ریاستی اداروں کی حدود

عدلیہ دور اندیشی اور تدبر کا مظاہرہ نہیں کرتی تو ملک سیاسی ارتقا کے بجائے سیاسی اور سماجی انارکی کی طرف چلا جائے گا۔


Zaheer Akhter Bedari December 13, 2012
[email protected]

پاکستان آج جن بدترین اندرونی اور بیرونی مسائل میں گھرا ہوا ہے اس کا یہ تقاضا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے بہت احتیاط سے اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاستی ادارے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں الجھتے جارہے ہیں۔ پاکستان سیاسی اور سماجی ارتقاء کے دور سے گزر رہا ہے، ایسے دور میں ابتری تو سیاسی تاریخ کا حصہ ہے لیکن اگر ریاستی ادارے احتیاط اور دور اندیشی سے کام لیں تو اس ابتری کو بہتری میں بدلا جاسکتا ہے اگر بے احتیاطی کے راستے پر چلیں تو ابتری انارکی میں بدل سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہم بہتری کی طرف نہیں بلکہ بدترین انارکی کی طر ف بڑھ رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کوئی ادارہ بڑے خلوص نیت سے بدتری یا محاذ آرائی کو بہتری سمجھ رہا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ محاذ آرائی خواہ دانستہ ہو یا نادانستہ اس کا نتیجہ ملک و قوم کے لیے تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل سکتا۔

اس حوالے سے اگر ریاستی اداروں حکومت اور عدلیہ کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا آغاز این آر او کی منسوخی اور سوئس حکومت کو خط لکھنے کے عدالتی احکامات سے ہوا۔ اس محاذ آرائی میں حکمران جماعت کو اپنے وزیر اعظم کی قربانی دینی پڑی اس جانے والے وزیر اعظم کی جگہ آنے والے وزیر اعظم کو بھی اسی سوال کا سامنا تھا جس کا معقول اور عدالت عظمیٰ کی مرضی کے مطابق جواب نہ دینے کی وجہ سے گیلانی صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ موجودہ وزیر اعظم نے عدالت عظمیٰ کی مرضی اور حکم کے مطابق جواب دیتے ہوئے خط لکھ دیا ہے۔ کیا اس خط کے مندرجات عدالت عظمیٰ کی مرضی پوری کرتے ہیں یا حکومت کی مرضی کے مطابق ہیں اس کا جواب تو آنے والا وقت دے گا لیکن عام آدمی بہرحال یہ سوچ سوچ کر حیران ہورہا ہے کہ کیا اس خط کا تعلق مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی سے ہے؟ جس کا شکار برسوں سے اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ہورہے ہیں؟

خدا خدا کرکے خط بلکہ اس پراسرار خط کا مسئلہ حل ہوا تھا کہ دو ایسے نازک مسئلوں پر عدالت عالیہ نے فیصلے دے دیے جن کے بارے میں غیر جانبدار مبصرین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ دونوں مسئلے سیاسی ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ کالا باغ ڈیم کا ہے، دوسرا کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا ہے۔ کالا باغ ڈیم ایک اتنا شدید متنازع مسئلہ ہے کہ سیاستدان اسے اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں غالباً اسی وجہ سے جمہوری اور فوجی حکمران اس مسئلے کو اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حل نہ کرسکے۔ اس مسئلے کا براہ راست تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔ اس مسئلے کے دو بنیادی پہلو ہیں ایک یہ کہ کالا باغ ڈیم بننے سے خیبر پختونخوا کے کچھ علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے اور سندھ و بلوچستان بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم بنا تو اس پر پنجاب کی بالادستی قائم ہوجائے گی اور چھوٹے صوبے اس بالادستی کو ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔

جہاں تک خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے نقصان کا تعلق ہے اس کا درست اندازہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس ڈیم کے تکنیکی ماہرین پوری غیر جانبداری کے ساتھ اپنی رپورٹ قوم کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔ تینوں صوبوں کی اس شدید مخالفت کی وجہ سے پنجاب کی سیاسی قیادت بھی یہ کہہ رہی ہے کہ چاروں صوبوں کی رضامندی کے بغیر اس مسئلے کو ہرگز حل نہیں کیا جاسکتا اس مسئلے کا دوسرا پہلو پنجاب کی بالادستی کا ہے اور پنجاب کی بالادستی کا خوف اصل میں صوبوں کے درمیان بے اعتمادی کا نتیجہ ہے جو روز اول سے اس بدقسمت ملک میں پائی جاتی ہے اور 1971 کا المیہ اسی بے اعتمادی کا نتیجہ ہے۔ اس بے اعتمادی کی جڑیں چونکہ بہت گہری ہیں اس لیے اہل سیاست بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو چاروں صوبوں کی رضامندی سے مشروط کر رہے ہیں۔ ایسے نازک حساس مسئلے پر لاہور ہاہیکورٹ کا فیصلہ کیا ریاستی اداروں کے درمیان پہلے سے موجود محاذ آرائی میں شدت کا سبب نہیں بنے گا؟

عدالت عظمیٰ کا دوسرا فیصلہ جو شدید اختلاف کا سبب بن گیا ہے، وہ ہے کراچی کی حلقہ بندیوں میں تبدیلی۔ ہوسکتا ہے کراچی کی انتخابی حد بندیوں میں خامیاں موجود ہوں، لیکن نہ صرف اہل سیاست، سیاسی مبصرین بلکہ خود اعلیٰ عدالتوں کے سابق جج صاحبان ٹی وی پروگراموں میں دھڑلے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ''نئی حلقہ بندیوں'' کا مسئلہ مکمل طور پر الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔ کراچی ایک ایسا حساس اور سیاسی اختلافات کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا نتیجہ ہم ہر روز درجنوں بے گناہ انسانوں کے قتل کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ کیا عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے کراچی کی قتل و غارت گری اور شدید محاذ آرائی میں کمی آسکتی ہے؟ یا اضافہ ہوسکتا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ ان پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس حوالے سے کوئی بات کی جاتی یا کوئی فیصلہ کیا جاتا تو شاید عدلیہ اس تنقید کا نشانہ نہ بنتی ۔

2007 کے بعد ہماری عدلیہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آزاد ہوئی اور آزادانہ فیصلے کرتی دکھائی دے رہی ہے جو ملک و قوم کے لیے ایک اچھی علامت ہے لیکن جیساکہ ہم نے ابتدا میں کہا ہے ہمارا ملک سیاسی اور سماجی ارتقا کے نازک مراحل سے گزر رہا ہے ایسے نازک مرحلے میں اگر عدلیہ احتیاط، دور اندیشی اور تدبر کا مظاہرہ نہیں کرتی تو ہمارا ملک سیاسی اور سماجی ارتقا کے بجائے سیاسی اور سماجی انارکی کی طرف چلا جائے گا جو نہ ملک کے حق میں ہے نہ خود عدلیہ کے حق میں ہے۔ این آر او کے حوالے سے حکومت کی جانب سے عدلیہ پر تنقید کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب تمام سیاستدانوں، سیاسی مبصرین اور خود عدلیہ کے اکابرین تک وسیع ہوگیا ہے ۔ اس تناظر میں عدلیہ کے اکابرین سیاسی مسائل سے دور ہی رہیں تو مناسب ہے۔

مقبول خبریں