کراچی کی صورتحال اسفندیار کی تجویز

کراچی کا شمار دنیا کے ان چند بڑے شہروں میں ہورہا ہے جہاں ریاست کی عملداری نظر نہیں آتی


Dr Tauseef Ahmed Khan December 14, 2012
[email protected]

KARACHI: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی کی کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے گول میز کانفرنس کی تجویز ایک مثبت راہ دکھا رہی ہے۔ اسفندیار ولی نے صدر آصف زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس کانفرنس میں مدعو کیا جائے تاکہ کراچی میں مستقل امن کے لیے اقدامات ہوسکیں۔کراچی میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے اس طرح کی کئی تجاویز پہلے بھی پیش کی جاتی رہی ہیں مگر موجودہ برسراقتدار اتحاد میں شریک ایک فریق کی تجویز پر غور ضروری ہے۔ 2008ء میں جب عام انتخابات منعقد ہوئے تھے تو سندھ میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ق کے نمایندے صوبائی اسمبلی میں منتخب ہوئے۔ ان میں سے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ، پیپلزپارٹی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے دو اراکین بھی منتخب ہوئے، یوں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن نے صلح کل کے اصول کے تحت تمام منتخب جماعتوں کو وفاقی اورصوبائی حکومتوں میں شریک کیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی دفعہ اے این پی کے ایک نمایندے سندھ میں وزیر بنے مگر افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت میں شریک تینوں جماعتوں میں کچھ عرصے بعد کھینچا تانی شروع ہوئی اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونا شروع ہوئی۔

سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں کراچی کے مضافاتی علاقوں یعنی نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے اور ناردرن بائی پاس کے درمیان وسیع وعریض علاقے میں زمینوں پر قبضے کی لڑائی شروع ہوئی تھی۔ سندھ کی ان مختلف جماعتوں نے اس لڑائی میں مختلف مافیاز کی حمایت شروع کی تھی۔ یوں 12 مئی 2007ء کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر ہونے والے تصادم میں لسانی کشیدگی میں اضافہ ہوا مگر 2008ء میں کراچی کے مضافات میں ہونے والی لڑائی شہر میں داخل ہوگئی۔ بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ اب طالبان فیکٹر بھی اس لڑائی میں باقاعدہ طور پر شریک ہوگیا ہے۔ سندھ کی اتحادی حکومت اس لڑائی کو شہر میں پھیلنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ پیپلز پارٹی کی طرزِ حکومت کا مطالعہ کرنے والے بعض محققین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی اس ناکامی کی وجوہات میں اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ صوبہ سندھ کو براہِ راست ایوانِ صدر سے کنٹرول کرنا تھا۔ گزشتہ 5 برسوں میں یہ بات ذرایع ابلاغ کی زینت بنی رہی کہ قائم علی شاہ کے پاس وزیر اعلیٰ کے تمام اختیارات نہیں ہیں۔

پیپلز پارٹی اپنے طرز حکمرانی میں میرٹ اور Good Governance کو اہمیت نہیں دیتی، اسی بناء پر امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی چلی گئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے دو برسوں کے دوران مغربی، وسطی اور شمالی کراچی کے علاقوں میں لسانی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور جنوبی کراچی بھی اس لہر کی لپیٹ میں آگیا۔ اس کے ساتھ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی شرع ہوا جس کا دائرہ شہر کے بیشتر علاقوں تک پھیل گیا۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی بنیادوں پر قتل کا سلسلہ ختم نہ ہوسکا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تاجروں سے بھتے وصولی اور اسٹریٹ کرائمز نے شہر کو مکمل طور پر لپیٹ میں لے لیا۔ اب دستی بم اور کریکر پھینک کر تاجروں کو خوفزدہ کیا جانے لگا ہے۔پہلے کراچی میں ایک یا دو جماعتوں کے کارکن تاجروں اور دکانداروں کو بھتے کی پرچیاں تقسیم کرتے تھے، اب اس میدان میں بہت سے فریق سامنے آگئے۔ حالات اتنے خراب ہوئے کہ سائٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اپیل کی کہ بھتہ وصول کرنے والے صنعتکاروں سے اپنے نرخ طے کرلیں تاکہ صنعتکاروں کی جان محفوظ رہے اور بھتے وصول کرنے والے اشتعال میں نہ آئیں اور مگر حالات اتنے بگڑے کہ چیف آرمی آف اسٹاف جنرل کیانی نے کراچی آکر صنعتی علاقے سائٹ (S.I.T.E)کے صنعتکاروں کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔

کراچی کا شمار دنیا کے ان چند بڑے شہروں میں ہورہا ہے جہاں ریاست کی عملداری نظر نہیں آتی، اسلحہ کی ریل پیل ہے، پولیس اور اس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک مفلوج ہوگیا ہے۔ انگریزی میں شایع ہونے والے تحقیقی رپورٹنگ کے معروف رسالے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے کچھ علاقوں میں عملاً طالبان کی رٹ قائم ہے۔ ان علاقوں میں طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے والے قتل ہوچکے ہیں یا انھوں نے شہرکے دوسرے علاقوں میں ہجرت کرلی ہے۔ یوں اس مجموعی صورتحال میں کراچی میں نئی صنعتوں کے قیام کا تو ذکر ہی کیا بہت سی صنعتیں بنگلہ دیش منتقل ہوچکی ہیں۔ بجلی اورگیس کے بحران کے ساتھ ساتھ امن وامان کی صورتحال نے روزگار کی سہولتوں کو محدود کردیا ہے۔ شہر میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ان بے روزگار نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔ شہر میں اوورہیڈ برجز اور بڑی سڑکوں کا جال تو بچھ چکا ہے مگر پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے۔آبادی کی اکثریت منی بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہے۔ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹیکسیاں غائب ہیں، سی این جی رکشے وافر مقدار میں ہیں مگر عام آدمی ان رکشوں کا کرایہ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ غریبوں کے لیے چنگ جی رکشے موجود ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

اسی طرح ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کا طریقہ متروک ہوچکا ۔ سڑکوں پر ون وے کی خلاف ورزی اور ٹریفک جام عام سی بات بن گئی ہے۔ شہر کی بڑی سڑکوں پر سیکیورٹی اداروں نے رکاوٹیں قائم کی ہیں، باقی شہر میں محلوں میں آہنی رکاوٹیں قائم ہیں۔ یوں شہر کے مختلف علاقوں میں آمدورفت مشکل ہوگئی ہے۔ بعض علاقوں میں سڑکوں کے کنارے رکاوٹوں کو کھولنے، بند کرنے کے لیے سیکیورٹی گارڈ تعینات ہیں مگر اکثر مقامات سے لوگوں کو اپنے گھروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت ایمرجنسی میں شدیدمشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ شہر کی سب سے بڑی جماعت ان سڑکوں کو بند کرکے رکاوٹیں قائم کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ اس جماعت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عوام نے اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے یہ اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ مہینوں کے دوران بلدیاتی نظام کے خلاف چلنے والی تحریکوں اور سپریم کورٹ کے بعض ریمارکس اور فیصلوں سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ کراچی کی اکثریت کی نمایندگی کرنے والی جماعت کے مینڈیٹ کو چھیننے کے لیے مصنوعی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ شہروں کی ترقی بلدیاتی نظام کی بناء پر ہوتی ہے مگر بعض قوتیں جن میں اے این پی اور قوم پرست جماعتیں شامل ہیں، سندھ کے بلدیاتی نظام کو مسترد کرکے یہ تاثر پھیلا رہی ہیں کہ جیسے وہ کراچی کی ترقی میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔گزشتہ 65 سال کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کی Demographic.صورتحال تبدیل ہوگی ہے۔

اب اردو اور پنجابی زبان بولنے والے متوسط طبقے کے علاوہ پشتون اور سندھی متوسط طبقے کے معاشی اور سیاسی ارتقاء نے شہر کی ہیت کو تبدیل کیا ہے جب کہ بلوچوں، سندھیوں اور پشتون برادری سے تعلق رکھنے والے نچلے طبقے کے علاوہ تارکین وطن کا نچلہ طبقہ بھی موجود ہے۔ ان میں افغانوں اور بنگالیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ کراچی کے امن وا مان کے حوالے سے متعدد اسٹیک ہولڈرز موجود ہیں جن کو اعتماد میں لینا ضروری ہے (جن سے خصوصیت سے مذہبی جماعتوں جن کا Vote Bank بھی موجود ہے)۔ کہا جاتا ہے کہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں طالبان فیکٹر موجود ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں قتل ہونے والے عالم دین کا تعلق افغانستان کے شہر قندھار سے بتایا گیا ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ گزشتہ صدی کی 80ء کی دھائی میں افغانستان میں ہونے والی جنگ کے براہِ راست اثرات کراچی کے امن و امان پر پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان میں امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز متفق نہیں ہوںگے، شہر میں امن قائم نہیں ہوگا۔اسفندیار ولی کی گول میز کانفرنس کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امن و امان سے متعلق تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے۔ صدر زرداری کو اس سلسلے میں پہل کرنی چاہیے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مطمع نظر ریاست کی رٹ قائم کرنا اور رٹ کے نفاذ میں رکاوٹیں حائل کرنے والے عناصر کی سرکوبی ہونا چاہیے۔ اس کانفرنس میں اسلحے کی فراہمی کو روکنے ، پولیس اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو فعال کرنے، گواہوں کے تحفظ اور عدالتی طریقہ کارکو بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ شہر میں روزگار کے مواقعے، پانی، بجلی اور گیس کی کمی اور پسماندہ بستیوں کی ترقی جیسے اہم معاملات پر غور کرنا چاہیے۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے حقیقی طور پر متفق ہوجائے تو امن و امان کے قیام کی امید کی جاسکتی ہے۔