بلاول کی ریلی

’’عوام کو تخت رائیونڈ سے نجات دلائیں گے، سندھ کی تقسیم کی باتیں کرنے والے بکھر گئے


Dr Tauseef Ahmed Khan October 22, 2016
[email protected]

''عوام کو تخت رائیونڈ سے نجات دلائیں گے، سندھ کی تقسیم کی باتیں کرنے والے بکھر گئے، پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کمیٹی بحال، پانامہ بل منظور، اے پی سی کی قراردادوں پر عمل اور وزیر خارجہ کا تقرر نہ ہوا تو 27 دسمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کروں گا''۔ بلاول بھٹو زرداری نے 9 سال بعد کراچی میں پیپلز پارٹی کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا۔

اس طرح چیئرمین بلاول کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے نئے دور کا آغاز ہو گیا مگر 16 اکتوبر کا دن کراچی والوں کے لیے ایک نئی مصیبت کی صورت میں نازل ہوا۔ جب بلاول کی ریلی کے لیے شہر کی مرکزی شاہراہیں شاہراہِ فیصل، ایم اے جناح روڈ، کوریڈور 3 اور شاہراہِ قائدین بند ہونے سے شہر کے بڑے اسپتالوں کو جانے والے تمام راستے بند ہو گئے۔ کئی ایمبولینسیں راستہ نہ ملنے کی بنا پر ٹریفک میں پھنس گئیں، ہزاروں لوگ نہ ریلی پہنچ سکے اور نہ اپنی منزلوں کو جا پائے۔

پیپلز پارٹی نے 9 سال پہلے اپنی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی 18 اکتوبر 2007ء کو خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے دبئی سے واپسی کے بعد شاندار ریلی منعقد کی تھی۔ جس میں پورے ملک سے آئے ہونے لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ اس دن شاہراہِ فیصل پر اسٹریٹ لائٹس بند تھیں، کارساز پر بموں کے دھماکے ہوئے اور 200 کے قریب کارکن اور حامی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنی سرگرمیاں تقریباً معطل کر دی تھیں۔

2013ء کے انتخابات میں طالبان کے خودکش حملوں کی بنا پر پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم نہیں چلائی تھی۔ پھر انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے صرف ایک دفعہ پیپلز سیکریٹریٹ کے سامنے اجتماع کیا تھا اور بلاول نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ دونوں کے خلاف دھواں دار تقریر کی تھی مگر گزشتہ اتوار کی ریلی ایک بہت بڑی ریلی تھی۔ یہ ریلی کلفٹن میں بلاول چورنگی سے شروع ہوئی، لیاری اور مزارِ قائد سے ہوتی ہوئی شاہراہِ فیصل پر کارساز کے مقام پر ختم ہوئی۔ تقریباً 11 گھنٹے سفر کے بعد یہ ریلی اختتام کو پہنچی۔ اس ریلی میں بہت عرصے بعد لیاری کے لوگوں کی اکثریت نے شرکت کی۔

سندھ کے شہروں سے کم لوگ کراچی آئے تھے۔ لیاری میں گینگ وار کے خاتمے کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا، وہاں پیپلز پارٹی کے دفاتر کھل گئے اور ہفتے اور اتوار کی رات کو خوب گہماگہمی رہی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے پورے شہر میں استقبالی کیمپ لگائے، اس طرح کارکنوں کو عوام سے رابطے کا موقع ملا۔

کراچی میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی اور بہت سے کارکن انڈرگراؤنڈ ہو گئے۔ ایم کیو ایم کی سرگرمیوں کے باعث کراچی کے اردو بولنے والے لوگوں کی بستیوں میں پیپلز پارٹی کی تنظیم ختم ہو گئی تھی اور اس کے دفاتر بند ہو گئے تھے۔ اس ریلی کے موقع پر مختلف علاقوں میں پیپلز پارٹی نے کیمپ لگائے، اس طرح پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو موقع ملا کہ وہ عوام سے رابطہ قائم کریں۔

پیپلز پارٹی کے بانی رکن جان عالم کا کہنا ہے کہ ریلی میں لیاری اور ملیر کے بلوچوں اور سندھیوں کے علاوہ پٹھانوں کی بھاری تعداد شریک تھی، البتہ اردو بولنے والے کم تھے۔ اس ریلی کو منظم کرنے والے صاحبان علم نے اپنے چیئرپرسن کی چار مقام پر تقاریر رکھیں، اس طرح ان کی پالیسی تقریر کے اہم نکات تقسیم ہو گئے۔ جب رات 12 بجے کے قریب بلاول کارساز میں اختتامی تقریر کر رہے تھے ان کے پاس اپنی تقریر میں کہنے کو کچھ نہیں تھا۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جو مطالبات کیے، وہ بہت زیادہ اہمیت کے حامل نہیں تھے۔ پارلیمانی نیشنل کونسل کمیٹی کی بحالی، وزیر خارجہ کا تقرر، پانامہ بل کی منظوری اور اے پی سی کی قراردادوں پر عملدرآمد کے مطالبات بہت زیادہ اہم نہیں ہیں۔ اسی طرح 16 اکتوبر کو کوئی اہم اعلان بھی میڈیا کے لیے بہت زیادہ کشش کا باعث نہیں بنا۔ مگر اس ریلی سے کراچی میں پیپلز پارٹی اپنی جڑیں پکڑے گی؟ اس سوال کے پس منظر کو جاننے کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی 1970ء کے انتخابات میں کراچی کی بڑی تنظیم تھی۔ پیپلز پارٹی میں شامل کمیونسٹ پارٹی پرو چائنا کے نمایندوں کی قیادت معراج محمد خان کر رہے تھے۔ انتخابات میں حصہ نہ لینے کے مسئلے سے پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو دھچکا لگا تھا۔

معراج محمد خان کو لیاقت آباد سے انتخاب میں حصہ لینا تھا۔ ان کے ساتھ ٹی وی اداکار طارق عزیز، ڈاکٹر تبسم اور زین العابدین جیسے سخت جان کارکن تھے۔ مگر پھر بھی پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ مگر بھٹو حکومت میں لسانی بل، دیہی اور شہری کوٹے کے نفاذ پر سائٹ اور لانڈھی کی مزدور تحریک کو طاقت سے کچلنے کی بنا پر پیپلز پارٹی 1977ء میں کراچی جیسے شہر میں اپنی گرفت کھو چکی تھی۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے ابھری تھی۔ اگر مارشل لاء حکام پیپلز پارٹی کی دو خواتین کونسلروں کو نظربند نہ کرتے تو جماعت اسلامی کے میئر سید عبدالستار افغانی کے بجائے عبدالخالق اﷲ والا کامیاب ہوتے۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف ڈیڈا ڈپٹی میئر منتخب ہوئے تھے۔ پھر مہاجر قومی موومنٹ کے عروج اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ہلاکتوں، ان کے گھروں پر حملوں کے بعد پیپلز پارٹی کراچی سے بہت سے علاقوں میں صرف کاغذوں تک محدود ہو گئی تھی، مگر اس دوران کراچی کے مسائل بڑھتے چلے گئے۔

شہر میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی، پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے ختم ہو گئی، شہری علاقوں کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہو گئے۔ جب 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو ایم کیو ایم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بن گئی، مگر جنرل پرویز مشرف کے قائم کردہ نچلی سطح تک بلدیاتی نظام کے ذریعے شہر کا انفرااسٹرکچر تبدیل ہوا۔

پہلے جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اﷲ خان نے شہر کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے منصوبہ بندی کی اور ترقیاتی عمل تیز ہوا، پھر ایم کیو ایم کے ناظم مصطفی کمال نے اوورہیڈ برجز اور انڈر پاسز بنا کر شہر کو ایک نیا رنگ دیا، مگر اس دور میں پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہونا شروع ہو گئی۔ صرف امراء اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بستیوں میں ترقیاتی کام ہوا اور شہر کے مضافاتی علاقے اور خاص طور پر لیاری ترقی کے ثمر سے محروم رہے۔

بلدیاتی اداروں کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی۔ چپڑاسی سے لے کر سیکریٹری تک کی ہر محکمہ میں آسامیاں فروخت ہوئیں، بلدیاتی اداروں کا بجٹ افسران کی تقرریاں کرنے والے مجاز حکام کے پاس چلا گیا۔ شہر کوڑے دان میں تبدیل ہوا۔

مراد علی شاہ وزیراعلیٰ بنے تو انھوں نے بنیادی مسائل پر توجہ دی مگر بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ دینے کی بنا پر شہر کوڑے دان کی کیفیت سے نہ نکلا۔ ماہرین کی رائے ہے کہ پیپلز پارٹی اردو بولنے والے علاقوں میں ایم کیو ایم کی جگہ لے سکتی ہے۔ ایم کیو ایم شدید تنظیمی بحرانوں میں مبتلا ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کو شہر کو اپنانا ہو گا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ بلدیاتی اداروں کو تمام اختیارات دے۔ پھر کوٹہ سسٹم پر نظرثانی کے لیے صوبائی اسمبلی میں بحث کا آغاز ہونا چاہیے اور 90ہزار ملازمتوں کو میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی جائیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو پارٹی میں عہدے دیے جائیں۔

پرانے کارکنوں جنھوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں برسوں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں اور جلا وطنی کی مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا ہے انھیں اہمیت دی جائے اور ایم کیو ایم کے جنگجو عناصر کے خلاف آپریشن کو اردو بولنے والوں کے خلاف آپریشن میں تبدیل نہ کیا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو برطانیہ کی سیاسی جماعتوں کی طرح جدید پارٹی میں تبدیل کیا جائے تو وہ پھر کراچی میں مقبول ہو سکتی ہے۔ مگر اب بلاول کو سارا زور پنجاب میں لگانا چاہیے۔

پنجاب میں پارٹی منظم ہو گی تو پھر وہ مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کو چیلنج کر سکے گی۔ اس وقت تک بلاول کو کوئی چیلنج نہیں دینا چاہیے ورنہ ان کے چیلنج کی اہمیت پنجابی فلموں کے ہیرو کی بڑھکوں سے زیادہ نہیں ہو گی۔ پیپلز پارٹی کا متحرک ہونا سیاسی نظام کے لیے خوشگوار علامت ہے مگر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سیاسی سرگرمیوں سے سڑکیں بند نہ ہوں اور عام آدمی کی مشکلات نہ بڑھیں، یوں ان سرگرمیوں کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں