صدر کو الیکشن سے قبل بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہےشرجیل میمن

عدلیہ چند ماہ صبر کیوں نہیں کرسکتی؟استثنیٰ حاصل ہے،پی پی حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے


Monitoring Desk July 25, 2012
عدلیہ چند ماہ صبر کیوں نہیں کرسکتی؟استثنیٰ حاصل ہے،پی پی حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے فوٹو /ایکسپریس

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاہے کہ این آر او عملدرآمد نان ایشو ہوتا تو عدالت اتنا وقت خرچ نہ کرتی ۔آئین کی تشریح کا حق سپریم کورٹ کو حاصل ہے اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ہرکوئی قانون کی تشریح اپنے طور پر کرلے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام فرنٹ لائن میں اینکر پرسن اسد اللہ خان سے گفتگومیں انھوں نے کہاکہ اداروں سے لڑا نہیں جاتا ان کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ایک بات آئین میں واضح طور پر لکھی ہے کہ قانون کی تشریح سپریم کورٹ نے کرنی ہے اور اگر کوئی اور کرے گا تو پھر یہ نان ایشو ہی لگے گا۔وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہاکہ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ پیپلزپارٹی خط لکھنے سے گھبراتی نہیں لیکن ہم اصول کی بات کرتے ہیں جب آصف زرداری صدر نہیں رہیں گے تو جو مرضی خط لکھ لیں نہ وہ پہلے ملک سے بھاگے تھے اور نہ ہی اب ملک چھوڑنے والے ہیں۔ پیپلزپارٹی کو ہمیشہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہماری قیادت کو قربان کیا گیا مگر پیپلزپارٹی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔

ملک میں اور بھی بہت سے مقدمات ہیں جو عدالت کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ کیا عدالت چند ماہ صبر نہیں کرسکتی، یہ تو ایسے ہے کہ جیسے الیکشن سے قبل صدر کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ عدالت ضد کے تحت ایک نان ایشو کو ایشو بنا رہی ہے۔ اگر عدلیہ سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی جیسے فیصلے آئیں گے تو میں ایسے ججوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ پیپلزپارٹی بلاوجہ کسی سے کوئی تصادم نہیں چاہتی۔ ماہر قانون اورجسٹس (ر)طارق محمود نے کہاکہ جو شخص بھی قانون کو ہاتھ میں لے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ پاکستان کے ہر شہری کو قانون کا تابع ہوناچاہیے۔

اگر پاکستان پیپلزپارٹی چاہے تو آج ہی الیکشن کروا سکتی ہے۔ عدالت نے جو آپشنز دیے تھے ان میں الیکشن ہی کی بات نہیں تھی اور بھی آپشنز تھے۔آئین کی کوئی ایسی شق میرے علم میں نہیں جس کے تحت عدلیہ اسمبلی تحلیل کردے اور الیکشن کا اعلان کردے۔ جب کوئی فیصلہ آجاتا ہے تو پھر وہ ایک پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے اس پردلیل کے ساتھ بحث ہوسکتی ہے۔ جنرل پرویزمشرف کو وردی میں الیکشن کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن ا س کا حتمی فیصلہ عدالت نے ہی کرنا تھا اور اسی وجہ سے 3 نومبر کا سانحہ رونما ہوا تھا۔ شاید مشرف کو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ فیصلہ اس کے خلاف آسکتا ہے۔

تحریک انصاف کی رہنما عنازہ احسان نے کہاکہ اسوقت ملک کی صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت اور توانائی کا بحران ملک کو بہت پیچھے لے گیا ہے۔ حکومت کرپشن کے کیسز میں الجھی ہوئی ہے۔آزاد عدلیہ ہی پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہے تحریک انصاف عدلیہ کو بھرپورسپورٹ کرتی ہے۔توہین عدالت کا نیا قانون عدلیہ کے خلاف دہشت گردی ہے۔