گاجروں کے کوے اور ہمارا کوا

ہمیں تو کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ ان گاجروں کو احساس برتری کا گجریلا ہو گیا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq October 26, 2016
[email protected]

NEW DELHI: ہمیں تو کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ ان گاجروں کو احساس برتری کا گجریلا ہو گیا ہے ، گاجروں نے یہ کیا، گاجروں نے وہ کیا، ایک گاجر نے زمین پر چل کر دکھایا، دو گاجروں نے آسمان کے نیچے لیٹنے کا کارنامہ سرانجام دیا، تین گاجروں نے آٹھ گاجروں کا کھانا کھا کر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ بنایا، معاف فرمایئے کہ ''گاجروں'' کا مکمل تعارف کیے بغیر ہم شروع ہو گئے، دراصل یہ ان گاجروں کا ذکر نہیں جو کھیتوں میں اگائی جاتی ہیں بلکہ یہ گاجریں کھیتوں میں بارود بو کر کھوپڑیوں کی فصل برداشت کرتی ہیں۔

وہ گاجر بھی نہیں جن کا اچار بنتا ہے بلکہ یہ وہ گاجریں ہیں جو اچار بھی کو بے چار بلکہ لاچار کر دیتی ہیں اور حلوہ تو ان گاجروں کا بالکل بھی نہیں بنتا بلکہ ہر حلوے میں بطور ''کانٹوں'' کے استعمال ہو سکتی ہے بلکہ یہ خود ہی جہاں کہیں کوئی حلوہ کھاتے ہوئے دیکھتی ہیں تو خود ہی خار بن کر اس میں جا پڑتی ہیں، امید ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو آدھا یعنی کچھ کچھ تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ ہم کن گاجروں کا ذکر کر رہے ہیں۔ ویسے اتنی سمجھ داری کی توقع تو آپ سے کرنا انتہائی درجے کی غیر سمجھ داری ہے کیوں کہ آپ اتنے سمجھ دار ہوتے تو لوگ آپ کو سمجھ کر اتنی سمجھ داری سے اب تک بدھو ہر گز نہ بنا پاتے۔

چلیے ہم ہی وضاحت کیے دیتے ہیں یا یوں کہیے کہ ایک کلیو دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کو یہ گاجریں اتنی پسند ہیں کہ ان سے جائز تو کیا ناجائز تعلق پر پھولے نہیں سماتے اور اگر کسی نے کہیں یہ کہہ دیا کہ یہ گاجریں بینائی کے لیے اکیسر ہیں تو اپنی ٹھیک ٹھاک آنکھوں میں ان گاجروں کو سلائی کی طرح پھروانا شروع کر دیں کہ آنکھیں کچھ تو روشن ہو جائیں گی حالانکہ ہمیں پتہ ہے کہ جن آنکھوں میں ان گاجروں کی سلائیں پھرتی ہیں یا کوئی بینائی بڑھانے کے لیے کسی صورت میں بھی ان کا استعمال کر لیتا ہے تو پھر وہ گاجروں کا اندھا ہوتا ہے اور ہریالی کے اندھے کی طرح اسے ہر طرف ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے بلکہ خواب اور قدم تک گجرارے ہو جاتے ہیں، گویا

گاجر گاجر کر کے میں آپے گاجر ہوئی
کہے مینوں گاجر اور مولی نہ آکھے کوئی

دراصل یہ نام چشم گل چشم عرف سوائن فلو کا وضع کردہ ہے جو اس نے امریکیوں کو دیا ہوا ہے، وجہ تسمیہ اس نے یہ بتائی ہے کہ امریکیوں میں جو سرخ ہوتے ہیں وہ اتنے سرخ ہوتے ہیں کہ سرخ بھی ان کو دیکھ کر سرخ ہو جائے اور جو کالے ہوتے ہیں وہ اتنے کمال کے کالے ہوتے ہیں کہ اگر کالے رنگ کا دھبہ لگ جائے تو سفیدی بن جائے، گاجروں ہی کی طرح ان میں سرخ زیادہ اور کالے کم کم ہوتے ہیں لیکن ''کیل'' دونوں میں ایک جیسی ہوتی ہے جس طرح کسی نے بچھوؤں سے پوچھا کہ تم میں بڑا کون ہے تو اس نے جواباً کہا کہ جس کی دم پر ہاتھ رکھو گے وہی بڑا ہوتا ہے۔

گاجروں کی ایک اور صفت کہ اوپر تو صرف پتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اصل چیز زمین کے اندر رکھتی ہیں یعنی اندر ہی اندر بڑھتی پنپتی اور دراز ہوتی ہیں اور اتنے کمال سے کھیت کو بھی پتہ نہیں چلتا، یقین نہ ہو تو پاکستان افغانستان یا کسی بھی گجریلے کھیت سے پوچھ لو کہ ان کو کبھی پتہ چلا کہ ان کے اندر گاجریں کب بوئی گئیں کیسے دراز ہوئیں اور کیسے کھیت کار میں چوس لیا، ویسے تو ہمیں گاجروں سے کوئی دل چسپی نہیں بلکہ ایک طرح سے پرخاش ہے کہ ہم نے کیا کیا جتن نہیں کیے کہ ان کے کچھ ''پتے'' ہی سہی ہمیں نصیب ہو جائیں۔

وہ ایک کالی گاجر کنڈولیزا رائس کے لیے تو ہم سمرقند و بخارا سے گزر ر تاشقند، یار قند بلکہ اشیاء وار وار دینے کو تیار تھے کہ جب حافظ صرف ایک کالے تل پر سمر قند و بخار نثار کر سکتے ہیں تو پورے کے پورے کالے جسم پر کم از کم ایشیاء لٹانا تو بنتا تھا لیکن افسوس کہ وہ نہیں مانی حالانکہ ہم نے پرویز مشرف اور حامد کرزئی بلکہ زلمے خلیل زاد کو بھی بیچ میں ڈالا تھا لیکن افسوس کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت

غیر ازیں نکتہ کہ حافظ زتونا خوش نوداست
در سرا پائے وجودت ہنرے نیست کہ نیست

یعنی اس ایک عیب کے علاوہ کہ حافظ تم سے خوش نہیں باقی اسی خوبی نہیں جو تیرے سراپے میں موجود نہ ہو، کیا کریں کسی بھی کالی چیز کا موضوع چڑھے ہم پھسل جاتے ہیں اور پھر پھسلتے چلے جاتے ہیں اور آج تو موضوع ہے بھی سیاہی کا۔ بہت ناانصافی ہے، یہ تو ایسا ہے جسے کوئی ہاتھی کے آگے دو چیونٹیاں مقابلے کے لیے کھڑا کر دے، ہمارا یہ کوا ایسا ویسا کوا ہے بھی نہیں۔

ایک تو یہ براہ راست اس کوے کی اولاد ہے جس نے قابیل کو ''ڈیمو'' دکھا کر مقتول کو ''مٹی پا'' کا طریقہ سکھایا تھا، پھر بعد میں اس کے خاندان کے کوؤں نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے ہوئے ہیں، صدیوں کی تربیت اور خاندانی روایت نے جھوٹ بولنے کا سرتاج بنایا جو نسخہ سیاست کا جزو اعظم ہے، اور پھر ہمارا جو یہ کوا ہے اس پر تو زرکثیر صرف کر کے ایسائزنیڈ کیا گیا ہے کہ صرف اور صرف بجلی اس کے تاروں اور تاریکیوں سے تعلق رکھتا ہے، یہ برخود غلط گاجریں کیا جانتی ہیں کہ ہم اسے کتنی محنت سے پال رہے ہیں، پوس رہے ہیں۔

ہر سال طرح طرح کی سپورٹ اسکیموں، فنڈز اور قرضوں کو اس لیے لٹاتے ہیں کہ یہ شاد و آباد رہے، کراچی ہے یا حیدر آباد رہے لیکن ہر حال میں خانہ برباد رہے، اسی تو ایک پنجے سے سارے ملک کو بجلی کو بند کر کے پاکستان کو اپنے جیسا بنا دیتا ہے، ان گاجروں کو بھی چاہیے کہ خواہ مخواہ کی لاف زینوں کی جگہ اپنے کوؤں کو کچھ کھلائیں پلائیں توانا بنائیں تب ہی کہیں جا کر ان کی کارکردگی بہتر ہو گی اور بجلی بند کرنے کی صلاحیت بڑھے گی۔

ہمارا یہ کوا بھی ابتداء میں کچھ زیادہ کار آمد نہیں تھا لیکن حکومت کی قرضہ خور، جمہوری شہزدوں کی فنڈ خوری اور بے شمار احمقانہ اسکیموں کی برکت سے اب اتنا ہو گیا ہے کہ ایک جنبش پنجہ یا چونچ سارے ملک کو اپنے جیسا کر دیتا ہے، درمیان میں کبھی کبھی ایک چھوٹا سا بریک بھی اسی لیے لیتا ہے کہ لوگ سیاہ و سفید دونوں میں تمیز کر سکیں اور یاد رہے کہ اندھیرا اور اجالا یا فاختہ اور کوا کیسا ہوتا ہے۔