کمال جسے بالکل زوال نہیں

بزرگوں کا یہ گفتہ بالکل ہی سچا ہے کہ ہر کمال کو زوال ضرور آتا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq October 24, 2016
[email protected]

KARACHI: بزرگوں نے کہا ہے کہ بزرگوں کی باتیں اگر کتابوں کے برابر نہیں ہیں تو کتابوں سے کم بھی نہیں ہوتیں، کچھ زبانوں میں ان کو ''پتھر کی لکیر'' بھی کہا گیا ہے بلکہ فارسی والوں نے
صاف صاف کہا ہوا ہے کہ

خطائے بزرگاں گرفتن خطاست

اور ہم بھی چونکہ بزرگوں کا بے حد احترام کرتے ہیں اس لیے ان کی باتوں کو تو غلط نہیں کہہ سکتے، البتہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اگر وہ ''باتوں'' کے طوطے مینا اڑانے کے بجائے کچھ کام بھی کرتے تو آج ہم چاک گریباں سینے کے لیے سوئی دھاگہ باہر سے نہ منگواتے اور ''باتوں'' کے علاوہ کچھ اور بھی بنا رہے ہوتے، چنانچہ بزرگوں کی یہ بات بھی سر آنکھوں پر کہ ہر ''کمالے را زوالے'' یعنی جو چڑھتا ہے وہ اترتا بھی ہے اور جو پیدا ہوتا ہے وہ مرتا بھی ہے بلکہ کسی نے اس بات کو بہت ہی ''ٹرانسپوٹرانہ'' انداز میں منظوم بھی کیا ہوا ہے کیونکہ اقوال زرین کے بعد ہمارے بزرگ دوسرا بڑا پیشہ شاعری کا کرتے تھے کہ

حسن والے حسن کا انجام دیکھ
ڈوبتے سورج کو وقت شام دیکھ

مطلب یہ کہ بزرگوں کا یہ گفتہ بالکل ہی سچا ہے کہ ہر کمال کو زوال ضرور آتا ہے لیکن دنیا میں مستثنیات نام کی ایک چیز بھی تو ہوتی ہے اس لیے اس ''کمالے را زوالے'' کے دائرے سے کچھ چیزیں باہر بھی ہوتی ہیں جن میں سب سے بڑی چیز کو ''جھوٹ'' کہا جاتا ہے جسے ہمیشہ عروج ہی عروج حاصل ہوتا رہا ہے اور کبھی زوال آشنا نہیں ہوا بلکہ اس کی گزشتہ تاریخ اور حالیہ ترقی اور بڑھوتری کو دیکھا جائے تو آیندہ ایک دو لاکھ سالوں تک بھی اس کے زوال کا کوئی امکان نہیں ہے یعنی کہا جا سکتا ہے

تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

غالباً اس کی درازی عمر اور سدا بہار بڑھوتری کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاؤں نہیں ہوتے اور جن جانوروں کے پاؤں نہیں ہوتے وہ بہت زیادہ عمر پاتے ہیں جیسے سانپ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کی عمر ہزاروں سال تک بھی ہو سکتی ہے بلکہ ہمیں تو کچھ ایسا شبہ ہے کہ کہیں جھوٹ اور سانپ دونوں سگے بھائی تو نہیں ہیں کیونکہ دونوں کی صفات سیم ٹو سیم ہیں مثلاً سانپ کا کاٹا پانی تک نہیں مانگتا اور جھوٹ کا ڈسا تو سانس تک مانگنے کا روا دار بھی نہیں ہوتا، سانپ آخری عمر میں ''اچھا دھاری'' بن جاتا ہے یعنی جو شکل یا روپ چاہے اختیار کر سکتا ہے اور یہی صفت جھوٹ کی بھی ہے بلکہ ہر روپ کے ساتھ ساتھ یہ ''سچ'' کا روپ بھی دھارن کر لیتا ہے، دنیا میں کتنے مذاہب آئے کتنی کتابیں لکھی گئیں کتنے بزرگ پیدا ہوئے اور ان سب نے جھوٹ پر ہر طرح کے حملے کیے، اسے مٹانا چاہا لیکن اس کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

بلکہ ہرکولیس کی کہانی میں جس بلا کا تذکرہ آیا ہے وہ بھی شاید یہی بلا تھی کہ ہرکولیس اس کا ایک سر کاٹتا تو اس کی جگہ پر دو اور سر نکل آتے آخر بے چارا ہرکولیس اتنا تھک گیا کہ کہ گر پڑا اور یہ سوچ کر اس لاحاصل کام سے باز آیا کہ خواہ مخواہ جان تھکا کر اسے مزید خطرناک کیوں بنایا جائے، سنا ہے کہ عدم مزاحمت کی وجہ سے پھر اس کے سر اتنے ہی رہے اور وہ بھی آہستہ آہستہ خود بخود جھڑ گئے کیونکہ اس کے لیے سم قاتل عدم استعمال ہے، ڈارون اور لیمارک کے نظریہ ارتقا میں سب سے زیادہ اہمیت استعمال اور عدم استعمال کی ہے جو چیز زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ اور زیادہ طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے اور جو چیز استعمال نہیں ہوتی وہ آہستہ آہستہ زنگ آلود اور از کار رفتہ ہو کر معدوم ہو جاتی ہے، استعمال اور عدم استعمال کے اس اصول پر اتنا زیادہ زور ہم اس لیے دے رہے ہیں کہ جھوٹ اور سچ کا کیس بھی تقریباً ایسا ہی ہے۔

زیادہ استعمال کی وجہ سے جھوٹ اتنا زیادہ بیسٹ سیلر ہو چکا ہے کہ بازار میں سوائے اس کی خرید و فروخت کا اور کسی بھی چیز کا دھندہ اتنے عروج پر نہیں ہے بلکہ اس کے حریف سچ کا عدم استعمال کی وجہ سے یہ حال ہے کہ کوئی اپنی دکان میں اسے مفت رکھنے کو تیار نہیں ہے ایسے مال کا فائدہ کیا جس کا کوئی خریدار ہی نہ ہو اور وہ دکان ہی سڑ گل کر مٹی ہو جائے، ''اس بازار میں'' ہمارے ساتھ اور کتنے دکاندار تھے جو صرف سچ بیچتے تھے آہستہ آہستہ یا تو دکان اپنی بڑھا گئے اور یا آہستہ آہستہ ''اپنا مال'' بدلتے گئے کہ کوئی دن بھر مکھیاں مار کر اپنے پیٹ پر پتھر تو نہیں باندھ سکتا

پلٹ کے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا ہوا کے سوا
جو میرے ساتھ تھے جانے کدھر گئے چپ چاپ

ایک دن جب ہم اپنی ''دکان'' پر گئے تو اردگرد کی ساری دکانوں میں زبردست پری ورتن آیا تھا، پرانے تختوں اور ڈبوں ٹوکریوں کی جگہ جگمگاتے ہوئے شیشے کے شوکیس سجے ہوئے تھے اور ان میں نیا بیسٹ سیلر مال طرح طرح کے خوش نما پیکنگوں میں رکھا ہوا تھا بلکہ دکانداروں کی وضع قطع بھی اتنی بدلی ہوئی تھی کہ ہم پہچان نہیں پا رہے تھے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ شاید وہ پرانے دکاندار اپنی دکانیں نئے لوگوں کے ہاتھ بیچ گئے ہیں لیکن غور سے دیکھا تو گدھے وہی تھے صرف کاٹھیاں بدلی ہوئی تھیں۔ اب وہ بوسیدہ لباس بڑھی ہوئی داڑھیوں اور جھاڑ جھنکار سروں والے چھیل چھبیلے بنے ہوئے تھے حتیٰ کہ چہرے بھی مردہ کے بجائے زندہ تابندہ نظر آ رہے تھے۔

ان میں سے ایک جو ہمارا نزدیکی پڑوسی اور تقریباً ہم عمر و ہم عصر دکاندار تھا اس سے کایا کلپ کی وجہ پوچھی تو بولا مجبوری تھی عوام تو عوام سرکار دربار سے بھی اب پرانے مال کی جگہ اس نئے مال کے آرڈر آرہے تھے، خلاصہ اس سارے کلام کی یہ ہے کہ بزرگوں کا یہ قول ۔۔۔ دیدہ و دل فرش راہ'' لیکن یہ قول ہر چیز پر بالکل بھی صادق نہیں آ رہا ہے جن میں جھوٹ ایک ایسی سدا بہار سدا سہاگن اور سدا ثمر بار چیز ہے کہ اسے نہ کبھی زوال ہوا تھا نہ ہو رہا ہے اور نہ کبھی آیندہ اس کا دور دور تم کوئی امکان ہے، اور پھر جب سے اسے سرکاری اور درباری سطح پر ''منظور شدہ'' کی سند مل چکی ہے تب سے تو یہ دن دونی رات چوگنی بڑھوتری کر رہا ہے اگر سارے خریدار نہ بھی رہے تو صرف سیاست کے میدان میں اس کا استعمال اتنا زیادہ ہے کہ اسے کبھی زوال کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس کی ترقی و کمال کے امکانات روشن ترین ہیں

ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسد
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھائیں گے