی دعوت پر ان کے ہاں تشریف بھی لے گئے اور انہیں جاکر اللہ کا پیغام سنایا اور متعدد مرتبہ جنوں کا وفد آپؐ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔ (ابن کثیر)
جن و شیاطین کا ذکر قرآن حکیم میں 120سے بھی زائد مقامات پر آیا ہے ۔
’انس‘ بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آدمی اور شخص کے ہیں۔ لفظ انسان بھی اسی سے نکلا ہے ۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ متعدد بار دہرایا گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ قرآن جو اللہ کی نازل کردہ آخری الہامی اور آسمانی کتاب ہے اس کا مخاطب دنیا کا ہر انسان ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔