سپریم کورٹ کی مفت لازمی تعلیم کیلئے قانون نہ بنانے پر برہمی وفاق اور صوبوں کی رپورٹیں مسترد

18ویں ترمیم میں مفت لازمی تعلیم کی شرط رکھی گئی،دوسال بعد بھی قانون سازی نہ کرنا قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے،چیف جسٹس


INP/Numainda Express December 14, 2012
18ویں ترمیم میں مفت لازمی تعلیم کی شرط رکھی گئی،دوسال بعد بھی قانون سازی نہ کرنا قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے،چیف جسٹس فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے مفت لازمی تعلیم کیلیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹس مستردکر دی ہیں اور دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود مفت لازمی تعلیم کیلیے قانون سازی نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکیا ہے ۔

عدالت نے اس بارے میں چاروں صوبائی چیف سیکرٹریوں ،کمشنر اسلام آباد اور سیکرٹری کیڈ سے دو ہفتے میں جامع رپورٹ طلب کر لی ہے ۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں لڑکیوں کو قبرستان میں تعلیم دینے کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران مفت تعلیم اور گھوسٹ اسکولوں کے بارے چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیااور آئین کی خلاف ورزی پر وضاحت طلب کی ہے ۔

16

عدالت نے پانچ سے سولہ سال کے بچوں کی مفت لازمی تعلیم اور صوبوں میں موجودگھوسٹ سکولوں کے حوالے سے صوبوں اور وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کی تھی ۔چیف جسٹس نے کہا18ویں ترمیم میں مفت لازمی تعلیم کی شرط رکھی گئی تھی،دو سال ہو گئے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا عدالت نے استفسار کیا اس بارے میں صوبوں نے کیا قانون سازی کی ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ بل کو حتمی شکل دیدی گئی ہے لیکن اسمبلی سے منظوری نہیں ہوئی ۔

عدالت نے صوبوں کا جواب مسترد کر دیا ،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ آئینی ضرورت ہے جس پر عمل نہیں کیا جارہا ،یہ قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے دو سال گزرگئے ابھی تک قانون سازی نہیں ہوئی۔ عدالت نے چاروں چیف سیکرٹریز،کمشنر اسلام آباد اور سیکریٹری کیڈکوگزشتہ حکم نامے کا شق وار جامع جواب جمع کرنے کا حکم دیااور وضاحت مانگی کہ آرٹیکل 25Aکی خلاف ورزی کیوں ہوئی ،مزید سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔